مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے وزیرِ صنعت، کان کنی و تجارت اور صدرِ مملکت کے سائنسی، ٹیکنالوجی اور علم پر مبنی معیشت کے امور کے معاون کے ہمراہ ملک کے ایک گاڑی بنانے والے گروپ کی پیداواری لائن کے مختلف حصوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پیداواری عمل، صنعتی صلاحیتوں اور مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے اور کم ایندھن خرچ کرنے والے انجن تیار کرنے کے لیے اس ادارے کے منصوبوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔
یہ دورہ گزشتہ سال صدرِ مملکت کی جانب سے گاڑی بنانے والی کمپنیوں کے لیے کم ایندھن خرچ کرنے والے انجنوں کی تیاری کے سلسلے میں عملی منصوبے مرتب کرنے اور پیش کرنے کی ضرورت پر دی جانے والی تاکید کے تسلسل میں کیا گیا۔ یہ حکمتِ عملی توانائی کی کارکردگی بہتر بنانے، پیداواری ٹیکنالوجی کو ترقی دینے اور ملکی مصنوعات کے معیار میں اضافے سے متعلق حکومت کی پالیسیوں کے دائرے میں اختیار کی جا رہی ہے۔
پزشکیان نے اس گاڑی بنانے والے گروپ کے منتظمین اور انجینئروں کے ساتھ نشست میں شہید رہبرِ انقلاب اور ملک کے دیگر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے گاڑیوں کی مصنوعات کے معیار، کارکردگی اور پیداواری صلاحیت کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم گاڑیوں کے انجن اور دیگر پرزوں کو جتنا زیادہ عالمی معیارات کے مطابق ترقی دیں گے، ان کا ڈیزائن بہتر بنائیں گے اور انہیں جدید خطوط پر استوار کریں گے، اسی تناسب سے ایندھن کی کھپت کم ہوگی اور مصنوعات کا معیار، کارکردگی اور فعالیت بہتر ہوگی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ بحرانوں سے نکلنے اور مؤثر حل تک پہنچنے کے لیے عزم و ارادہ بنیادی شرط ہے، کہا کہ اگرچہ ہم پیچیدہ اور دشوار حالات سے دوچار ہیں، لیکن عزم و ارادے کے ذریعے اس صورتِ حال سے نکل سکتے ہیں اور مشکلات و بحرانوں پر قابو پا سکتے ہیں۔ کسی بھی مسئلے کو ناقابلِ حل نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ کوشش، منصوبہ بندی اور سائنسی و تخصصی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ گاڑیوں کی صنعت میں جدید علوم اور ٹیکنالوجیز کا استعمال اور جدید و کم ایندھن خرچ کرنے والے انجنوں کی تیاری ایک ضرورت ہے۔ مسائل حل کرنے کی جانب پہلا قدم تبدیلی کے امکان پر یقین رکھنا اور بہتری کی راہ پر آگے بڑھنا ہے۔
ایرانی صدر نے گاڑیوں کی صنعت کو ترقی دینے اور کم ایندھن خرچ کرنے والے انجنوں کے ڈیزائن کی تیاری کے لیے صنعت کاروں اور پیداواری شعبے سے وابستہ افراد کی کوششوں کی حکومتی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ قابلِ قبول نہیں کہ ہم یہ تصور کرلیں کہ اس شعبے میں دوسرے ممالک سے پیچھے رہ گئے ہیں، لیکن موجودہ فاصلے کو کم کرنے کے لیے کوئی اقدام بھی نہ کریں۔ ہم سب کو مل کر جدید ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھانا چاہیے، تاکہ مصنوعات کا معیار اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے اور صارفین کا اطمینان حاصل کیا جا سکے۔ معاشرے کے تمام افراد کو خدمات فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
آپ کا تبصرہ