مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران سعودی عرب اور یمنی انصار اللہ فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آئی ہے اور انصار اللہ کی فورسز سعودی عرب کی سرحد کے قریب پہنچ رہی ہیں، جس سے دونوں جانب براہ راست زمینی تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق انصار اللہ نے ریاض سے وابستہ عناصر کے ساتھ شدید جھڑپوں کے دوران سعودی شہر نجران کی جانب پیش قدمی کی ہے۔
نیویارک ٹائمز نے مزید بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی ہفتوں سے یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کی مدد کی درخواست پر غور کر رہے تھے، تاہم گزشتہ جمعرات کو یہ معاملہ اہم مرحلے میں داخل ہوا۔ امریکی حکام کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے ٹرمپ سے رابطہ کیا اور تیزی سے پیش قدمی کرنے والی انصار اللہ کو روکنے کے لیے ایک بار پھر امریکی مداخلت کا مطالبہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اس سے ایک روز قبل اپنے مشیروں سے ملاقات میں یمن پر حملوں کی مخالفت کی تھی، تاہم سعودی ولی عہد سے گفتگو کے بعد انہوں نے اپنا موقف تبدیل کیا اور پینٹاگون کو یمن کے خلاف فضائی حملوں کی تیاری کا حکم دے دیا۔
تاہم اتوار کی دوپہر تک امریکی صدر نے ایک بار پھر بظاہر اپنا موقف تبدیل کر لیا۔ امریکی حکام کے مطابق کم از کم فی الحال امریکہ کی جانب سے یمن پر کوئی فضائی حملہ نہیں کیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ