مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوری ایران کے سفیر اور ناظم الامور غلامحسین درزی نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں کسی بھی قسم کی خلل اندازی، رکاوٹ یا مداخلت کی براہ راست ذمہ داری جارح قوتوں اور ان عناصر پر عائد ہوتی ہے جو ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات میں سہولت فراہم کرتے ہیں یا ان میں شریک ہیں۔ ان کی جارحیت اور غیر قانونی اقدامات نے بحری سلامتی اور آزادانہ جہاز رانی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
سلامتی کونسل کا یہ اجلاس ’’ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی اور بحری سلامتی؛ امن و سلامتی کے لیے مضمرات‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا۔ درزی نے کہا کہ مصنوعی ذہانت سمیت جدید ٹیکنالوجی بحری سلامتی بہتر بنانے کے مواقع فراہم کرتی ہیں، تاہم ان سے نئی نوعیت کے خطرات اور کمزوریاں بھی جنم لیتی ہیں۔ سلامتی کونسل کو اقوام متحدہ کے منشور کے تحت اپنے اختیارات کے دائرے میں رہتے ہوئے حقیقی خطرات سے نمٹنا چاہیے اور اس حوالے سے متعلقہ اداروں کے کردار اور ذمہ داریوں کا احترام کرنا چاہیے۔
ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ ایران کئی دہائیوں سے ایک ساحلی ملک کی حیثیت سے خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی اور آزادانہ جہاز رانی کا پابند رہا ہے اور اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا آیا ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ آج کے اجلاس میں بھی بعض مقررین نے موجودہ صورتحال کی بنیادی وجوہات کو نظرانداز کیا۔
درزی نے زور دے کر کہا کہ 28 فروری 2026ء تک آبنائے ہرمز اور اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے والی بحری تجارت کا راستہ کھلا ہوا تھا، لیکن اس کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف وحشیانہ اور جارحانہ جنگ شروع کردی اور اب بھی اپنی جارحانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل نے دانستہ طور پر ایران کے شہری اور بحری بنیادی ڈھانچے، بندرگاہوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔
ایرانی سفیر کے مطابق، 4 مارچ 2026ء کو ایک امریکی آبدوز نے بحر ہند کے بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی جنگی جہاز ’’دنا‘‘ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 100 سے زائد ایرانی ملاح شہید ہوگئے۔ 19 اپریل 2026ء کو امریکی فوج نے ایرانی تجارتی جہاز ’’توسکا‘‘ پر حملہ کیا۔ اس کے علاوہ 23 مئی تک امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ بحری ناکہ بندی کے دوران 100 تجارتی جہازوں کا راستہ تبدیل کرایا گیا اور چار جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا۔
درزی نے مزید بتایا کہ 23 جولائی کو امریکی فوج نے ایران کی دو سرچ اینڈ ریسکیو کشتیوں ’’ناجی 15‘‘ اور ’’ناجی 16‘‘ کو ایرانی علاقائی پانیوں میں نشانہ بنایا، حالانکہ یہ دونوں کشتیاں اس وقت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کارروائیوں میں مصروف تھیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اپنی جارحانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 12 اپریل 2026ء سے ایران کی بحری ناکہ بندی بھی نافذ کر رکھی ہے، جس کے تحت ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے باہر جانے والی تمام بحری آمدورفت کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
ایرانی سفیر نے سلامتی کونسل کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی مسلسل جارحیت کے تناظر میں بحری ناکہ بندی ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 2 کی شق 4 کی سنگین پامالی ہے۔ یہ شق کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی دینے سے منع کرتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں عام شہریوں کی خوراک، ادویات، ایندھن اور دیگر ضروری اشیائے زندگی تک رسائی خطرے میں پڑرہی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے شہری آبادی کو اجتماعی سزا دی جارہی ہے اور اسے زندگی برقرار رکھنے کے لیے درکار بنیادی ضروریات سے محروم کیا جارہا ہے۔
آپ کا تبصرہ