مہر خبررساں ایجنسی نے اسپوتنک کے حوالے سے خبر دی ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن نے ماسکو میں روس اور افریقہ کے تیسرے سربراہی اجلاس کے عمومی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خلیج فارس میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث فلسطینی عوام کے مصائب اور مشکلات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔
پیوٹن نے کہا کہ خلیج فارس میں ہونے والی تبدیلیوں کے دوران ہمیں فلسطین کے مسائل کو نہیں بھولنا چاہیے، جن سے فلسطینی عوام اب بھی دوچار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس اس مؤقف کی حمایت کرتا ہے کہ مسئلۂ فلسطین کا حتمی حل صرف دو ریاستوں کے قیام کے تسلیم شدہ اصول پر عمل درآمد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس اصول کے مطابق فلسطینی سرزمین پر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے گی۔
روسی صدر اس سے قبل بھی اپنے ملک کے منجمد اثاثوں میں سے ایک ارب ڈالر ’’مجلسِ امن‘‘ کے لیے مختص کرنے پر ماسکو کی آمادگی کا اعلان کر چکے ہیں۔ یہ رقم غزہ کی پٹی کی تعمیرِ نو اور مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے مختص کی جانی ہے۔ ٹرمپ نے اس تجویز کو ’’ایک قابلِ توجہ خیال‘‘ قرار دیا تھا۔
پیوٹن اس سے قبل بھی اس بات پر زور دے چکے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے بحران کا حل صرف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے منظور کردہ دو ریاستی حل کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔ اس حل میں 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت قرار دیتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا گیا ہے۔
آپ کا تبصرہ