5 نومبر، 2026، 5:52 PM

صیہونی تجزیہ نگار: امریکی انتخابات اسرائیل کے بدترین خوابوں سے بھی زیادہ خوفناک ثابت ہوئے

صیہونی تجزیہ نگار: امریکی انتخابات اسرائیل کے بدترین خوابوں سے بھی زیادہ خوفناک ثابت ہوئے

ایک صیہونی تجزیہ نگار نے اس بات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز، دونوں اسرائیل کو امریکہ کے مسائل کا ذمہ دار سمجھتے ہیں، واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات میں سب سے بڑے بحران کے خدشے سے خبردار کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، غاصب صیہونی ذرائعِ ابلاغ نے امریکی انتخابات کے نتائج کو 1970ء کی دہائی کے بعد سے تل ابیب کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا ہے، کیونکہ ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز، دونوں اسرائیل کو امریکہ کے مسائل اور بحرانوں کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

اسرائیلی چینل 12 کے سیاسی امور کے نامہ نگار اور تجزیہ کار عَمیت سگال کا خیال ہے کہ تل ابیب اس وقت امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں 1970ء کی دہائی میں دونوں فریقوں کے تعلقات پر نظرثانی کے بعد سے اب تک کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔

سگال نے امریکہ میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے نتائج کو ’’مکمل تباہی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہوا ہے، وہ اسرائیل اور امریکہ میں اسرائیل نواز لابی تنظیم ایپک (AIPAC) کے بدترین خوابوں سے بھی بڑھ کر ہے، کیونکہ تل ابیب کے لیے بری خبریں مسلسل جمع ہوتی جا رہی ہیں۔

اس صیہونی تجزیہ کار کے مطابق، امریکہ کے سیاسی ماحول میں بحران دونوں سیاسی دھڑوں کی جانب سے شدت اختیار کر رہا ہے۔ ابتدا میں ڈیموکریٹک پارٹی نے مہنگائی میں اضافے، امریکہ کے بین الاقوامی مقام میں کمی اور ایران کے خلاف جنگ سمیت امریکہ کے تمام مسائل کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا۔

سگال نے مزید کہا کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی جانب سے ایک پوسٹ شائع کیے جانے اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی جانب سے اسے دوبارہ شیئر کیے جانے کے بعد ریپبلکن پارٹی نے بھی اسرائیل کو ان تمام مسائل کا ذمہ دار ٹھہرانا شروع کر دیا ہے جن کا اسے سامنا ہے۔ انہوں نے اس تبدیلی کو انتہائی خطرناک قرار دیا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ جے ڈی وینس کے واضح مؤقف کا خلاصہ اس جملے میں کیا جا سکتا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کا مسئلہ ’’اسرائیل پر حد سے زیادہ انحصار‘‘ ہے۔

News ID 1942633

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha