21 ستمبر، 2026، 5:43 PM

یمن خطے کی مؤثر قوت بن چکا ہے، انصار اللہ

یمن خطے کی مؤثر قوت بن چکا ہے، انصار اللہ

تحریکِ انصار اللہ یمن کے سیاسی دفتر نے یمنی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر کہا ہے کہ اس انقلاب نے یمن کو علاقائی سطح پر ایک فعال کردار دیا اور یمنی عوام جارحیت کے خاتمے، محاصرے کے خاتمے اور ملکی خودمختاری و آزادی کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے  مطابق، تحریکِ انصار اللہ یمن کے سیاسی دفتر نے یمنی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر کہا ہے کہ اس انقلاب نے یمن کو علاقائی سطح پر ایک فعال کردار دیا اور یمنی عوام جارحیت کے خاتمے، محاصرے کے خاتمے اور ملکی خودمختاری و آزادی کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انصار اللہ نے کہا کہ یمنی عوام کی جارحیت کے مقابلے میں ثابت قدمی، اس انقلاب کی نمایاں علامت ہے۔ 

تحریک انصار الله نے کہا کہ یمن نے غزہ کی حمایت اور وہاں جاری نسل کشی کے خلاف اپنا انسانی و اخلاقی کردار بھی ادا کیا ہے۔

صنعاء حکومت کے وزیر داخلہ میجر جنرل عبدالکریم الحوثی نے کہا کہ سکیورٹی ادارے دشمن کی سازشوں اور مختلف سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ 

انہوں نے بتایا کہ مغربی ساحلی علاقوں میں شہریوں کو سکیورٹی اور انتظامی خدمات کی فراہمی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

یمن کی اعلیٰ سیاسی کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے ساحلی علاقوں میں یمنی مسلح افواج کی کاروائیوں کو ’’خودمختاری کے نفاذ اور سعودی فوجی دستوں کو نکالنے کے لیے قومی آپریشن‘‘ قرار دیا۔

واضح رہے 21 ستمبر 2014 کو عوامی احتجاج اور مسلح جھڑپوں کے بعد صنعاء میں اہم سیاسی مراکز انصار اللہ کے کنٹرول میں آ گئے تھے، جس کے بعد سعودی حمایت یافتہ حکومت برطرف ہوئی اور انصار اللہ یمن کی ایک اہم سیاسی قوت بن کر سامنے آئی۔

اس سے قبل، صعدہ میں سعودی حمایت یافتہ سلفیوں کے ساتھ شدید جھڑپوں کے نتیجے میں جنوری 2014 میں دماج سے سلفیوں کا انخلا ہوا، جس کے بعد انصار اللہ نے صعدہ میں اپنا کنٹرول مزید مضبوط کر لیا۔ 

2014 کے موسم گرما میں انصار اللہ نے سیاسی، شہری اور اقتصادی اصلاحات کے مطالبے کے لیے بڑے پیمانے پر پُرامن مظاہرے بھی کیے، جن کے نتیجے میں حکومت کو استعفیٰ دینا پڑا۔

News ID 1941546

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha