مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عبرانی اخبار ہاآرٹز نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ نتن یاہو کی پالیسیوں کے باعث اسرائیل ایک ایسی زہریلی اور قابلِ نفرت برانڈ کی شکل اختیار کر رہا ہے جس سے دنیا بھر میں لوگ نفرت اور دوری اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اخبار نے لکھا کہ گزشتہ روز کے واقعات اس صورت حال کی دو تشویش ناک مثالیں ہیں۔ پہلی مثال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ہے کہ امریکہ رواں سال کے اختتام پر اسرائیل کو فراہم کی جانے والی 3 ارب 80 کروڑ ڈالر کی سکیورٹی امداد بند کر دے گا۔
ہاآرٹز کے مطابق، امریکی سکیورٹی امداد بند کرنے کا اعلان، خواہ اس کے پیچھے سیاسی محرکات ہوں یا یہ محض ایک مضحکہ خیز تشہیری حربہ ہو، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی رائے عامہ میں اسرائیل کے خلاف منفی جذبات کس حد تک بڑھ چکے ہیں۔
اسرائیلی اخبار نے دوسری مثال یورپ سے متعلق قرار دیتے ہوئے لکھا کہ یورپی تحقیقی پروگرام ’’ہورائزن‘‘ میں شرکت کے لیے نئی شرائط شامل کیے جانے کا امکان ہے، جس سے اسرائیل کی اس پروگرام میں شرکت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ اسرائیل کئی دہائیوں سے اس پروگرام سے فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔ یہ پروگرام دنیا میں تحقیق کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے والے بڑے پروگراموں میں شمار ہوتا ہے۔
مجوزہ شرائط کے تحت اس پروگرام میں شرکت کے خواہش مند تیسرے ممالک کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ انسانی حقوق کا احترام کریں، ان کا طرز عمل اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن کے منافی نہ ہو اور وہ برابری اور مساوات کے فروغ کے لیے کوشش کریں۔
ہاآرٹز نے مزید لکھا کہ یہ اتفاقی بات نہیں کہ ٹرمپ نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے روز اسرائیل کی امداد بند کرنے کا اعلان کیا۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ امریکی رائے عامہ، حتی کہ ریپبلکن جماعت کے حامیوں میں بھی اسرائیل کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اسرائیل کو امداد فراہم کرنے سے پیچھے ہٹنا سیاسی طور پر ان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
اخبار نے اپنے اداریے میں مزید کہا کہ اسرائیل اب نتن یاہو کو وزارت عظمیٰ کے منصب پر برقرار رکھنے کا متحمل نہیں ہوسکتا، کیونکہ وہ اسرائیل کی عالمی تنہائی میں مسلسل اضافہ کرتے رہیں گے۔
اخبار کے مطابق، اسرائیل میں تبدیلی کے خواہاں سیاسی رہنماؤں کو ایسی حکومت تشکیل دینے کے لیے تمام تر کوششیں کرنی چاہییں جو موجودہ پالیسیوں سے مختلف راستہ اختیار کرے اور اسرائیل کی موجودہ صورت حال کو تبدیل کرے۔
آپ کا تبصرہ