مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات میں امیدوار ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔
تازہ ترین سروے کے اوسط نتائج کے مطابق ڈیموکریٹس کو دونوں ایوانوں میں برتری حاصل ہے، تاہم بعض انتخابی حلقوں میں امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کے باعث حتمی نتائج کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ آئندہ منگل کو ہونے والے انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ ہی مختلف جائزوں میں ڈیموکریٹس کی برتری کا رجحان نمایاں ہو رہا ہے۔
سروے کے نتائج جمع کرنے والی ویب سائٹ ریل کلیئر پولیٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو 47 جبکہ ریپبلکنز کو 45 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
آٹھ ریاستوں میں امیدواروں کے درمیان مقابلہ انتہائی سخت ہے۔ ان میں سے سات نشستوں کا رجحان ریپبلکنز جبکہ صرف ایک کا ڈیموکریٹس کی جانب بتایا جا رہا ہے۔
اگر ریپبلکنز ان آٹھ سخت مقابلے والی نشستوں میں سے کم از کم پانچ حاصل کر لیتے ہیں تو سینیٹ میں ان کی نشستوں کی تعداد 50 ہو جائے گی۔ ایسی صورت میں اگر دونوں جماعتوں کے ارکان کی تعداد 50، 50 ہو تو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اپنا فیصلہ کن ووٹ استعمال کرکے ریپبلکنز کے حق میں نتیجہ دے سکتے ہیں۔
امریکی قوانین کے مطابق نائب صدر سینیٹ کے صدر بھی ہوتے ہیں اور انہیں ووٹ برابر ہونے کی صورت میں فیصلہ کن ووٹ ڈالنے کا اختیار حاصل ہے۔
ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ اس ایوان میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے کسی بھی جماعت کو کم از کم 218 نشستیں درکار ہیں۔
ریل کلیئر پولیٹکس کے موجودہ اعداد و شمار کے مطابق ریپبلکنز کو 182 جبکہ ڈیموکریٹس کو 227 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔ دونوں جماعتوں کے درمیان 26 نشستوں پر مقابلہ جاری ہے اور ان حلقوں میں امیدواروں کے درمیان فرق کم ہو رہا ہے۔
ان اعداد و شمار کی بنیاد پر ڈیموکریٹس کو ایوان نمائندگان میں بھی برتری حاصل ہے۔
اس وقت امریکی سینیٹ میں ریپبلکنز کے پاس 53 اور ڈیموکریٹس کے پاس 45 نشستیں ہیں، جبکہ دو آزاد ارکان بھی سینیٹ میں موجود ہیں جو بیشتر معاملات میں ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہیں۔
ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکنز کی 218، ڈیموکریٹس کی 214 اور آزاد ارکان کی ایک نشست ہے جبکہ دو نشستیں تاحال خالی ہیں۔
آپ کا تبصرہ