مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس 2028ء کے صدارتی انتخابات سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ناراض ووٹروں کے ساتھ ایک نیا انتخابی اتحاد تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ وینس اس مقصد کے لیے ریپبلکن پارٹی کے ان ووٹروں کو دوبارہ اپنے ساتھ ملانا چاہتے ہیں جنہوں نے ٹرمپ کی پالیسیوں سے ناراضی کے باعث پارٹی کی حمایت چھوڑ دی ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے بھی اس حوالے سے کہا ہے کہ وینس نے اپنے عہدے سے متعلق جن چار مشنوں کا ذکر کیا ہے، وہ نئی دائیں بازو کی سیاسی تحریک کے حامیوں کو متحرک کرنے کا نعرہ ہیں۔
جے ڈی وینس نے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں اپنے ریپبلکن ساتھیوں کی بھاری شکست پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ ہماری شکست کی وجہ جنگ ہے، لیکن یہ اس کے قابل ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ ہی ہماری انتخابی شکست کی وجہ بنی اور خود ٹرمپ نے بھی گزشتہ شب اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا تھا۔ بہت سے امریکی ووٹرز جنہوں نے 2024ء میں ٹرمپ کی حمایت کی تھی، انہوں نے 2026ء میں ڈیموکریٹس کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔
وینس نے مزید کہا کہ جو لوگ انتخابی نتائج پر شدید ناراض اور مایوس ہیں، انہیں ایسا ہونا بھی چاہیے۔ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوا ہے کہ بہت سے لوگوں نے ڈیموکریٹس کو اس لیے ووٹ دیا کیونکہ وہ جنگ کا خاتمہ، زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے مسئلے کا حل اور اسرائیل کے ساتھ امریکہ کے تعلقات میں تبدیلی چاہتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سب جانتے ہیں کہ ہماری شکست کی وجوہات کیا ہیں اور مستقبل کی حکمت عملی پر کوئی بھی سنجیدہ بحث اسی نقطے سے شروع ہونی چاہیے۔ جن ووٹروں نے ریپبلکن پارٹی کی حمایت واپس لے لی ہے، وہ اس صورت میں دوبارہ اس کی حمایت کے لیے تیار ہیں کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو، امریکہ فرسٹ پالیسی اختیار کی جائے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی نوعیت تبدیل کی جائے۔
دوسری جانب مغربی میڈیا ادارے آکسیوس نے باخبر ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے نجی گفتگو میں صہیونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایران سے متعلق تمام معاملات میں غلط قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، وینس اس سے قبل بھی خبردار کر چکے تھے کہ ایران کے خلاف جنگ کو امریکہ میں وسیع مخالفت کا سامنا ہے اور اس کے نتیجے میں ریپبلکن پارٹی کو بھاری سیاسی قیمت چکانا پڑ سکتی ہے، حتیٰ کہ اسے انتخابی شکست بھی ہوسکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ