مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ، جو نویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے، یمن میں کشیدگی کے ساتھ مل کر خلیج فارس کے ممالک کی معیشتوں پر دباؤ ڈال رہی ہے اور تجارتی سرگرمیوں میں خلل پیدا کر رہی ہے۔ یہ صورتِ حال سیاحت، ٹیکنالوجی کے شعبوں کو فروغ دینے اور تیل کی آمدنی پر انحصار کم کرنے کے علاقائی منصوبوں کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔
رپورٹ میں پیش کی گئی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی پیش گوئی کے مطابق، خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے رکن ممالک کی معیشتیں رواں سال 5 فیصد سکڑ جائیں گی۔ کویت، بحرین اور قطر میں یہ شرح 10 فیصد سے بھی تجاوز کر جائے گی، کیونکہ ان ممالک کی توانائی کی برآمدات تقریباً مکمل طور پر آبنائے ہرمز پر منحصر ہیں۔
سعودی عرب میں بھی حکومت نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں ملکی معیشت گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 3.8 فیصد سکڑ گئی۔ اس کمی کی بنیادی وجہ تیل کے شعبے کی سرگرمیوں میں 20.4 فیصد گراوٹ بتائی گئی ہے۔
اس کے علاوہ، سعودی عرب کی اہم سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد بھی آئندہ سال تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں سعودی آرامکو کے صدر دفتر اور ایک اہم تزویراتی پائپ لائن پر حملے، نیز آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو لاحق مسلسل خطرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات میں بھی دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر فضائی آمد و رفت اب تک گزشتہ سال کی سطح سے کم ہے، جبکہ بعض بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے خطے کے لیے اپنی پروازیں معطل کر دی ہیں۔
اخبار کے مطابق، سکیورٹی خدشات کے باعث ایکسن موبل کے چیف ایگزیکٹو نے بھی توانائی کی کانفرنس ادیپیک (ADIPEC) میں شرکت نہیں کی، جس کا آغاز پیر کے روز ابوظبی میں ہوا۔
دبئی میں عالمی کریڈٹ ریٹنگ ادارے موڈیز کے نائب صدر اوریلیئن مالی نے کہا کہ سیاحت، فضائی نقل و حمل، ہوٹلنگ اور رئیل اسٹیٹ کے شعبے اعتماد میں کمی سے متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عدم اعتماد کی یہ صورتِ حال برقرار رہی تو خطے کے غیر تیل پر مبنی معاشی ماڈلز مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان ماڈلز کی بنیاد سکیورٹی اور استحکام پر قائم ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، ایسی تیل کی پائپ لائنوں نے، جو آبنائے ہرمز سے نہیں گزرتیں، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اپنی تیل کی برآمدات جاری رکھنے میں مدد دی ہے۔ تاہم، اگر جنگ طویل ہو جاتی ہے تو خطے کی حکومتیں برآمدات کے لیے متبادل راستے بنانے اور فوجی اخراجات بڑھانے پر مزید مالی وسائل خرچ کرنے پر مجبور ہو سکتی ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے بھی عہد کیا ہے کہ وہ بندرگاہوں اور متبادل پائپ لائنوں میں سرمایہ کاری بڑھا کر آبنائے ہرمز پر اپنا انحصار صفر تک لے آئے گا۔
اس کے برعکس، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیش گوئی کی ہے کہ عمان خطے کی واحد معیشت ہوگی جس کی شرحِ نمو رواں سال 4 فیصد سے تجاوز کرے گی۔ جبکہ 2025 میں عمان کی اقتصادی ترقی کی شرح 2.4 فیصد رہی تھی۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور آبنائے ہرمز پر وسیع انحصار کے بغیر بحیرۂ عرب کے راستے تیل برآمد کرنے کی سہولت کو عمان کی معاشی ترقی کے اس مثبت امکان کی اہم وجوہات قرار دیا گیا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے خبردار کیا ہے کہ جنگ خطے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے منصوبوں کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔ قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے گزشتہ سال اس شعبے میں 120 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، جنگ کے آغاز میں متحدہ عرب امارات اور بحرین میں ڈیٹا سینٹرز پر حملوں کے بعد نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کے مقامات کو مختلف علاقوں میں پھیلانے اور میزائلوں اور ڈرونز سے تحفظ کے لیے بعض تنصیبات زیرِ زمین تعمیر کرنے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔
تاہم، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے 2027 میں خطے کی معیشت میں بہتری کی پیش گوئی کی ہے۔ ادارے کے مطابق، اس دوران سعودی عرب کی معیشت میں 7.9 فیصد اور قطر کی معیشت میں 18.8 فیصد ترقی متوقع ہے۔ یہ پیش گوئیاں اس شرط سے مشروط ہیں کہ جنگ بتدریج کم ہو جائے اور توانائی کے شعبے کی سرگرمیاں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ جائیں۔
اس کے باوجود، آئی ایم ایف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات کے حوالے سے اب بھی بہت زیادہ غیر یقینی صورتِ حال موجود ہے۔
آپ کا تبصرہ