مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے بیجنگ کی ’’ایک چین‘‘ کی پالیسی سے وابستگی کے تحت تائیوانی فضائی کمپنیوں کے طیاروں کی اپنی فضائی حدود سے گزرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق، یہ اپنی نوعیت کا دنیا میں پہلا اقدام ہے۔
پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اعلان کیا کہ ملک کی فضائیہ ’’ایک چین‘‘ کی پالیسی پر عمل کرتی ہے اور صرف چین کے طیاروں کو پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دیتی ہے۔
پروازوں کی نگرانی سے متعلق اعداد و شمار کے مطابق، تائیوانی فضائی کمپنیوں نے گزشتہ ہفتے کے اختتام سے اپنی پروازوں کے راستے تبدیل کر دیے ہیں۔
واضح رہے ’’چائنا ایئرلائنز‘‘ اور ’’ایوا ایئر‘‘ کے طیارے اتوار سے پاکستان کی فضائی حدود سے نہیں گزرے۔
یہ پابندیاں چین کے ضوابط سے بھی زیادہ سخت ہیں، کیونکہ بیجنگ تائیوانی فضائی کمپنیوں کو اپنی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دیتا ہے۔ چین، تائیوان کو اپنی سرزمین کا ایک علیٰحدگی پسند حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ تائیوان کے حکام اس جزیرے کی خودمختاری پر زور دیتے ہیں۔
یاد رہے پاکستان نے 1951ء میں ’’ایک چین‘‘ کی پالیسی کی حمایت کرتے ہوئے تائیوان کے ساتھ اپنے باضابطہ تعلقات منقطع کر دیے تھے۔
اسلام آباد اور بیجنگ نے ’’بیلٹ اینڈ روڈ‘‘ منصوبے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت اپنے تعلقات کو وسعت دی ہے۔ چین پاکستان کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک بھی ہے اور اس نے منگل کے روز چین پاکستان انٹیلی جنس راہداری کا بھی آغاز کیا۔
آپ کا تبصرہ