30 اکتوبر، 2026، 3:49 PM

ایران؛ اندرونِ ملک ڈالر میں لین دین پر پابندی

ایران؛ اندرونِ ملک ڈالر میں لین دین پر پابندی

تہران چیمبر آف اصناف کی مجلسِ عاملہ کے رکن نے کہا ہے کہ اندرونِ ملک تمام معاملات، بشمول جائیداد اور سونے کی خرید و فروخت، قومی کرنسی کی بنیاد پر انجام دیے جانے چاہئیں اور قانونی طور پر مجاز مخصوص صورتوں کے علاوہ غیر ملکی کرنسی کا استعمال قابلِ قبول نہیں ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ برسوں کے دوران معاشی اتار چڑھاؤ اور کرنسی کی قدر میں تبدیلیوں کے باعث بعض افراد نے معاشی لین دین میں غیر ملکی کرنسی اور سونے جیسے اثاثوں کے استعمال کی طرف توجہ دی ہے۔

مثال کے طور پر، ماہرِ اقتصادیات رسول قربان نژاد نے اندرونِ ملک بعض منڈیوں میں ڈالر کی بنیاد پر قیمتیں مقرر کرنے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ بعض علاقوں میں جائیداد کے فی مربع میٹر کی قیمت ڈالر کے حساب سے مقرر کی جاتی ہے اور فروخت کنندہ مختلف اوقات میں بھی اسی ڈالر کی رقم کو معیار بناتا ہے، حالانکہ اس دوران زرِ مبادلہ کی شرح میں تبدیلی آتی رہتی ہے۔

ان کے بقول، قیمتوں کے تعین کا یہ طریقہ زرِ مبادلہ کی شرح میں اضافے کے اثرات کو دوسرے علاقوں تک بھی منتقل کر سکتا ہے اور جائیدادوں کی مجوزہ قیمتوں میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

لہٰذا، ایسی صورتِ حال میں بعض اوقات یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آیا اندرونِ ملک جائیدادوں اور اشیا کی خرید و فروخت ڈالر یا سونے کے ذریعے کرنا قانونی طور پر جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر اس قانون کی خلاف ورزی کی جائے تو لین دین میں شامل فریقین کے خلاف کیا کارروائی کی جائے گی؟

تہران چیمبر آف اصناف کی مجلسِ عاملہ کے رکن حمیدرضا رستگار نے اس حوالے سے خبرگزاری مہر کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مالیاتی قوانین اور ضوابط کے مطابق، اندرونِ ملک لین دین قومی اور رائج کرنسی کے ذریعے ہونا چاہیے، سوائے ان مخصوص صورتوں کے جنہیں قانون میں مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی قانونی دائرے سے باہر رہتے ہوئے لین دین کرے گا تو قانون کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

رستگار نے مزید کہا کہ بیرونِ ملک کے ساتھ تجارتی لین دین کی صورتِ حال مختلف ہے اور ایسے معاملات میں زرِ مبادلہ اور لین دین کے طریقۂ کار سے متعلق ضوابط مخصوص قوانین کے تابع ہوتے ہیں۔

تہران چیمبر آف اصناف کی مجلسِ عاملہ کے رکن نے واضح کیا کہ اندرونِ ملک تمام معاملات، خواہ ان کا تعلق رہائشی جائیداد، سونے یا دیگر اشیا کی خرید و فروخت سے ہو، قومی کرنسی کی بنیاد پر انجام دیے جانے چاہئیں اور اندرونِ ملک لین دین کے معیار کے طور پر غیر ملکی کرنسی کا استعمال، قانونی طور پر مجاز مخصوص صورتوں کے علاوہ، قابلِ قبول نہیں ہے۔

News ID 1942486

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha