2 نومبر، 2026، 6:54 PM

فرانسیسی حکام کے دعوؤں کے باوجود، طلبہ کا احتجاج دوبارہ شروع

فرانسیسی حکام کے دعوؤں کے باوجود، طلبہ کا احتجاج دوبارہ شروع

خزاں کی چھٹیوں کے بعد طلبہ کی اسکولوں میں واپسی کے ساتھ ہی فرانس کے متعدد ہائی اسکولوں میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے ہوئے اور اسکولوں کے داخلی راستے بند کر دیے گئے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، فرانس کے طلبہ نے پیر کے روز خزاں کی چھٹیوں کے اختتام کے بعد متعدد ہائی اسکولوں میں اپنے احتجاج دوبارہ شروع کر دیے۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب حکومت نے تعطیلات کے دوران احتجاج ختم کروانے کے لیے بعض رعایتوں کا اعلان کیا تھا۔

یہ احتجاج ایسے وقت میں دوبارہ شروع ہوئے جب ہفتے کے روز طلبہ سمیت لاکھوں افراد مسلسل تیسرے ہفتے کے اختتام پر فرانس کے مختلف شہروں میں سڑکوں پر نکل آئے تھے۔

طلبہ کے احتجاج کا آغاز ستمبر کے مہینے میں تعلیمی حالات اور عدم مساوات کے خلاف ہوا تھا، جس کے بعد اس میں زندگی کے اخراجات سے متعلق احتجاجی اجتماعات بھی شامل ہو گئے۔

فرانسیسی حکومت نے مظاہرین کے مطالبات کا جواب دینے کے لیے جامعات میں داخلے کے طریقۂ کار میں تبدیلی، مزید اساتذہ کی بھرتی اور ہر جماعت میں طلبہ کی تعداد محدود کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم بعض طلبہ ان اقدامات کو ناکافی سمجھتے ہیں۔

مارسی شہر میں پیر کی صبح ایک ہائی اسکول کے داخلی دروازے کے سامنے کچرے کے کئی ڈبے رکھ دیے گئے۔

16 سالہ ایک طالب علم نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ طلبہ کے احتجاج دوبارہ شروع ہو گئے ہیں، کیونکہ ان کے مطالبات کے جواب میں کیے گئے اقدامات ناکافی تھے۔

فرانسیسی وزیرِ تعلیم ادوار ژفری نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ دوبارہ کلاسوں میں واپس آجائیں، تاکہ تعلیمی سال کے اختتامی امتحانات میں انہیں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سے پانچ ہفتوں کے دوران کئی لاکھ طلبہ کلاسوں میں حاضر نہیں ہوئے۔

واضح رہے فرانسیسی صدر امانوئل میکرون نے بھی کلاسوں کا پُرامن طریقے سے دوبارہ آغاز کرنے کا مطالبہ کیا اور دعویٰ کیا کہ نوجوانوں کی آواز سنی جا چکی ہے۔

یاد رہے یہ احتجاج ایسے حالات میں جاری ہیں جب یورپی یونین کی دوسری بڑی معیشت فرانس کی اقتصادی صورتحال کساد بازاری کے دہانے پر ہے اور حکومت کو قرضوں میں کمی کے لیے مالیاتی پابندیوں کا بھی سامنا ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس صورتِ حال کے باعث مظاہرین کے مطالبات پورے کرنے کے لیے مزید بجٹ مختص کرنے کی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔

News ID 1942557

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha