مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے عوامی اقتصادی حالت بہتر بنانے کے موضوع پر منعقدہ اجلاس میں ملک کے گورنروں، بڑے شہروں کے میئروں اور صوبائی مراکز کے سربراہوں سے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں یہ قبول نہیں کرنا چاہیے کہ عوام کا ایک طبقہ اپنی بنیادی اور ضروریاتِ زندگی پوری کرنے سے بھی عاجز ہو۔ ہمیں درست انتظام و انصرام کے ذریعے ان لوگوں کی مدد کو ترجیح دینی چاہیے جو زندگی کے معاملات میں مشکلات سے دوچار ہیں، تاکہ ان کے لیے کم از کم ضروریاتِ زندگی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
ایرانی صدر نے معاشرے کے ضرورت مندوں اور محروم طبقوں کی درست نشاندہی اور عوامی مشکلات دور کرنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس راستے میں ملک کے تمام حکام، ائمہ جمعہ، مخیر حضرات، بسیج، اصناف اور مختلف طبقات کو سب سے پہلے اپنے صوبوں، اضلاع، شہروں اور محلوں میں ضرورت مند افراد کی درست شناخت کرنی چاہیے۔
پزشکیان نے کہا کہ ہمارا ارادہ اور مقصد ضرورت مند افراد کی زیادہ سے زیادہ مدد کرنا ہے اور یہ عینِ عدالت ہے۔ حکومت اور صوبوں میں ہمارا ہدف یہ ہے کہ سرحدی اور محروم صوبوں میں عوام کو اشیائے ضروریہ، تہران اور مرکزی صوبوں کے مقابلے میں کم قیمت پر فراہم کی جائیں اور اگر اس مقصد کے لیے ضرورت پڑی تو ہم سبسڈی بھی دیں گے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ حکومت کو جن اہم امور کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا چاہیے، ان میں عوام کی معاشی حالت اور بچوں کی تعلیم شامل ہیں۔ صوبوں میں اسکولوں کی تعمیر اور تعلیمی سرگرمیوں کے حوالے سے درست تربیت اور اسکولوں میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
پزشکیان نے اس بات پر زور دیا کہ آج دشمنوں نے ہمارے ملک کے لیے جو چیلنجز اور بحران پیدا کیے ہیں، ان سے نکلنے کے لیے ہمیں عوام کے تعاون اور باہمی اشتراک سے کام لینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں رہبرِ معظم انقلاب نے حکومت کو اختیارات بھی دیے ہیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ جنگ میں کسی کو بھی فائدہ نہیں پہنچتا۔ دشمن جنگ کے ذریعے ہمیں تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ ہم ان کے جھوٹ اور ناجائز مطالبات کے مقابلے میں پوری قوت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس راستے میں ہمیں عوام کی مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت بڑھانے اور ان کے خدشات و پریشانیوں کو دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم عوام کی مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت بڑھانا چاہتے ہیں اور کم سے کم تناؤ کے ساتھ موجودہ حالات سے نکلنا چاہتے ہیں تو ہمیں توانائی کی بچت اور اس کے استعمال کے بہتر انتظام کے ذریعے پیداوار کا عمل جاری رکھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ ملک کے مختلف صوبوں کے گورنروں کو چاہیے کہ وہ ماہرین اور خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر اپنے ماتحت اداروں کے سربراہوں سے توانائی کی بچت اور پیداوار میں اضافے کے حوالے سے قابلِ عمل تجاویز حاصل کریں اور انہیں انتظامی فیصلوں میں مدنظر رکھیں۔
ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں متوازن ترقی کے منصوبوں اور پروگراموں پر عمل درآمد کے لیے صوبوں کی آمدنی اور رقوم انہی کو دی جائیں گی۔ ہمیں اس سلسلے کو روکنا ہوگا جس میں صاحبِ ثروت افراد مزید دولت مند اور ضرورت مند افراد مزید کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔
پزشکیان نے اعلیٰ حکام کے درمیان ہم آہنگی اور مسائل حل کرنے اور دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے حکام اور عوام کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں باہمی ہم آہنگی اور تعاون کی وجہ سے دشمنوں کو ایران کی جانب سے فوجی حملوں اور جارحیت کے مقابلے میں مشکلات برداشت کرنے کی صلاحیت پر حیرت ہوئی۔
انہوں نے ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان سرحدی تبادلوں کے راستے میں رکاوٹیں اور پابندیاں پیدا کرنے کی دشمنوں کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن ایران کی سرحدیں اس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ بند کرنے اور سرحدی تجارت و تبادلوں میں خلل ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن باہمی تعاون اور اشتراک سے ہم دشمنوں کی کوششوں اور سازشوں کو ناکام بنا دیں گے۔
ایرانی صدر نے ملک کے صوبائی گورنروں اور بڑے شہروں کے میئروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پروگراموں پر عمل درآمد اور مطلوبہ اہداف کے حصول میں کامیاب، دوراندیش اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل افراد کی حوصلہ افزائی کریں اور نااہل منتظمین کی جگہ اہل اور باصلاحیت افراد کو تعینات کریں۔
پزشکیان نے واضح کیا کہ ہم دشمنوں کی دھمکیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بحران سے نکل سکتے ہیں، بشرطیکہ عوام کو اپنے ساتھ شامل کریں۔ اگر عوام کو ہم پر اعتماد ہوگا تو ہم دشمنوں کا پوری قوت سے مقابلہ کر سکتے ہیں اور ان کی سازشوں اور منصوبوں کو ناکام بنا سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ