28 اکتوبر، 2026، 4:58 PM

حکومت رہبرِ انقلاب کی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے کوششیں کر رہی ہے، پزشکیان

حکومت رہبرِ انقلاب کی ہدایات پر عمل درآمد کے لیے کوششیں کر رہی ہے، پزشکیان

ایرانی صدر نے کہا ہے کہ حکومت رہبرِ انقلابِ اسلامی کی ہدایات پر عمل درآمد اور ملک کو ’’نہ جنگ، نہ صلح‘‘ کی صورتِ حال سے نکالنے کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آج ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں علاقائی و بین الاقوامی صورتِ حال، ملک کے حالات کے انتظام، قومی استقامت میں اضافے، سائبر خطرات سے نمٹنے اور بحرانوں کے مقابلے کی تیاری سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔

رہبرِ انقلاب کی ہدایات پر عمل درآمد اور قومی استقامت کو مضبوط بنانے پر زور

صدر پزشکیان نے اس اجلاس میں رہبرِ معظم انقلاب کی جانب سے قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے سیکریٹری کو دی گئی حالیہ ہدایت کا حوالہ دیا، جس میں ملک کو ’’نہ جنگ، نہ صلح‘‘ کی صورتِ حال سے نکالنے کے مقصد سے ملک کے حکام کی جانب سے پیش کردہ شرائط پر عمل درآمد کی پیروی کرنے پر زور دیا گیا تھا۔

انہوں نے اس ہدایت کو ایک بڑے اور اہم پیغام کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ملک کے مستقبل کی سمت کا تعین کیا گیا ہے۔ انہوں نے تاکید کی کہ حکومت کے تمام ادارے اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ مقررہ اہداف اور ہدایات پر عمل درآمد کے لیے کوشش کریں گے۔

پزشکیان نے ملک کے بدلتے ہوئے حالات کا سامنا کرنے کے لیے سرکاری اداروں کی مسلسل تیاری کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ تمام وزرا، اداروں کے سربراہان اور نائبین مکمل تیاری برقرار رکھتے ہوئے موجودہ حالات کے تقاضوں کے مطابق اخراجات میں کمی اور بہتر انتظام کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں، نیز قومی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور کارکردگی بڑھانے کے لیے دستیاب وسائل سے استفادہ کریں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ وسائل کے درست انتظام اور طریقۂ کار میں اصلاحات کے ذریعے ہمیں یہ ثابت کرنا ہوگا کہ ملک میں بلند درجے کی قومی استقامت موجود ہے اور وہ ہر قسم کے خطرات، پابندیوں اور بیرونی دباؤ کے مقابلے میں طاقت اور اتحاد کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ دشمنوں کو یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ دباؤ اور دھمکیوں میں اضافے سے وہ ایرانی قوم کے عزم کو کمزور کرکے ملک کو تسلیمِ شکست پر مجبور کر سکتے ہیں۔

ایرانی شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے پر زور

کابینہ کے اجلاس میں شہید فاؤنڈیشن اور ایثارگران کے امور کے سربراہ نے دو سالہ شہیدہ آوینا برزگر کی تصویر صدر پزشکیان کو پیش کی۔ آوینا برزگر لامرد میں امریکہ اور صیہونی حکومت کے حملے میں شہید ہوئی تھیں۔ یہ تصویر شہیدہ کی والدہ کی جانب سے پیش کی گئی۔

پزشکیان نے بین الاقوامی فورمز پر ایرانی شہریوں اور بچوں کی شہادت کے معاملے کو اٹھانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ، بین الاقوامی اجلاسوں، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم کے متعلقہ اجلاسوں، ماحولیاتی نشستوں اور سفارتی ملاقاتوں و مذاکرات میں حالیہ جنگ کے شہدا کو یاد کیا گیا اور ان واقعات کے مختلف پہلوؤں پر توجہ دلائی گئی ہے۔

ایرانی صدر نے میناب اور لامرد میں بچوں اور طلبہ سمیت عام شہریوں پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ان اقدامات کو انسانی اصولوں اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے ضوابط کے منافی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دعووں کے باوجود اسکولوں، اسپتالوں، کھیلوں کے میدانوں اور رہائشی مکانات کو نشانہ بنانا، حملہ آوروں کے دعووں اور ان کے عملی اقدامات کے درمیان سنگین تضاد کے بارے میں سوالات پیدا کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ممالک کے سربراہان کے ساتھ گفتگو میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے اور سامنے آنے والے ردعمل اور مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان غیر انسانی اقدامات کی مذمت کی گئی ہے۔ اسی طرح، امریکی تحقیقی اداروں کے بعض سربراہان سے ملاقات میں انہوں نے ایرانی قوم سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے صدر کے ہونے پر شرمندہ ہیں اور ان جرائم کی سنگینی پر حیران و ششدر ہیں۔

پزشکیان نے ان واقعات کے مختلف پہلوؤں کو تاریخی حافظے اور بین الاقوامی سطح پر محفوظ کرنے اور ان کی پیروی کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم ان شہدا کی یاد کبھی فراموش نہیں کرے گی اور یہ جرائم تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو لوگ ایک چھوٹے سے مسئلے پر پوری دنیا میں ہنگامہ کھڑا کر دیتے ہیں، انہوں نے پوری دنیا کے سامنے ہمارے اسکولوں، اسپتالوں، کھیلوں کے میدانوں اور لوگوں کے گھروں پر بمباری کی اور پھر دعویٰ کیا کہ انہوں نے دہشت گردوں کو نشانہ بنایا ہے! کیا میناب، لامرد اور غزہ کے بچے دہشت گرد تھے؟

صدر پزشکیان نے حالیہ جنگ کے شہداء کے اہلِ خانہ، بالخصوص میناب اور لامرد کے شہدا کے خاندانوں اور شہیدہ آوینا برزگر کی والدہ سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور پسماندگان کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔

وزیرِ خارجہ کی جانب سے سفارتی پیش رفت اور علاقائی مشاورت پر رپورٹ

کابینہ کے اجلاس میں وزیر خارجہ نے ایران اور امریکہ سے متعلق امور پر ہونے والی تازہ سفارتی پیش رفت اور مشاورت کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔

رپورٹ کے مطابق، قطری وفد اور پاکستان کے آرمی چیف کے دورۂ ایران کے دوران زیرِ بحث آنے والے معاملات، نیز سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے تین اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ہونے والی مشاورت کی تفصیلات بیان کی گئیں۔ ان مذاکرات میں علاقائی صورتِ حال اور متعلقہ بات چیت کے عمل پر توجہ مرکوز رہی۔

کابینہ کے اجلاس میں صدر پزشکیان کے دورۂ ماسکو اور اس دوران ہونے والی ملاقاتوں اور بات چیت کے بارے میں بھی رپورٹ پیش کی گئی۔ اس دورے اور علاقائی سفارتی پیش رفت کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کرتے ہوئے ایرانی قوم کی مزاحمت، مسلح افواج کی طاقت، سرکاری اداروں کے انتظام اور اسلامی جمہوریہ ایران کی علاقائی و بین الاقوامی معاملات میں پوزیشن مضبوط بنانے میں رہبرِ معظم انقلاب کی قیادت اور ہدایات کے کردار پر زور دیا گیا۔

ایران، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان علاقائی تعاون پر زور

سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے اعلیٰ عہدیداروں کے دورۂ ایران کے پیغام کی وضاحت کرتے ہوئے علاقائی تعاون کی اہمیت، مشترکہ سلامتی کے نظام کو مضبوط بنانے اور کشیدگی و تنازعات کے پھیلاؤ کو روکنے پر زور دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، ایران، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے چار فریقی اجلاس میں علاقائی سلامتی کی صورتِ حال کا ذکر کرتے ہوئے صہیونی حکومت کی ان پالیسیوں کے نتائج سے خبردار کیا گیا جن کا مقصد خطے کے ممالک کو کمزور کرنا، جارحیت کا دائرہ وسیع کرنا، علاقائی ممالک کی تقسیم اور ان کی حکومتوں کو کمزور کرنے کے حالات پیدا کرنا اور امریکہ کو علاقائی تنازعات میں گھسیٹنا ہے۔ ان اقدامات کو صہیونی حکومت کی ایک طے شدہ پالیسی قرار دیا گیا۔

اس تناظر میں خطے کے ممالک کو کشیدگی بڑھانے والے رجحانات کے مقابلے میں ہوشیار رہنے اور استحکام، ممالک کی علاقائی سالمیت کے تحفظ اور تنازعات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اجتماعی تعاون مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

News ID 1942439

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha