مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے اپنے ایک بیان میں امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت کی جارحیت کی مذمت کیے بغیر دعویٰ کیا کہ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اس جنگ کا خاتمہ جلد از جلد ہو جائے جس میں ایران بھی ملوث ہے۔
جرمن چانسلر نے اعتراف کیا کہ اس کے ملک سمیت دیگر مغربی ممالک کو بھی آبنائے ہرمز کے تزویراتی اہمیت کے حامل آبی راستے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے ایران کی سرزمین پر غیر قانونی جارحیت کے بعد پیدا ہونے والے عدم تحفظ کے باعث بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس جنگ میں ایران ملوث ہے، اس کے یورپ پر وسیع پیمانے پر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
فریڈرک مرز نے مزید کہا کہ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ امریکہ اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کر رہا ہے اور ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ