مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ محمود ملکی نے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں قطر پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے ثالثی کردار کی پاسداری کرے۔
قطر کی وزارت خارجہ کے شعبۂ ذرائع ابلاغ و مواصلات کے ڈائریکٹر ابراہیم الہاشمی کے ان بیانات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، جن میں انہوں نے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام کے دورۂ تہران کا ذکر کیا تھا، محمود ملکی نے کہا کہ تہران میں چار ملکی اجلاس بذاتِ خود ایران کی نیک نیتی اور خطے کے عوام کے مشترکہ مفادات کے حوالے سے اس کے ذمہ دارانہ طرز عمل کا ثبوت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران توقع رکھتا ہے کہ قطر سمیت خطے کے تمام ممالک اپنی پالیسیوں اور طرزِ عمل میں ایران کی اس نیک نیتی کا اسی جذبے کے ساتھ جواب دیں گے۔
محمود ملکی نے مزید کہا کہ ایران اپنے پڑوسی ملک قطر سے اچھے ہمسائیگی کے اصول کے تحت یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ وہ بعض اقدامات کو دہرانے سے سختی سے گریز کرے، بالخصوص جارح فریقوں کو ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے لیے اپنی سرزمین اور سہولتیں استعمال کرنے کی اجازت نہ دے۔
انہوں نے تہران میں ایران، پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے چار ملکی اجلاس میں تعمیری بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے قطری عہدیدار کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے عوامی بیانات دیتے وقت زیادہ احتیاط سے کام لیں، کیونکہ قطر جاری سفارتی عمل میں ایک کردار ادا کر رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ