مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک، گزشتہ کئی دہائیوں سے خلیج فارس کا سلامتی نظام امریکی فوجی موجودگی، خطے میں فوجی اڈوں کے قیام اور واشنگٹن کی جانب سے اپنے اتحادیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے وعدوں پر استوار رہا ہے، تاہم ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ جارحیت اور تہران کے فوجی ردعمل نے اس نظام کی افادیت اور امریکی دفاعی صلاحیت کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔
ایران کے خلاف حالیہ جارحیت اور اس کے جواب میں ایرانی کارروائیوں نے خطے میں امریکی فوجی موجودگی پر مبنی سلامتی نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کیا ہے۔ خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کا حملوں کی زد میں آنا محض ایک فوجی یا عملیاتی مسئلہ نہیں بلکہ واشنگٹن کی دفاعی ساکھ اور بازدارندگی کے دعووں سے بھی براہ راست تعلق رکھتی ہے۔
اس صورتحال نے ثابت کیا ہے کہ امریکی فوجی برتری کا مطلب یہ نہیں کہ واشنگٹن کو خطے کی سلامتی اور مستقبل کے تعین کا غیر محدود اختیار حاصل ہے۔ اس پیش رفت کے نتیجے میں علاقائی ممالک کے لیے بھی ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے کسی بیرونی طاقت پر یک طرفہ انحصار کے نقصانات اور خطرات کا ازسرنو جائزہ لیں۔
اس تناظر میں مستقبل کا علاقائی نظام اسی وقت مستحکم ہوسکتا ہے جب سلامتی کے معاملات پر غیر علاقائی طاقتوں کی اجارہ داری ختم ہو اور خطے کے ممالک خود اپنے سلامتی نظام کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کریں۔
آبنائے ہرمز؛ ایران کی اسٹریٹجک برتری
ایران کی جغرافیائی پوزیشن اور آبنائے ہرمز پر اس کا اثرورسوخ ملکی سلامتی اور علاقائی طاقت کے توازن میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ آبی گزرگاہ نہ صرف خلیج فارس کی سلامتی بلکہ عالمی توانائی کی ترسیل، تجارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی منڈیوں کے استحکام سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے۔
اس اعتبار سے آبنائے ہرمز کا انتظام ایران کی قومی سلامتی کے تحفظ اور دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔ ایران کی جغرافیائی حیثیت اسے ایسا اسٹریٹجک فائدہ فراہم کرتی ہے جسے علاقائی اور عالمی طاقتوں کے سلامتی کے حساب کتاب سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
تاہم اس صلاحیت سے مؤثر استفادے کے لیے ضروری ہے کہ ایران اپنے قانونی حقوق، قومی مفادات اور آبی گزرگاہ کے انتظام کے مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے۔ آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت اسی وقت مستقل اسٹریٹجک برتری میں تبدیل ہوسکتی ہے جب اسے دفاعی بازدارندگی، مذاکراتی پوزیشن مضبوط بنانے اور علاقائی کردار مستحکم کرنے کے لیے بروئے کار لایا جائے۔
ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون؛ پائیدار سلامتی کی بنیاد
ایران کی دفاعی طاقت اور جغرافیائی اہمیت کے باوجود خطے میں پائیدار سلامتی کا قیام صرف فوجی بازدارندگی سے ممکن نہیں۔ اس مقصد کے لیے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مضبوط دوطرفہ تعلقات اور باہمی مفادات پر مبنی طویل المدتی تعاون بھی ضروری ہے۔
ایران کے گردونواح کے ممالک کو بحری راستوں کی سلامتی، توانائی کی منڈیوں کے استحکام، علاقائی تجارت، نقل و حمل، آبی وسائل کے انتظام اور سرحد پار خطرات سمیت متعدد مشترکہ مسائل کا سامنا ہے۔ ان شعبوں میں تعاون سے ممالک کے درمیان باہمی انحصار اور مشترکہ مفادات کو فروغ دیا جاسکتا ہے، جس سے اختلافات اور کشیدگی کے امکانات کم ہوں گے۔
اس حوالے سے ایران کی ہمسایہ ممالک سے متعلق سفارت کاری محض عارضی تناؤ کم کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہونی چاہیے۔ تہران کو اپنی دفاعی صلاحیت اور اسٹریٹجک خودمختاری برقرار رکھتے ہوئے ہمسایہ ممالک کے جائز خدشات کو بھی سمجھنا ہوگا تاکہ بات چیت، شفافیت اور عملی معاہدوں کے ذریعے باہمی اعتماد کو مضبوط بنایا جاسکے۔
ایران کے سامنے اب سب سے بڑا چیلنج حالیہ دفاعی کامیابیوں اور جغرافیائی برتری کو ایک پائیدار علاقائی سلامتی نظام میں تبدیل کرنا ہے۔ میدانِ جنگ میں کامیابی بذاتِ خود نئے علاقائی نظام کے قیام کی ضمانت نہیں، بلکہ اس کے لیے مضبوط سیاسی تعلقات، اقتصادی تعاون اور قابل اعتماد علاقائی سلامتی کے ڈھانچوں کی تشکیل ضروری ہے۔
اس تناظر میں آبنائے ہرمز کا انتظام اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کا فروغ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دو اہم عوامل ہیں۔ اول الذکر ایران کی قومی سلامتی اور دفاعی بازدارندگی کو مضبوط بناتا ہے، جبکہ مؤخر الذکر اس طاقت کو علاقائی تعاون اور پائیدار استحکام میں تبدیل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
مجموعی طور پر خلیج فارس میں نیا سلامتی نظام اسی وقت تشکیل پاسکتا ہے جب اس کی بنیاد کسی بیرونی طاقت کی بالادستی کے بجائے علاقائی ممالک کے مشترکہ مفادات، قومی خودمختاری کے احترام اور مشترکہ ذمہ داری پر ہو۔ ایران اپنی دفاعی صلاحیت، آبنائے ہرمز میں اسٹریٹجک حیثیت اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعمیری تعلقات کے ذریعے اس نئے نظام کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آپ کا تبصرہ