21 ستمبر، 2026، 2:58 PM

تہران کی فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت، عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ

تہران کی فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت، عالمی برادری سے فوری اقدام کا مطالبہ

ایران کی وزارت خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو روکنے کے لیے سنجیدہ اور فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے قبل جاری بیان میں ایرانی وزارت خارجہ نے غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت، خصوصاً نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف جاری قتل و غارت روکنے کے لیے مؤثر اور فوری اقدامات کرے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے قابض اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی مبینہ بے حرمتی کی بھی شدید مذمت کی۔

بیان کے مطابق اسرائیل کو گزشتہ تین برس کے دوران امریکا اور بعض ایسے ممالک کی جانب سے ہتھیاروں، مالی وسائل اور سیاسی و تشہیری حمایت حاصل رہی ہے جو خود کو انسانی حقوق کا علمبردار قرار دیتے ہیں۔  ایران کا کہنا ہے کہ اس حمایت کے نتیجے میں غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی اور انسانی جانوں کا ضیاع ہوا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ قابض اسرائیلی فورسز نے غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف قتل، گرفتاریوں اور تشدد سمیت مختلف کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں، جن کا مقصد فلسطینی علاقوں کی آبادی اور شناخت کو ختم کرنا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ 10 ہزار سے زائد فلسطینی خواتین اور بچوں کو حراست میں رکھنا اور جیلوں میں ان کے ساتھ مبینہ تشدد کرنا جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

ایران نے کہا کہ قیدیوں پر تشدد کے نتیجے میں درجنوں فلسطینی شہید جبکہ سیکڑوں افراد معذوری کا شکار ہوئے۔ ہر ماہ اوسطاً کم از کم تین فلسطینی قیدی تشدد کے دوران جان سے جاتے ہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ نے قابض اسرائیلی کارروائیوں کے خلاف عالمی سطح پر قانونی کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی جانب سے اسرائیل کو حاصل تحفظ، عالمی عدالتوں کے ججوں اور فلسطینیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں اور صحافیوں پر دباؤ یا پابندیاں، انصاف کے حصول کی کوششوں کو متاثر نہیں کرنی چاہئیں۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے، مبینہ قانون شکنی اور فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ خطے کے دیگر ممالک کے خلاف کارروائیوں نے اقوام متحدہ اور عالمی قوانین کی ساکھ کو شدید متاثر کیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق قابض اسرائیل اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک میں نمایاں ہے، جبکہ سلامتی کونسل میں اسرائیل سے متعلق اقدامات کو روکنے کے لیے متعدد بار ویٹو کا استعمال کیا گیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس جب ممالک کے درمیان ادارے پر اعتماد بحال کرنے کے موضوع پر توجہ مرکوز کر رہا ہے تو تمام ذمہ دار حکومتوں کو فلسطینی عوام کے حقوق، خصوصاً حق خود ارادیت، کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے۔

بیان میں کہا گیا کہ فلسطینی علاقوں میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے فوری طور پر جنگ بندی، فلسطینی زمینوں پر قبضے اور مزید علاقے حاصل کرنے کی کوششوں کی روک تھام، غزہ کے عوام تک انسانی امداد کی فراہمی اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی ضروری ہے۔

News ID 1941543

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha