مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے معاہدۂ مکہ کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں، جن کے مطابق یہ معاہدہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور اس کا مقصد علاقائی و عالمی امن، سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا ہے، نہ کہ کسی مخصوص ملک کو نشانہ بنانا۔
جاری کردہ نکات کے مطابق معاہدے میں کہا گیا ہے کہ تینوں ممالک مشترکہ دفاع، ذمہ داریوں کی تقسیم اور سلامتی کے مشترکہ تصور کی بنیاد پر تعاون کو فروغ دیں گے۔
معاہدے میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ اگر تینوں میں سے کسی ایک ملک پر مسلح حملہ ہوتا ہے تو اسے تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا اور اجتماعی دفاع کے اصول کے تحت ردعمل دیا جائے گا۔
معاہدے کے مطابق یہ پیش رفت طویل سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد بڑھتے ہوئے علاقائی اور بین الاقوامی سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل تشکیل دینا ہے۔
دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ معاہدۂ مکہ کسی بھی موجودہ اتحاد یا دفاعی معاہدے کا متبادل نہیں بلکہ ان کی تکمیل ہے، جبکہ مستقبل میں خطے کے دیگر ممالک کی شمولیت کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔
معاہدے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ترکیہ کی نیٹو رکنیت اور اس کے علاقائی دفاعی تعاون ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ تکمیلی ڈھانچے ہیں، جن کا مقصد سلامتی کی ذمہ داریوں کو مشترکہ انداز میں نبھانا ہے۔
دستاویز کے مطابق یہ معاہدہ کوئی جارحانہ فوجی اتحاد یا کسی ملک کو گھیرنے کی حکمت عملی نہیں بلکہ دہشت گردی سے پاک اور مستحکم خطے کے قیام کی جانب ایک قدم ہے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاہدہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں اور نہ ہی یہ سفارتی مذاکرات کے موجودہ راستوں کو بند کرتا ہے۔
معاہدے میں دفاعی صنعت، مشترکہ عسکری تعاون، تربیت، رابطوں اور باہمی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کو بھی اہم اہداف قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب یمنی میڈیا کارکن عباس الضالعی نے سعودی عرب کی حالیہ اتحاد سازی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مختلف فوجی اتحاد تشکیل دینے سے ریاض کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پہلے 14 ممالک پر مشتمل اتحاد کے ذریعے خود کو صنعا کے حملوں سے محفوظ بنانے کی کوشش کر چکا ہے اور اب ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ نئے دفاعی اتحاد کا اعلان کیا گیا ہے۔
عباس الضالعی کے مطابق اگر کوئی حکومت اپنی حفاظت کی صلاحیت نہیں رکھتی تو اسے دوسروں کے معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اتحاد سے سعودی عرب کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا، جبکہ یمن کے بحران کا بہتر حل صنعا کی شرائط تسلیم کرنا اور یمن کے داخلی معاملات میں مداخلت ختم کرنا ہے۔
آپ کا تبصرہ