27 اکتوبر، 2026، 10:59 PM

امریکی_صہیونی جارحیت نے توانائی کے تحفظ اور عالمی معیشت کو خطرے میں ڈال دیا، پزشکیان کا روس میں خطاب

امریکی_صہیونی جارحیت نے توانائی کے تحفظ اور عالمی معیشت کو خطرے میں ڈال دیا، پزشکیان کا روس میں خطاب

ایرانی صدر نے گیس برآمد کرنے والے ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت نے توانائی کے تحفظ اور عالمی معیشت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے روس میں گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے آٹھویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں اور عالمی توانائی کے تحفظ کو درپیش چیلنجوں کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ یہ اجلاس ایسے حالات میں منعقد ہو رہا ہے جب علاقائی اور بین الاقوامی تبدیلیوں نے توانائی کے تحفظ کو سنگین چیلنجوں سے دوچار کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی مذاکرات کے دوران دو مرتبہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت عالمی سلامتی کے خلاف افسوس ناک اور خطرناک واقعات میں سے ایک تھی۔ اس جارحیت کے نتیجے میں ہمارے ملک کی توانائی کی تنصیبات تباہ ہوئیں اور توانائی کی ترسیل کے عمل میں خلل پیدا ہوا، جس نے توانائی کے تحفظ اور عالمی معیشت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ایرانی صدر نے ایران کے خلاف امریکہ کی یک طرفہ پابندیوں اور دباؤ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ممالک پر یک طرفہ پابندیاں عائد کرنا اور اسلامی جمہوریہ ایران کی بحری اور فضائی ناکہ بندی کی صورت میں اقتصادی دہشت گردی کرنا، نیز دوسرے ممالک پر اس ناکہ بندی کی پیروی کے لیے دباؤ ڈالنا، غیر قانونی اقدامات ہیں جو توانائی کی منڈیوں کے استحکام کو سنگین خطرات سے دوچار کرتے ہیں۔

پزشکیان نے زور دے کر کہا کہ دنیا کے بڑے توانائی فراہم کرنے والے ممالک کو ان اقدامات کی مذمت کرنی چاہیے اور ان کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کرنا چاہیے۔

انہوں نے خلیج فارس کے علاقے میں امریکی فوجی مداخلتوں کی جانب بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان مداخلتوں کے اثرات صرف علاقائی فریقوں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ یہ نئے جھٹکے پیدا کرکے توانائی کی قیمتوں کے تعین، فراہمی اور ترسیل کے عمل میں خلل ڈالتی ہیں اور عالمی اقتصادی ترقی کو خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔

ایرانی صدر نے رہبرِ انقلابِ اسلامی شہید حضرت آیت اللہ خامنہ‌ای کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی پیش قدمی اور حمایت کے ذریعے گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کو مضبوط بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

انہوں نے اس فورم کی دو دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط سرگرمیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ گیس برآمد کرنے والے ممالک کا فورم اب کثیرالجہتی سفارت کاری اور گیس برآمد کرنے والے ممالک کے درمیان تعاون کی علامت بن چکا ہے اور اس نے گفت و شنید، تجربات کے تبادلے اور رکن ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ یہ فورم دنیا کو درپیش توانائی کے مسائل اور رکاوٹوں کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

پزشکیان نے فورم کے منشور اور سربراہی اجلاسوں کے اعلامیوں پر عمل درآمد کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ٹیکنالوجی کی ترقی، ماحولیات کے پائیدار انتظام، علاقائی اور عالمی گیس منڈیوں کی توسیع، گیس کی قدر افزائی کے سلسلے میں قدرتی گیس کے کردار کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے اور توانائی کی غربت کا مقابلہ کرنے کو رکن ممالک کے درمیان تعاون کے اہم محور قرار دیا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ عالمی توانائی کی منڈی کے حالات نے رکن ممالک کے درمیان تزویراتی اور فنی تعاون کو ناگزیر بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تزویراتی شعبے میں بنیادی توجہ منڈی کے استحکام اور علاقائی و عالمی سطح پر قدرتی گیس کی تجارت کا حجم بڑھانے کے طریقوں پر مرکوز ہونی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فنی اور انجینئرنگ کے شعبے میں گیس کی قدر افزائی کے پورے سلسلے، یعنی پیداوار اور پراسیسنگ سے لے کر ترسیل اور استعمال تک، مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینا فورم کے رکن ممالک کے لیے ایک بنیادی موضوع ہے۔

پزشکیان نے گیس کی پیداوار اور استعمال میں کارکردگی بڑھانے اور ماحولیاتی اثرات کم کرنے کے لیے تکنیکی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس موضوع کو رکن ممالک کے مشترکہ تعاون کے مرکز میں ہونا چاہیے۔

ایرانی صدر نے عالمی گیس منڈی میں ایران کی حیثیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران، گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے بانی ارکان میں سے ایک اور قدرتی گیس کے ثابت شدہ ذخائر کے اعتبار سے دنیا میں دوسرے نمبر پر ہونے کے ناطے، اس فورم کے دائرہ کار میں کثیرالجہتی سفارت کاری کو آگے بڑھانے، علم و تجربے کے تبادلے اور گیس کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کی اہم ترین توانائی راہداریوں کے مرکز میں تزویراتی محلِ وقوع رکھنے کے باعث ایران عالمی سطح پر توانائی کے نظام کی لچک اور بحرانوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے کی نمایاں استعداد رکھتا ہے۔

پزشکیان نے ملک کی گیس صنعت کی صلاحیتوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ صلاحیتیں قدرتی گیس کے بالائی اور زیریں شعبوں، نیز اس کی تجارت میں رکن ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان تعاون کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ غیر ملکی سرمایہ کار فراہم کردہ مراعات اور سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مشترکہ مفادات کے دائرے میں ایران میں موجود مواقع سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

ایرانی صدر نے پابندیوں کے حالات میں ملک کی گیس صنعت کی کامیابیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران برسوں کی یک طرفہ پابندیوں کے باوجود اپنی داخلی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے قدرتی گیس کی پیداواری صلاحیت کو 300 ارب مکعب میٹر تک پہنچانے میں کامیاب ہوا ہے اور دنیا میں قدرتی گیس پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں اپنا تیسرا مقام برقرار رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے توانائی کے مجموعی ذخیرے میں قدرتی گیس کا حصہ 70 فیصد ہے، جس کی وجہ سے یہ ملک کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں اہم مقام رکھتی ہے۔ اس وقت ایران کی 95 فیصد آبادی قومی قدرتی گیس نیٹ ورک کی سہولت سے مستفید ہو رہی ہے۔

پزشکیان نے توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے فورم کے رکن اور مبصر ممالک کے تعمیری تعاون کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ تعمیری تعاون کے ذریعے قدرتی گیس کی طلب اور رسد کے تحفظ، اس کی منصفانہ قیمت کے تعین اور ماحولیاتی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی توانائی کے مجموعی نظام میں اس کے مقام کو بہتر بنانے میں مدد دی جا سکتی ہے۔

انہوں نے فورم کے رکن اور مبصر ممالک کے وزرائے تیل و توانائی، فورم کے سیکریٹری جنرل اور سیکریٹریٹ کے عملے کی فعال شرکت کو اس ادارے کے اہداف کے حصول کے لیے اہم قرار دیا۔

ایرانی صدر نے اجلاس کی میزبانی اور مہمان نوازی پر روسی وفاق کی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم کے اہداف کی تکمیل کے لیے کامیابی کی خواہش ظاہر کی۔

News ID 1942414

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha