مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سید عباس عراقچی نے قطر کے دورے پر جانے والے ایرانی وفد اور قطری ثالثوں کے ساتھ جاری مشاورت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ نائب وزیر خارجہ کی سطح پر کیا گیا، جس کا مقصد قطری ثالثوں کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنا تھا۔ یہی ثالث گزشتہ ہفتوں کے دوران تہران کا دورہ بھی کر چکے ہیں۔
انہوں نے پارلیمانی خبر رساں ادارے ’’خانۂ ملت‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس دورے کے دوران امریکی فریق کے ساتھ مذاکرات کا کوئی پروگرام طے نہیں تھا۔
ان کے مطابق مذاکراتی عمل کے ثالثوں کے ساتھ دو روزہ منصوبے پر مشاورت بدستور جاری ہے اور اس پر عمل درآمد کا سلسلہ بھی آگے بڑھ رہا ہے، تاہم ابھی تک کوئی حتمی نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔ کسی نتیجے تک پہنچنے کا انحصار ان سوالات کے جوابات پر ہے جو ایران نے دوسرے فریق کے سامنے رکھے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران اس سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں کر رہا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ دوسری جانب بھی دانش مندی کا مظاہرہ کیا جائے گا اور امریکا سفارت کاری کو دیگر راستوں پر ترجیح دے گا۔
عراقچی نے اپنے بیان کے ایک اور حصے میں رہبرِ معظم انقلاب کی جانب سے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو جاری کردہ ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ہدایات نے اسلامی جمہوریہ ایران کے عزم کو واضح طور پر ظاہر کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مسلح افواج کو واضح ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں اور گزشتہ دو جنگوں کے تجربات سے استفادہ کرتے ہوئے وہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہو چکی ہیں۔
وزیرِ خارجہ نے آخر میں زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران بیک وقت دفاع اور سفارت کاری، دونوں کے لیے تیار ہے۔ تاہم، امریکا کون سا راستہ اختیار کرتا ہے، اس کا انحصار اس کی اپنی دانش مندی اور فیصلہ سازی پر ہوگا۔
آپ کا تبصرہ