مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دنیا کے 22 ممالک میں بندرگاہوں کے کارکن غزہ میں جاری نسل کشی اور اسرائیل کو اسلحہ پہنچانے کے لیے بندرگاہوں کے استعمال کے خلاف عالمی ہڑتال اور احتجاج کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ اقدام غزہ میں جنگ اور نسل کشی کے خلاف عالمی اقدام کا حصہ ہے۔
اس ہڑتال کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اس احتجاج کے نتیجے میں بحیرہ روم کی 40 فیصد سے زائد بحری نقل و حمل متاثر ہوسکتی ہے اور دو ارب ڈالر سے زیادہ مالیت کے سامان کی ترسیل رک سکتی ہے۔
اطالوی فیڈریشن آف بیسک ٹریڈ یونینز کے مطابق، بندرگاہی کارکنوں کی شمولیت کے بعد اس احتجاج کا دائرہ 20 ممالک کی 100 سے زائد بندرگاہوں تک پھیل گیا ہے۔ توقع ہے کہ یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں کی اہم بندرگاہیں اس ہڑتال سے متاثر ہوں گی، جن میں جرمنی کی ہیمبرگ، اسپین کی والنسیا اور الگزیراس، فرانس کی لو آور، یونان کی پیرائس، اٹلی کی جینوا، مراکش کی طنجة میڈ اور بھارت کی نواشیوا بندرگاہیں شامل ہیں۔
جرمنی کی ورڈی، آئرلینڈ کی سب سے بڑی مزدور یونین سیپٹو، ڈنمارک کی تھری ایف اور فرانس کی سی جی ٹی سمیت متعدد بڑی مزدور تنظیموں نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ یورپ سے باہر بھارت کی 12 بندرگاہوں اور وہاں کی آبی نقل و حمل سے وابستہ مزدور یونینوں نے بھی اس احتجاج میں شمولیت اختیار کی ہے، تاہم ہڑتال میں عملی طور پر حصہ لینے والے کارکنوں کی حتمی تعداد ابھی سامنے نہیں آئی۔
اسی سلسلے میں فلسطین کے حامی مختلف گروپوں پر مشتمل گلوبل صمود فلوٹیلا نے اعلان کیا ہے کہ وہ ہڑتال کے ساتھ ہی سمندری راستوں پر مربوط اور منصوبہ بند سرگرمیاں بھی انجام دے گا۔ یہ گروپ اس سے قبل غزہ کی ناکہ بندی توڑنے اور وہاں انسانی امداد پہنچانے کے لیے متعدد کوششیں کرچکا ہے۔
علاوہ ازیں، اسرائیل کے عالمی بائیکاٹ کی تحریک (بی ڈی ایس) اور فلسطین کی 17 مزدور یونینوں اور فیڈریشنوں نے بھی اس احتجاج کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ