28 اکتوبر، 2026، 7:04 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

تدبیر کا سنگم؛ رہبرِ انقلاب کی نہ جنگ نہ صلح کی صورتِ حال سے نکلنے کی حکمتِ عملی

تدبیر کا سنگم؛ رہبرِ انقلاب کی نہ جنگ نہ صلح کی صورتِ حال سے نکلنے کی حکمتِ عملی

رہبرِ انقلابِ اسلامی کی جانب سے ’’تدبیر کے سنگم‘‘ پر تاکید کو اب ملک میں فیصلہ سازی کے نئے لائحۂ عمل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومت کی مدد کے لیے آئین کی دفعہ 176 سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی — سیاسی ڈیسک، ہادی رضائی: گزشتہ روز قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی کی رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای سے ملاقات کی خبر ذرائعِ ابلاغ میں نشر ہوئی۔ اس خبر کے مطابق، ملک کے حالات کا جائزہ لینے اور تزویراتی خطوط کی وضاحت کے محور پر ہونے والی اس ملاقات میں رہبرِ انقلاب نے قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل اور اس کے سیکریٹریٹ کو ملک کے امور کے لیے ’’تدبیر کا سنگم‘‘ قرار دیا اور ثقافت، سیاست، معیشت اور سلامتی کے چاروں شعبوں کے ایک دوسرے پر باہمی اثرات پر زور دیا۔ انہوں نے ہر اقدام کی مکمل تصویر، یعنی نقطۂ آغاز سے نقطۂ اختتام تک، پر مبنی لائحۂ عمل سے استفادے کو مضبوط اور مستحکم فیصلے کرنے کے لیے ضروری قرار دیا۔

رہبرِ انقلاب نے اس ملاقات میں قومی یکجہتی اور اتحاد کو مضبوط بنانے اور عوام و حکام کے درمیان باہمی اعتماد پر زور دیا۔ انہوں نے ملک کے مسائل کے حل کو آسان اور تیز تر بنانے کے لیے صدرِ مملکت اور انتظامی اداروں کی مدد کی غرض سے آئین کی صلاحیتوں، بالخصوص دفعہ 176، سے استفادے کو ضروری قرار دیا۔ آبنائے ہرمز کے انتظام و انصرام کے ذریعے قومی اور علاقائی سلامتی کا تحفظ اور پائیدار و باہمی مفادات کی بنیاد پر ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنا بھی اس نشست میں زیرِ بحث آنے والے دیگر اہم موضوعات میں شامل تھا۔

انہوں نے دشمن کی بے بسی کو قومی مزاحمت کے ثمرات میں سے قرار دیا اور ملک و نظام کے دفاع میں عوام کی مسلسل شرکت برقرار رکھنے کے لیے فعال اور بروقت آگاہی پہنچانے پر زور دیا۔ اسی طرح جنگ کے خاتمے اور ’’نہ جنگ، نہ امن‘‘ کی صورتِ حال سے نکلنے کے مقصد سے ملک کے حکام کی جانب سے پیش کردہ شرائط پر عمل درآمد کے ذریعے ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ کے حقوق و مفادات کے حصول کے لیے کوششوں کو بھی اہمیت دی گئی۔ اس ملاقات میں قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری نے مختلف شعبوں میں ملک کے حالات اور جاری کوششوں کے بارے میں رپورٹ پیش کی اور خطے میں مقامی سطح پر تشکیل پانے والے انتظامات اور نظم و نسق کو منظم کرنے کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی تزویراتی پالیسی پر عمل درآمد کو کونسل کے سیکریٹریٹ کی سرگرمیوں میں سے ایک قرار دیا۔

ملاقاتوں کا تسلسل اور عملی فیصلوں کے مرحلے میں داخلہ

سیاست کے میدان میں کوئی ملاقات اتفاقی نہیں ہوتی، خصوصاً جب قومی سلامتی کا معاملہ درپیش ہو۔ اگر ہم گزشتہ چند ہفتوں کے سیاسی تقویم پر نظر ڈالیں تو اس ملاقات کو اہم واقعات کے ایک سلسلے کی تکمیل کرنے والی کڑی قرار دیا جا سکتا ہے۔ تہران میں علاقائی رابطہ کاری کے اجلاسوں کے انعقاد سے لے کر تینوں ریاستی شاخوں کے سربراہان کی رہبرِ انقلاب سے یکے بعد دیگرے ملاقاتوں تک، یہ تمام واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ملک سنجیدہ اور عملی نوعیت کے فیصلوں کے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔

اس سے قبل ہونے والی ملاقاتوں کا مقصد زیادہ تر منزل کا تعین اور حکومتی پالیسیوں کے عمومی خدوخال وضع کرنا تھا، لیکن قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری کے ساتھ ہونے والی ملاقات لائحۂ عمل تیار کرنے اور اس کے لیے ذرائع و وسائل متعین کرنے کا اجلاس ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں کلان پالیسیوں کو عملی حکمتِ عملیوں میں تبدیل کیا جانا چاہیے، تاکہ ملک اور عوام کے لیے ٹھوس نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ اسی تناظر میں رہبرِ انقلاب کی جانب سے ’’تدبیر کے سنگم‘‘ کے تصور پر زور دینا خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ نقطۂ نظر واضح کرتا ہے کہ موجودہ حالات میں سلامتی، سیاست، معیشت اور ثقافت اب ایک دوسرے سے الگ شعبے نہیں رہے، بلکہ یہ باہمی طور پر ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

سادہ الفاظ میں، کسی بھی سلامتی سے متعلق فیصلے میں اس کے معاشی نتائج کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے اور نہ ہی کوئی سیاسی پیش رفت قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنی چاہیے۔ یہ جامع نقطۂ نظر دراصل ملک کے نظم و نسق کے لیے ایک رہنما اصول ہے، تاکہ یک رخی اور عجلت میں کیے جانے والے فیصلوں سے گریز کیا جائے اور ہر اقدام کو مکمل صورتِ حال اور پہلے سے متوقع منظرناموں کی بنیاد پر آگے بڑھایا جائے۔

آئین کی دفعہ 176؛ مسائل کی فوری گرہ کشائی کا قانونی ذریعہ

عملی سطح پر رہبرِ انقلاب کی جانب سے آئین کی دفعہ 176 کا واضح حوالہ اس ملاقات کے اہم ترین نکات میں سے ایک ہے۔ یہ دفعہ قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کو خصوصی اختیارات کے حامل ایک ادارے کے طور پر متعارف کرواتی ہے، جو مخصوص حالات میں امور کو آسان بنانے اور وقت طلب دفتری کارروائیوں سے نکلنے میں مدد دے سکتی ہے۔ اس تاکید کا براہِ راست پیغام یہ ہے کہ مسائل کی گرہیں کھولنے اور معاشی و سلامتی سے متعلق معاملات کے حل میں تیزی لانے کے لیے اس قانونی صلاحیت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیا جانا چاہیے۔

رہبرِ انقلاب نے اس ہدایت کے ذریعے قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے لیے حکومت کی مدد کا راستہ ہموار کیا، تاکہ جہاں بھی فوری اور فیصلہ کن اقدامات کی ضرورت ہو، وہاں امور کو آگے بڑھانے کے لیے قانونی ذرائع سے استفادہ کیا جائے۔ یہ طرزِ عمل خصوصاً ایسے حالات میں، جب ملک کو کئی جہتوں پر مشتمل چیلنجز کا سامنا ہو، مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور انتظامی رکاوٹوں کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

’’نہ جنگ، نہ صلح‘‘ کی صورتِ حال کا تجزیہ اور مختلف منظرناموں کے مطابق منصوبہ بندی کی ضرورت

اس ملاقات کا ایک نہایت قابلِ غور نکتہ ’’نہ جنگ، نہ امن‘‘ کی صورتِ حال کا تجزیہ تھا۔ صدرِ مملکت نے اپنے حالیہ خطابات میں شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ غیر یقینی صورتِ حال سے نکلنا ضروری ہے، کیونکہ ابہام کے ماحول میں منصوبہ بندی نہیں کی جا سکتی۔ لائحۂ عمل اسی وقت تیار کیا جا سکتا ہے جب منزل واضح ہو اور اس صورتِ حال سے نکلنے کا راستہ روشن ہو۔

جب جنگ ختم ہوتی ہے یا ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ کشیدگی کس سطح پر ہے، پابندیاں کس شدت کے ساتھ جاری رہیں گی اور دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کو وسعت دینے کے کتنے امکانات موجود ہیں۔ ان عوامل کو واضح ہونا چاہیے، تاکہ مستقبل کے لیے معاشی ترجیحات اور ضروری منصوبوں کے بارے میں فیصلے کیے جا سکیں۔ ماہرین ایسے حالات میں ’’منظرناموں کی بنیاد پر منصوبہ بندی‘‘ کے تصور سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کئی ممکنہ صورتِ حال کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے اور ہر ایک کے لیے مخصوص منصوبہ تیار کیا جاتا ہے۔

قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری نے بھی حالیہ گفتگو میں اس بات پر زور دیا تھا کہ ایران کو طویل محاصرے سے نقصان پہنچے گا اور اس حقیقت سے انکار کرنا حقیقت پسندی سے دوری ہے۔ خاندانوں کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی، سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور معیشت کے بعض شعبوں کو برقرار رکھنا زیادہ مشکل ہو جائے گا۔ تاہم، معاشی مشکلات اور تزویراتی سطح پر انہدام دو الگ چیزیں ہیں۔ ان بیانات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ملک کے فیصلہ ساز بیرونی دباؤ کے مقابلے میں مزاحمت کے لیے معاشی اور فوجی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، لیکن خاندانوں پر عائد ہونے والے اخراجات ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہیں اور ان اخراجات کو سنبھالنے اور کم کرنے کے لیے سنجیدہ منصوبہ بندی ضروری ہے۔

علمی و فکری صلاحیتوں اور سلامتی کا ربط؛ مضبوط ایران کے دو بازو

اس ملاقات کی خبر رہبرِ انقلاب کی جانب سے علمی و کھیلوں کے شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے اہلِ علم اور تمغے جیتنے والوں کے نام پیغام جاری کیے جانے کے ایک روز بعد شائع ہوئی۔ اگر اہلِ علم کے نام پیغام ترقی کے لیے درکار انسانی سرمائے اور علمی صلاحیتوں کا خاکہ پیش کرتا تھا تو قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کو دی گئی ہدایات اس ترقی کے تحفظ کے لیے سلامتی کی ڈھال اور انتظامی نظم و نسق کے تعین کی حیثیت رکھتی ہیں۔

رہبرِ انقلاب ’’مضبوط ایران‘‘ کو محض ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک عملی ہدف سمجھتے ہیں، جو صرف علم کو صنعت اور فکر کو حل میں تبدیل کرکے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہاں بنیادی نکتہ یہ ہے کہ ایسے ماحول میں جہاں قومی سلامتی متزلزل ہو یا انتظامی رکاوٹیں پیش رفت کی راہ میں حائل ہوں، کوئی علمی ترقی اور اہلِ علم کا کوئی لائحۂ عمل نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔

یہیں اہلِ علم کے لائحۂ عمل اور قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کو دی گئی ہدایات کے درمیان ربط کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ رہبرِ انقلاب نے ایک طرف اہلِ علم کو دعوت دے کر مضبوط ایران کے محرک انجن کو فعال کیا ہے اور دوسری طرف قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کی صلاحیتوں اور دفعہ 176 جیسے ذرائع پر انحصار کرتے ہوئے اس پیش رفت کی راہ میں حائل سلامتی اور انتظامی رکاوٹوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر اہلِ علم کو مضبوط ایران کی تعمیر کا نقشہ تیار کرنا ہے تو قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس نقشے پر عمل درآمد کے لیے ایک محفوظ، مستحکم اور دفتری پیچیدگیوں سے پاک ماحول فراہم کرے۔

آبنائے ہرمز کا انتظام و انصرام، ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کا استحکام اور ’’نہ جنگ، نہ امن‘‘ کی صورتِ حال سے نکلنا، یہ سب اس لیے ضروری ہیں تاکہ ملک کے اہلِ علم سکون اور اعتماد کے ساتھ اپنے لائحۂ عمل پر پیش رفت کر سکیں۔

عالمی نظام کے نئے دور میں جامع حکمتِ عملی

مجموعی طور پر ملاقاتوں اور پیغامات کا یہ سلسلہ اس حقیقت کی توثیق کرتا ہے کہ ایران اس وقت ایک جامع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہے۔ اس حکمتِ عملی میں اہلِ علم کی دانش اور سلامتی کے انتظام کی قوت کو یکجا کیا گیا ہے، تاکہ حتمی ہدف حاصل کیا جا سکے: نئے عالمی نظام میں ایران کی حیثیت کو مستحکم کرنا، اس انداز سے کہ قومی سلامتی کی ضمانت دی جا سکے اور اندرونی صلاحیتوں اور اہلِ علم کی مہارت کی بنیاد پر بیرونی دباؤ کے مقابلے میں قومی وقار کو پائیدار طور پر بلند کیا جا سکے۔

اس ملاقات نے ظاہر کیا کہ ملک کی اعلیٰ سطح کی فیصلہ سازی عمومی خدوخال کے تعین کے مرحلے سے آگے بڑھ کر ذرائع اور عملی حکمتِ عملیوں کی تیاری کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ تدبیر کا سنگم، آئین کی دفعہ 176، آبنائے ہرمز کا انتظام و انصرام اور غیر یقینی صورتِ حال سے نکلنے پر زور، یہ سب ایک ہی پہیلی کے مختلف اجزا ہیں، جن کا مقصد سلامتی، معیشت، سیاست اور ثقافت کو ایک ہم آہنگ راستے پر گامزن کرنا ہے۔

News ID 1942436

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha