مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کی صورت میں اس کا دائرۂ کار کسی مخصوص جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ دشمن کو نشانہ بنانے اور مکمل بازدارندگی یقینی بنانے کے لیے وسیع عملی میدان متعین کیا گیا ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ بازدارندگی کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی بھی ملک ایران کے خلاف سیاسی مؤقف اختیار کرنے کی جرأت نہ کرے، چہ جائیکہ اسے ایرانی سرزمین پر قبضے یا اس کے علاقوں پر تسلط جمانے کا خیال آئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپاہ پاسداران انقلاب نئے اہداف کی نشاندہی اور نئے جغرافیائی علاقوں میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی پر کام کر رہی ہے۔
اس سے قبل بھی جنرل محبی خبردار کر چکے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ جارحیت کے اثرات ایران کی سرحدوں سے باہر تک پھیل سکتے ہیں اور خطے کے دیگر ممالک کے مستقبل کا تعین بھی کر سکتے ہیں۔
جنرل محبی نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی معاشرے کو موجودہ محاذ آرائی کے حالات کا ادراک کرنا چاہیے، قومی یکجہتی برقرار رکھنی چاہیے اور ملکی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے اپنے مستقبل کا فیصلہ شعوری اور ذمہ دارانہ انداز میں کرنا چاہیے۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار بھی کیا کہ ایران اس ’’قیامت خیز جنگ‘‘ میں ’’مکمل فتح‘‘ حاصل کرے گا اور ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھرے گا۔
جنرل محبی کے مطابق رہبر انقلاب کی ہدایات نے ’’جنگ میں ایک نئے باب کا آغاز کر دیا ہے‘‘ اور ایرانی مسلح افواج اب دشمن کو فیصلہ کن جواب دینے کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہیں۔
رہبر انقلاب آیت اللہ حسینی خامنہ ای کے اس مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہ امریکا کے ساتھ جنگ میں جغرافیائی حدود کی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔
ترجمان پاسداران انقلاب نے کہا کہ دشمن کو نشانہ بنانے اور مکمل بازدارندگی کے حصول کے لیے ایک ’’وسیع عملی میدان‘‘ متعین کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ سپاہِ پاسداران انقلاب نے نئے اہداف کی نشاندہی اور مختلف جغرافیائی علاقوں میں کارروائیوں کی منصوبہ بندی کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر لیا ہے۔
آپ کا تبصرہ