28 اکتوبر، 2026، 5:39 PM

بانجھ پن کا علاج، ایران غیر ملکی مریضوں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے

بانجھ پن کا علاج، ایران غیر ملکی مریضوں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے

جدید تولیدی طبی سہولتوں، خصوصی علاج کی دستیابی اور نسبتاً کم اخراجات کے باعث ایران بیرون ملک علاج کے خواہش مند جوڑوں کے لیے ایک اہم انتخاب بن کر سامنے آیا ہے۔

دنیا بھر میں بانجھ پن کا مسئلہ ایک اہم طبی چیلنج بنتا جا رہا ہے اور اس کے علاج کے لیے مؤثر اور قابلِ استطاعت طبی سہولتوں تک رسائی کی ضرورت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، تولیدی عمر کے تقریباً ہر چھ میں سے ایک فرد اپنی زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر بانجھ پن کا سامنا کرتا ہے۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظر متعدد ممالک کے مریض علاج کے لیے اپنے ملک سے باہر کے طبی مراکز کا رخ کر رہے ہیں، جن میں ایران بھی شامل ہے۔

بانجھ پن اب صرف محدود تعداد میں جوڑوں کو درپیش طبی مسئلہ نہیں رہا، بلکہ عالمی سطح پر صحتِ عامہ کے اہم مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے علاج کے لیے ادویات، جراحی، رحم کے اندر نطفہ داخل کرنے کے طریقے، مصنوعی بارآوری، انڈوں کا عطیہ، جنین کی جینیاتی جانچ اور تولید نسل کی دیگر معاون ٹیکنالوجیز استعمال کی جاتی ہیں۔ تاہم، علاج کی سہولتوں کی موجودگی کے باوجود بہت سے افراد کے لیے ان تک رسائی آسان نہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، معاون تولیدی طریقوں کے اخراجات متعدد ممالک میں علاج کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ اسی وجہ سے بعض مریض ایسے ممالک کا انتخاب کرتے ہیں جہاں انہیں نسبتاً کم اخراجات میں جدید طبی سہولتیں میسر آ سکیں یا ایسے علاج دستیاب ہوں جن تک ان کے اپنے ملک میں رسائی محدود ہو۔ بین الاقوامی سطح پر تولیدی طبی خدمات کے بارے میں ہونے والی تحقیقات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ علاج کے اخراجات، معاون تولیدی طریقوں کی قانونی حیثیت، انتظار کی مدت اور ثقافتی و عملی عوامل مریضوں کے بیرونِ ملک علاج کے فیصلے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ایران میں تولیدی طب کی ترقی

ایران نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران بانجھ پن کے علاج اور معاون تولیدی طب کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ ملک میں معاون تولیدی ٹیکنالوجی کا استعمال 1980ء کی دہائی سے جاری ہے۔ ایران کے معاون تولیدی مراکز کے بارے میں شائع ہونے والی ایک قومی رپورٹ میں درجنوں طبی مراکز میں مصنوعی بارآوری اور انٹرا سائٹوپلازمک اسپرم انجیکشن کے ہزاروں علاجی مراحل کا ذکر کیا گیا ہے۔ محققین کے مطابق، ایران میں اس شعبے کی ترقی نے ملک کو نہ صرف مقامی بلکہ خطے کے دیگر ممالک سے آنے والے مریضوں کے علاج کی صلاحیت بھی فراہم کی ہے۔

بانجھ پن کا علاج، ایران غیر ملکی مریضوں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے

ایرانی طبی حکام نے بھی بانجھ پن کے علاج میں ملک کی پوزیشن کو نمایاں قرار دیا ہے۔ ایران کی سائنسی انجمن برائے بانجھ پن اور تولیدی صحت کے سربراہ حمید چوبینہ نے ایران کو بانجھ پن کے علاج کے حوالے سے دنیا کے دس سرِفہرست ممالک میں شمار کیا اور جدید معاون تولیدی تکنیکوں تک ملک کی رسائی پر زور دیا۔

ایران کے تولیدی طب کے شعبے میں مصنوعی بارآوری، انٹرا سائٹوپلازمک اسپرم انجیکشن، جینیاتی جانچ، عطیہ کردہ تولیدی خلیوں کے ذریعے علاج اور حمل کے لیے متبادل خاتون کے استعمال سمیت متعدد خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

ایرانی طبی تحقیقات میں جنین کی رحم میں منتقلی سے قبل جینیاتی تشخیص کے استعمال کو بھی دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ یہ طریقہ بیٹا تھیلیسیمیا جیسی بیماریوں کی تشخیص، کروموسومز کی تعداد میں بے قاعدگیوں کی جانچ اور بعض حالات میں جنین کی جنس کے تعین کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ طبی مہارت اور علاج کے نسبتاً کم اخراجات کا امتزاج ایران کو بیرونِ ملک علاج کے خواہش مند مریضوں کے لیے قابلِ غور منزل بناتا ہے۔

خصوصی علاج کی سہولتیں اور قانونی و مذہبی تناظر

مختلف ممالک میں تولیدی علاج کے لیے قوانین اور ضوابط یکساں نہیں ہیں۔ بعض ممالک میں عطیہ کردہ انڈوں، جنین، حمل کے لیے متبادل خاتون اور جنین کی جینیاتی جانچ سے متعلق سخت پابندیاں عائد ہیں، جب کہ بعض دوسرے ممالک میں مخصوص شرائط کے تحت ان طریقوں کی اجازت دی جاتی ہے۔

ایران کو مسلم دنیا میں اس حوالے سے ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ اسلامی حیاتیاتی اخلاقیات سے متعلق مطالعات کے مطابق، شہید آیت اللہ علی خامنہ ای نے بعض تیسرے فریق کی شمولیت پر مبنی تولیدی طریقوں، بشمول انڈوں کے عطیے اور حمل کے لیے متبادل خاتون کے استعمال کی اجازت سے متعلق فتویٰ دیا تھا۔ بعد ازاں یہ طریقے ایران کے تولیدی طبی نظام کا حصہ بن گئے۔

اس حوالے سے ایران کا مذہبی اور قانونی تناظر بہت سے سنی مذہبی علما کے مؤقف سے مختلف ہے، خصوصاً عطیہ کردہ تولیدی خلیوں کے استعمال کے معاملے میں۔ چنانچہ بعض بین الاقوامی مریضوں کے لیے ایران ایسے طبی طریقوں کے حصول کا متبادل بن سکتا ہے جو ان کے اپنے ممالک میں دستیاب نہ ہوں یا جن پر قانونی پابندیاں عائد ہوں۔ تاہم، ان سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے مریضوں کو ایرانی قوانین، طبی ضوابط اور اہلیت کی شرائط پوری کرنا ضروری ہے۔ بیرونِ ملک سے آنے والے جوڑوں کو علاج کے لیے سفر کرنے سے پہلے متعلقہ طبی مرکز سے اپنی اہلیت اور قانونی تقاضوں کی تصدیق کرنی چاہیے۔ مثال کے طور پر، ویٹالائف کے شائع کردہ پروگرام کی معلومات کے مطابق، اس کے سروگیسی پروگرام میں شرکت کے لیے مخصوص شرائط ہیں اور یہ سہولت قانونی طور پر شادی شدہ مرد اور عورت پر مشتمل جوڑوں کے لیے فراہم کی جاتی ہے۔

سروگیسی، انڈوں کا عطیہ اور جنین کی جنس کا تعین

ایران میں دستیاب تولیدی طبی سہولتوں میں سروگیسی، انڈوں کا عطیہ اور جنین کی جینیاتی جانچ بھی شامل ہیں۔ سروگیسی (Surrogacy) ایسے افراد کے لیے ایک ممکنہ راستہ ہے جو طبی وجوہات کی بنا پر خود حمل برقرار رکھنے کے قابل نہیں ہوتے۔ اس طریقے میں مصنوعی بارآوری کے ذریعے تیار کیے گئے جنین کو حمل کے لیے متبادل خاتون کے رحم میں منتقل کیا جاتا ہے، جو حمل کی مدت پوری کرتی ہے۔

اسی طرح، ان خواتین کے لیے انڈوں کا عطیہ ایک اہم طبی متبادل ہوسکتا ہے جن کے اپنے انڈے علاج کے لیے موزوں نہ ہوں۔ ایران میں عطیہ کردہ تولیدی خلیوں کے ذریعے علاج کے شعبے میں طبی تجربہ موجود ہے، جس کی وجہ سے یہ سہولت بھی بعض غیر ملکی مریضوں کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔

بعض جوڑے مصنوعی بارآوری اور جنین کی رحم میں منتقلی سے قبل جینیاتی جانچ کے ذریعے جنین کی جنس کے تعین میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایرانی طبی تحقیقات میں اس مقصد کے لیے جنین کی جینیاتی تشخیص (PGD) کے استعمال کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔ تاہم، اس طریقے کے طبی، اخلاقی اور قانونی پہلوؤں کا جائزہ کسی مستند تولیدی ماہر کی رہنمائی میں لیا جانا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق، بیرونِ ملک بانجھ پن کے علاج کا انتخاب کرتے وقت صرف کم اخراجات کو بنیاد نہیں بنانا چاہیے، بلکہ مریضوں کو اپنی طبی ضروریات، علاج کی موزونیت، قانونی تقاضوں، طبی مراکز کی سہولتوں، ضروری دستاویزات اور علاج کے بعد اپنے ملک واپسی کے طریقۂ کار کو بھی مدِنظر رکھنا چاہیے۔

ویٹالائف فرٹیلیٹی سینٹر کی بین الاقوامی مریضوں کے لیے خدمات

بیرونِ ملک بانجھ پن کا علاج کروانے والے مریضوں کے لیے طبی عمل کے علاوہ بھی متعدد امور اہم ہوتے ہیں۔ ان میں طبی ریکارڈ کی تیاری، علاج کی منصوبہ بندی، ترجمے کی سہولت، سفری انتظامات، قانونی دستاویزات، سروگیسی کے عمل میں رابطہ کاری اور طبی مراکز کے ساتھ مسلسل رابطہ شامل ہیں۔ اسی تناظر میں ایران میں قائم ویٹالائف فرٹیلیٹی سینٹر (VitaLife Fertility Center) بین الاقوامی مریضوں کو تولیدی طبی خدمات فراہم کرنے کے لیے کام کرتا ہے۔ مرکز کے پروگراموں میں مصنوعی بارآوری، انڈوں کا عطیہ، حمل کے لیے متبادل خاتون کا استعمال، جنین سے متعلق جینیاتی خدمات اور ایران میں علاج کے عملی مراحل میں معاونت شامل ہیں۔

مرکز کی شائع کردہ معلومات کے مطابق، اس کا طریقۂ کار علاج کے مختلف مراحل کو مربوط انداز میں آگے بڑھانے پر مبنی ہے، تاکہ مریضوں کو ہر مرحلے کے لیے الگ الگ انتظامات کرنے میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ان خدمات میں طبی رابطہ کاری، سروگیسی کے لیے موزوں خاتون کے انتخاب میں معاونت، قانونی دستاویزات کی تیاری میں رہنمائی اور بین الاقوامی مریضوں کے علاج سے متعلق امور کی تنظیم شامل ہے۔

ایران میں علاج کے خواہش مند جوڑوں کے لیے اس نوعیت کی مربوط معاونت پیچیدہ طبی اور انتظامی مراحل کو سمجھنے اور ان سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔

علاج کے ابتدائی مشورے سے بچے کی پیدائش تک معاونت

ویٹالائف فرٹیلیٹی سینٹر کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق، مرکز بین الاقوامی مریضوں کو ابتدائی طبی مشورے سے لے کر علاج اور بچے کی پیدائش تک مختلف مراحل میں معاونت فراہم کرتا ہے۔ مرکز میں مڈوائفری کے شعبے میں ماسٹرز ڈگری رکھنے والی مبینہ حسینى بین الاقوامی مریضوں کے لیے رابطہ کار کے طور پر خدمات انجام دیتی ہیں۔ ان کی ذمہ داریوں میں علاج کے مختلف مراحل کے دوران مریضوں کی رہنمائی اور متعلقہ امور میں رابطہ کاری شامل ہے۔

طبی علاج ڈاکٹر فرح قاسمی کی نگرانی میں انجام دیا جاتا ہے، جب کہ مصنوعی بارآوری کے طریقۂ علاج کے لیے بہاران نگار مرکز برائے علاجِ بانجھ پن (Baharan Negar Infertility Treatment Center) کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔

بانجھ پن کا علاج، ایران غیر ملکی مریضوں کی توجہ کا مرکز بن رہا ہے

سروگیسی کے ذریعے حمل کی صورت میں بچے کی پیدائش نیکان اقدسیہ اسپتال میں ہوتی ہے۔ اس طرح مرکز علاجِ بانجھ پن سے لے کر حمل اور بچے کی پیدائش تک مختلف مراحل کو مربوط کرنے کا طریقۂ کار فراہم کرتا ہے۔ ویٹالائف کے مطابق، اس مربوط نظام کا مقصد بین الاقوامی مریضوں کی طبی ضروریات، رابطے اور انتظامی معاملات میں مدد فراہم کرنا ہے، تاکہ انہیں علاج کے پورے سفر کے دوران ایک مربوط ٹیم کی معاونت حاصل رہے۔

بیرونِ ملک علاج کے انتخاب میں کن امور کو مدِنظر رکھا جائے؟

ماہرین کے مطابق، بانجھ پن کے علاج کے لیے کسی دوسرے ملک کا انتخاب کرتے وقت صرف اخراجات کا موازنہ کافی نہیں۔ مریضوں کو طبی ٹیم کے تجربے، علاج گاہ کی سہولتوں، قانونی تقاضوں، علاج کے لیے اپنی اہلیت، متوقع مدت، مجموعی اخراجات اور علاج کے مختلف مراحل میں دستیاب معاونت کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ بانجھ پن کا کوئی علاج حمل یا زندہ بچے کی پیدائش کی ضمانت نہیں دیتا۔ علاج کے نتائج کا انحصار مریض کی عمر، تولیدی تاریخ، طبی کیفیت اور جنین کے معیار سمیت متعدد عوامل پر ہوتا ہے۔ اسی لیے علاج شروع کرنے سے پہلے مستند ماہر سے مشورہ اور انفرادی طبی صورتِ حال کا جائزہ ضروری ہے۔

بین الاقوامی تولیدی طب میں ایران کا بڑھتا ہوا کردار

ایران میں معاون تولیدی طب کا تجربہ، خصوصی علاج کی سہولتیں اور نسبتاً کم اخراجات اسے بین الاقوامی مریضوں کے لیے ایک قابلِ غور منزل بناتے ہیں۔ تاہم، علاج کا درست انتخاب وہی ہے جو مریض کی طبی ضروریات کے مطابق ہو، متعلقہ قوانین کے دائرے میں انجام دیا جائے اور جس کے تمام مراحل میں مناسب طبی نگرانی اور معاونت دستیاب ہو۔

ویٹالائف فرٹیلیٹی سینٹر کے مطابق، مرکز ایران میں بانجھ پن کے علاج کے خواہش مند بین الاقوامی جوڑوں کو ان کے علاجی سفر کے مختلف مراحل میں معاونت فراہم کرتا ہے۔

وضاحت: یہ مضمون تشہیری نوعیت کا ہے اور مہر خبررساں ایجنسی اس کے مندرجات کے بارے میں کوئی مؤقف نہیں رکھتی۔

News ID 1942435

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha