مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمینیا نے مسلح افواج کے اعلیٰ کمانڈروں کی رہبرِ معظم انقلاب سے ملاقات کے تزویراتی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے اپنی عملیاتی تیاریوں کو مزید مضبوط بنایا ہے، دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے اور دشمن کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں کو پہلے سے بہتر سطح پر پہنچا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے 40 روزہ جنگ کے آغاز کے مقابلے میں زیادہ مستعد ہے۔
انہوں نے رہبر معظم انقلاب کی جانب سے ’’دانشمندانہ جنگی تیاری‘‘ پر زور دیے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی حکمت عملی کا بنیادی ستون ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلح افواج نے غیر متناسب جنگ کے تجربات اور مناسب حکمت عملیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن کے مقابلے میں سازوسامان کے فرق کو کسی حد تک عملیاتی مہارت اور بہتر منصوبہ بندی کے ذریعے پورا کیا ہے۔
فوج کے ترجمان نے کہا کہ حالیہ جنگ کے تجربات نے دانشمندانہ جنگی تیاری کی اہمیت واضح کر دی ہے۔
ان کے مطابق، مسلح افواج نے اپنی عملیاتی صلاحیتوں، کمانڈ کی حکمتِ عملی اور عوامی حمایت کی بدولت جنگ کا سامنا کیا، جس کے بعد تقریباً 40 روز کے دوران دشمن جنگ بندی کا اعلان کرنے پر مجبور ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ان تجربات کو اب مستقبل کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے اور دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافے کی بنیاد بنایا جا رہا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل اکرمینیا نے جغرافیائی حدود کے بغیر جواب دینے سے متعلق رہبرِ معظم انقلاب کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ جنگ کے دوران محاذ آرائی کا دائرہ مقبوضہ علاقوں سے خطے میں موجود امریکی اڈوں تک پھیل گیا تھا، تاہم اگر دوبارہ جارحیت ہوئی تو ممکنہ جنگ کا دائرہ مغربی ایشیا سے آگے بھی پھیل سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مسلح افواج کو جاری کردہ ہدایات کے مطابق اپنی دفاعی تیاریوں اور ممکنہ ردعمل کی منصوبہ بندی کو مسلسل بہتر بنا رہی ہیں۔ اگر دشمن نے نئی مہم جوئی کی تو امریکا کے مفادات اور موجودگی کو بھی ایران کے ممکنہ جواب کے تناظر میں دیکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن کو یہ تصور نہیں کرنا چاہیے کہ ایران کا ردعمل لازماً گزشتہ جنگ کے جغرافیائی دائرے تک محدود رہے گا۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے کسی بھی جارحیت کے فوری جواب کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ جنگ کے آغاز کے تجربے سے ظاہر ہوا کہ مسلح افواج فوری ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق، عملیاتی تجربات سے استفادے اور فوجی تنظیم و تیاری کو مضبوط بنانے کے بعد اب یہ صلاحیت مزید بہتر ہو چکی ہے۔
مستقبل میں ممکنہ جنگ کے خاتمے کی صورتِ حال کے بارے میں جنرل اکرمینیا نے کہا کہ 40 روزہ جنگ سے قبل امریکی صدر کا خیال تھا کہ وہ مختصر اور برق رفتار کارروائی شروع کرکے یک طرفہ طور پر اس کے اختتام کا اعلان کر سکتے ہیں، تاہم جنگ کے واقعات نے ثابت کیا کہ کسی تنازعے کا انتظام اور اس کا اختتام صرف واشنگٹن کی مرضی سے طے نہیں ہوتا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نئی جارحیت ہوئی تو آئندہ ممکنہ جنگ گزشتہ جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ طویل ہو سکتی ہے اور امریکی صدر اس کے دورانیے اور اختتام کی شرائط کا فیصلہ تنہا نہیں کر سکیں گے، امریکی عوام اور یورپی اتحادیوں کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ ایسے کسی بھی تصادم کے مستقبل کا تعین کرنے میں ایران کا کردار اہم ہوگا۔
بریگیڈیئر جنرل اکرمینیا نے مقامی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم بنانے اور فوجی نظریات و حکمتِ عملیوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کو بھی رہبر معظم انقلاب کی ہدایات کے اہم نکات قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے فوجی نظریے میں محض دفاعی طرز عمل سے آگے بڑھ کر زیادہ فعال حکمت عملی اختیار کرنے کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا تھا، جس کا عملی اظہار حالیہ جنگ میں بھی ہوا۔
انہوں نے کہا کہ مسلح افواج نئی حکمتِ عملیوں اور فوجی ٹیکنالوجی کی ترقی کے ذریعے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خطرات کا جواب دینے کی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہیں اور یہ عمل مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔
جنگ بندی کے دوران کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے فوج کے ترجمان نے بتایا کہ اس عرصے میں بعض ہتھیاروں کی تجدید کی گئی، نئے سازوسامان کو فوجی ڈھانچے میں شامل کیا گیا اور جدید ٹیکنالوجی و حکمتِ عملیوں سے استفادہ کیا گیا۔ ان کے مطابق، ان اقدامات کے نتیجے میں فوج اور دیگر مسلح اداروں کی جنگی تیاری 40 روزہ جنگ کے آغاز کے مقابلے میں بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے مسلح افواج کی قوت کے اہم عناصر میں معنوی طاقت اور جذبۂ خدمت کو بھی شامل کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے دفاع کا عزم، عسکری سازوسامان اور عملیاتی صلاحیتوں کے ساتھ مل کر جنگی تیاری برقرار رکھنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔
بریگیڈیئر جنرل اکرمینیا نے مسلح افواج کی حمایت میں عوام کی رات کے اجتماعات میں شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماعات مسلسل جاری ہیں اور اب 244ویں رات کے قریب پہنچ چکے ہیں، عوامی حمایت کے اس تسلسل سے مسلح افواج کے اہلکاروں کے حوصلے، جذبے اور قوم کے سامنے اپنی ذمہ داری کے احساس میں اضافہ ہوا ہے۔
فوج کے ترجمان نے مسلح افواج کی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکومت اور وزارت دفاع کی معاونت کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ سازوسامان، مالی وسائل اور دیگر ضروریات کی فراہمی عملیاتی تیاری برقرار رکھنے اور اسے بہتر بنانے میں مؤثر ثابت ہوئی ہے۔
مختلف محاذوں سے بیک وقت ممکنہ خطرات کی صورت میں فوج، سپاہ پاسدارانِ انقلاب اور دیگر مسلح اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے طریقۂ کار سے متعلق سوال کے جواب میں اکرمینیا نے کہا کہ مشترکہ عملیاتی منصوبہ بندی اور باہمی ہم آہنگی ہمیشہ مسلح افواج کے ایجنڈے کا حصہ رہی ہے اور حالیہ جنگ کے دوران بھی یہ تعاون برقرار رہا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے بعد مسلح افواج کے درمیان رابطہ کاری مزید مضبوط ہوئی ہے اور مختلف سمتوں سے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔ ان کے مطابق، ملک کی سرحدوں پر تعینات دستے بھی مطلوبہ تیاری رکھتے ہیں۔
حالیہ جنگ کے تجربات کا ذکر کرتے ہوئے فوج کے ترجمان نے کہا کہ دشمن نے عراق کے کردستان ریجن میں موجود بعض مخالف اور علیحدگی پسند گروہوں کو استعمال کرتے ہوئے ایران کی مغربی سرحدوں سے زمینی محاذ کھولنے کی کوشش کی تھی، تاہم ایرانی مسلح افواج کی تیاریوں اور بروقت اقدامات کے باعث یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔
اکرمینیا کے مطابق، اس دوران ایرانی مسلح افواج نے اپنی دستیاب فضائی اور دیگر دفاعی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ان گروہوں کی سرگرمیوں کا مقابلہ کیا اور انہیں اپنی حکمت عملی پر عمل درآمد سے روک دیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ سے حاصل ہونے والے تجربات نے مسلح افواج کے اعتماد اور تیاری میں اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی سرحدوں پر دفاعی دستوں کی موجودگی اور دفاعی انتظامات مختلف سمتوں سے آنے والے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
فوج کے ترجمان نے الیکٹرانک جنگ اور مواصلاتی و ریڈار نظام میں ممکنہ خلل سے نمٹنے کے حوالے سے کہا کہ حالیہ جنگ کے تجربات اور فوجی معلومات کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کی ہدایات کے بعد اس شعبے کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ