مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہفتہ ’’مقدس دفاع‘‘ کے آغاز کے موقع پر جاری اپنے پیغام جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ دفاع مقدس ایرانی قوم کی جانب سے ملک کی آزادی، قومی وقار اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کی جانے والی جدوجہد کی یاد تازہ کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس دور میں ایرانی مرد و خواتین نے قربانی اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن کی سازشوں کا مقابلہ کیا اور انہیں ناکام بنایا۔
ایرانی فوج کے سربراہ نے کہا کہ اس دفاع کے کئی برس بعد بھی ایرانی قوم اور مسلح افواج اسی راستے پر گامزن ہیں اور 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں کے دوران بھی اپنی طاقت، اتحاد اور تیاری کا مظاہرہ کر چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان جنگوں نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ ایران کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی جارحیت کا فیصلہ کن اور سخت جواب دیا جائے گا۔
جنرل امیر حاتمی کا کہنا تھا کہ حالیہ جنگیں اگرچہ شکل، ذرائع اور تقاضوں کے اعتبار سے ماضی کی جنگ سے مختلف تھیں، تاہم دونوں ادوار میں ایک بات مشترک رہی کہ ایرانی قوم نے دشمن کی جارحیت اور ناجائز مطالبات کے مقابلے میں متحد ہو کر کھڑے ہونے کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے اپنے تجربے، عزم اور ملکی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے ملک کے وجود اور علاقائی سالمیت کا دفاع کیا۔
ایرانی فوج کے سربراہ کے مطابق ماضی کے دفاعی تجربے نے یہ سبق دیا کہ قومی عزم، عوام کا اتحاد، بیداری اور مسلح افواج کی دفاعی صلاحیتیں ملک کی سلامتی اور طاقت کی مضبوط بنیاد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برسوں کی جدوجہد، خود اعتمادی اور دفاعی خود کفالت کے نتیجے میں آج ایرانی مسلح افواج کے پاس ایسی ملکی صلاحیتیں موجود ہیں جو انہیں ملک کی فضائی حدود، زمینی سرحدوں اور سمندری حدود کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار رکھتی ہیں۔
جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ یہ صلاحیتیں ملکی ماہرین اور مسلسل کئی نسلوں کی محنت اور دفاعی کوششوں کا نتیجہ ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی مسلح افواج ملک کے اعلیٰ ترین فوجی سربراہ کی قیادت اور ایرانی عوام کی حمایت کے ساتھ مکمل چوکسی اور تیاری کی حالت میں ہیں اور ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں ایک لمحے کے لیے بھی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کریں گی۔
آپ کا تبصرہ