30 اکتوبر، 2026، 2:51 PM

قطری ثالث کی ایک مرتبہ پھر تہران بازگشت،روئٹرز کا دعویٰ

قطری ثالث کی ایک مرتبہ پھر تہران بازگشت،روئٹرز کا دعویٰ

خبررساں ادارے روئٹرز نے ایک باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کے سلسلے میں قطری ثالث ایک بار پھر تہران واپس آگئے ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایک باخبر عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ قطری ثالث امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے تک پہنچنے کی نام نہاد کوششوں کے سلسلے میں تہران واپس آئے ہیں۔

اس عہدیدار نے مزید کہا کہ ثالثی کے لیے ہونے والی بات چیت امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی سے انجام دی گئی ہے۔

مذاکرات سے باخبر ایک عہدیدار کے مطابق، قطر نے اتوار کے روز ایران کو ایک مجوزہ امن منصوبے کا مسودہ پیش کیا تھا، تاہم ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے ان تجاویز کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ تہران اپنے جائز اور پُرامن جوہری مؤقف پر ثابت قدم رہے گا۔

دوسری جانب، مذاکرات سے باخبر ایک ایرانی عہدیدار نے اس سے قبل المیادین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کے نائب صدر نے حال ہی میں ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی کے ساتھ خط و کتابت کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی اور ایرانی عہدیداروں کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔

اس ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ اعلیٰ امریکی عہدیداروں کا خط و کتابت کا راستہ اختیار کرنا اس بات کی علامت ہے کہ واشنگٹن دوسرے طریقوں سے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ جے ڈی وینس کا پیغام ایران کی جانب سے طبی آلات اور ادویات حاصل کرنے کی درخواست کے جواب میں بھیجا گیا تھا، سراسر جھوٹ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تہران جب مناسب سمجھے گا، اس پیغام کی تفصیلات منظرِ عام پر لے آئے گا۔

امریکہ اور صیہونی حکومت نے ایران کے خلاف جارحیت کا آغاز کیا تھا، جس کے جواب میں تہران نے بھی حملے کیے۔ دونوں فریقوں نے جھڑپیں روکنے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا، تاہم کچھ عرصے بعد امریکہ کی جانب سے وعدوں کی خلاف ورزی کے نتیجے میں باہمی حملے دوبارہ شروع ہوگئے۔ براہِ راست جھڑپیں رکنے کے باوجود یہ تنازع تاحال کسی حتمی معاہدے کے بغیر جاری ہے اور واشنگٹن اپنے حساب سے تہران کے خلاف اقتصادی دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے۔

واضح رہے ایران کے خلاف جنگ اور کشیدگی میں اضافے کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بھی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کے متعدد ممالک میں ایندھن اور صنعتی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

News ID 1942484

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha