30 اکتوبر، 2026، 10:12 PM

برینٹ خام تیل کی قیمت 117 ڈالر سے تجاوز کر گئی

برینٹ خام تیل کی قیمت 117 ڈالر سے تجاوز کر گئی

آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات کے باعث جمعہ کے روز عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 117 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 2 فیصد اضافے کے ساتھ 117 ڈالر 14 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 1.9 فیصد اضافے کے بعد 103 ڈالر 94 سینٹ ہو گئی۔

روئٹرز کے مطابق، تیل کی قیمتوں میں اضافے کی ایک اہم وجہ 3 نومبر کو امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف امریکی فوجی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے خدشات ہیں۔

اس کے علاوہ آبنائے ہرمز میں ایک آئل ٹینکر پر حملے نے توانائی کی ترسیل کے راستوں کی سلامتی سے متعلق تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے اطراف فوجی سرگرمیوں کا جاری رہنا اور تہران و واشنگٹن کے درمیان سفارتی حل کے امکانات پر شکوک و شبہات، تیل کی فراہمی میں ممکنہ رکاوٹوں اور تنازع میں شدت کے خدشات بڑھا رہے ہیں۔

دوسری جانب یمن کی مسلح افواج کی جانب سے سعودی عرب کی رأس تنورہ آئل ریفائنری اور بقیق کی تنصیبات سمیت متعدد تیل تنصیبات پر حملوں کے اعلان اور سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی جانب سے کروز میزائل روکنے کی اطلاع نے بھی خطے کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، اکتوبر میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 13 فیصد، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں 15 فیصد اضافے کا امکان ہے۔

ساکسو بینک کے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے باوجود تیل کی قیمتیں تنازع سے پہلے کی سطح سے بلند رہ سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ فروری 2026ء کے اواخر میں ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی جارحیت کے بعد آبنائے ہرمز کی سلامتی اور خطے سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جبکہ تیل کی برآمدات میں ممکنہ رکاوٹ اور فوجی حملوں کے دوبارہ شروع ہونے کے خدشات عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات ہیں۔

News ID 1942492

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha