مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تحریکِ انصار الله یمن کے رہنما سید عبدالملک بدرالدین الحوثی نے ملک میں یومِ شہید کے موقع پر اہم خطاب کیا ہے۔
انصار اللہ کے رہنما نے اپنی تقریر کے آغاز میں شہداء کے صابر اور ثابت قدم خاندانوں کی قدردانی کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ہماری عزیز قوم یومِ شہید کی سالگرہ کو ایک عظیم مناسبت کے طور پر مناتی ہے، جس کی گہری ایمانی قدر و منزلت ہے۔ یہ دن اپنی تقدیس، عظمت اور اہمیت اس تقدس سے حاصل کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی راہ میں شہادت اور اس راہ میں شہید ہونے والوں کو عطا فرمایا ہے۔
الحوثی نے مزید کہا کہ یمن کے عوام اس مناسبت کو ایسے حالات میں منا رہے ہیں کہ جب ہر روز ان کے درمیان شہادتیں ہوتی ہیں۔ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کے پرچم کی حفاظت کر رہے ہیں اور ایک متکبر، ظالم اور مجرم دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کر رہے ہیں، جو ناحق، ظالمانہ اور غدارانہ انداز میں ہمارے عوام پر حملہ کرتا ہے۔ یمن کے عزیز عوام اپنے مؤقف اور اس آزادی کی تحریک پر ثابت قدم ہیں جو وہ حق کے راستے میں اور متکبروں و ظالموں کے تسلط سے نجات حاصل کرنے کے لیے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ہماری عزیز قوم ہر سال اس مناسبت کو منا کر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی راہ میں شہادت کے قرآنی تصور کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ہماری قوم کی روحانی کیفیت تمام خوف کی پابندیوں اور ان زنجیروں کو توڑنے میں انتہائی اہمیت رکھتی ہے، جن کے ذریعے طاغوت، جابرین، ظالمین اور مستکبرین ہماری امت کے عوام کو غلام بنانے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ انہیں اپنا مطیع و فرمانبردار بنا سکیں اور اس انداز میں ان کی تربیت کریں کہ ان پر تسلط قائم کرنا، انہیں قابو میں رکھنا اور غلام بنانا آسان ہو جائے۔
عبدالملک بدرالدین نے کہا کہ ہماری قوم اس مناسبت کو منا کر اس جذبے کو مزید زندہ کرتی ہے؛ ایسا جذبہ جو قوموں کو خوف کی غلامی سے آزاد کرتا ہے اور امت کو حرکت و عمل اور اثراندازی کے لیے اعلیٰ درجے کی آمادگی عطا کرتا ہے۔ شہادت کے جذبے کی موجودگی میں طاغوت کبھی بھی ہماری امت کو ذلیل نہیں کر سکتے اور نہ ہی اس پر تسلط قائم کر سکتے ہیں۔ اللہ کی راہ میں شہید ہونے والے اپنی سخاوت، اخلاق، اقدار اور ثابت قدمی کے اعتبار سے متاثر کن نمونے ہیں۔ امت ان سے عظیم صبر، سخاوت اور سرکشی کے مقابلے میں استقامت کا سبق حاصل کرتی ہے۔ اللہ کے احکام اور اس کی راہ میں حرکت و عمل، زندگی کے تمام شعبوں میں، ایسے بلند ترین احکام ہیں جو انسان کو حق پر مبنی مؤقف اور عادلانہ مقصد کے راستے پر گامزن کرتے ہیں، اور ان کا ہدف نیکی، حق اور عدل کی اقدار کو مستحکم کرنا ہے۔
انصار الله کے رہنما نے کہا کہ انسانی معاشرے میں بہت سی قوتیں ظلم، تسلط، استحصال، زیادتی، تشدد، خودسری اور لالچ جیسے محرکات کے تحت کام کرتی ہیں۔ دنیا کے متعدد ممالک اور بڑی بڑی طاقتور تنظیموں کی حقیقت میں یہ صورتِ حال وسیع پیمانے پر موجود ہے۔ جن دشمنوں سے ہم جنگ کر رہے ہیں اور جن کے خلاف اللہ نے ہمیں لڑنے کا حکم دیا ہے، وہ بدکردار، مجرم، ظالم، مفسد اور متکبر ہیں۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ جب کوئی امت اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی راہ میں آگے بڑھتی ہے تو وہ خود کو طاغوت، ظالموں، مستکبروں اور مجرموں کے تسلط سے آزاد کرتی ہے اور اللہ کی حفاظت، تائید اور مدد سے بہرہ مند ہوتی ہے۔ جن دشمنوں سے ہم لڑ رہے ہیں اور جن کے خلاف اللہ نے ہمیں جنگ کرنے کا حکم دیا ہے، وہی بدکردار، مجرم، طاغوت، مفسد، ظالم اور مستکبر ہیں۔ ان بدکرداروں کی مجرمانہ روش اور سرکشی انسانی معاشروں اور ہماری امت کو نشانہ بناتی ہے۔ ان کا مقصد لوگوں کو غلام بنانا، ان پر ظلم کرنا، انہیں ذلیل کرنا اور ان کی حرمتوں کو پامال کرنا ہے۔ امت کو بدکرداروں، طاغوتوں اور مجرموں کی شرانگیزی کا مقابلہ کرنے کے لیے جہاد کی ضرورت ہے۔ جہاد لوگوں کی حفاظت اور انہیں طاغوت کے تسلط سے آزاد کروانے کا ذریعہ ہے۔ جہاد کے نتائج اور ثمرات میں معاشرے میں حق، عدل اور نیکی کا قیام شامل ہے۔ کوئی قوم خواہ کتنی ہی امن پسند ہو اور اپنے آس پاس کے لوگوں کے لیے خیر چاہتی ہو، پھر بھی وہ بدکرداروں کی شرارت سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔
الحوثی نے مزید کہا کہ اللہ کی راہ میں جہاد ہمیں ایک امت کی حیثیت سے حقیقی آزادی عطا کرتا ہے، جس کا مطلب طاغوتوں، ظالموں، مجرموں، مستکبروں، مفسدوں اور بدکرداروں کے تسلط سے آزادی ہے۔ جہاد ہمیں ایسی طاقتور پوزیشن میں کھڑا کرتا ہے کہ ہم ان کی شرارت، جرائم، سرکشی، فساد اور ظلم کے سامنے ڈٹ سکیں۔ امت جہاد کے سائے میں فتح کے اسباب اختیار کرکے اللہ کی مدد اور تائید حاصل کرتی ہے، تاکہ ہم ایک ایسی محفوظ، سربلند اور ظالموں کے سامنے سر نہ جھکانے والی امت بن سکیں۔ اللہ کی راہ میں جہاد کا متبادل ایسی صورتِ حال ہے جس میں امت کو مطیع بنا دیا جاتا ہے اور وہ طاغوتوں، ظالموں اور مستکبروں کے سامنے سر جھکا دیتی ہے۔ دشمن ہماری امت پر تسلط قائم کرنے، اس کے وسائل و ذرائع پر قبضہ کرنے اور اس کی سرزمینوں پر قبضہ جمانے کے درپے ہیں۔ جو قوم بھی عزت، امن، تحفظ اور سلامتی چاہتی ہے، اس کے پاس ہر اس جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری طاقت اور صلاحیت ہونی چاہیے جو اسے نشانہ بنائے۔
انصار الله کے رہنما نے کہا کہ برطانوی قبضے اور اس کے بعد صہیونی قبضے سے پہلے فلسطینی قوم کا یہودیوں یا برطانیہ کے خلاف کوئی خاص مؤقف نہیں تھا۔ فلسطینی قوم ایک کمزور اور مستضعف قوم ہے، جسے انگریزوں اور یہودیوں نے ابتدا ہی سے اپنے لالچ اور شرانگیز محرکات کی بنا پر نشانہ بنایا۔ اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ شہداء ہمیشہ خوشی، بشارت اور سرور کی حالت میں رہتے ہیں۔ امت نے صدیوں تک اپنے مقدس فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کی ہے۔ اپنے فرائض کی ادائیگی میں امت کی کوتاہی نے طاغوتوں اور ظالموں کو ظلم و فساد پھیلانے کا موقع دیا۔ طاغوتوں اور ظالموں نے دنیا کو ظلم، زیادتی، شرارت اور فساد سے بھر دیا ہے۔ طاغوتوں اور مجرموں نے انسانی معاشروں کی زندگی تلخ بنا دی ہے اور اسے مصائب، غموں اور بحرانوں سے بھر دیا ہے۔ طاغوتوں اور بدکرداروں کی طاقت جتنی بڑھتی ہے، وہ اپنے تمام وسائل اور صلاحیتیں عوام اور ان کی زندگیوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ طاغوت اپنے تمام دستیاب وسائل اور صلاحیتوں کو لوگوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہونے کے لیے بروئے کار لاتے ہیں۔ ایسے نظام موجود ہیں جو بے پناہ مادی وسائل اور وسیع فوجی و اقتصادی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ان طاقتوں اور نظاموں نے اپنے حاصل کردہ وسائل، صلاحیتوں اور اثر و رسوخ کے تناسب سے انہیں انسانی معاشروں کے خلاف سرکشی، جرائم اور ظلم کے راستے میں استعمال کیا ہے۔
عبدالملک بدرالدین نے زور دے کر کہا کہ اگر امریکہ خیر اور امن کی قوتوں میں شامل ہوتا اور اپنے ان تمام عظیم وسائل کو انسانی معاشروں کی خدمت کے لیے استعمال کرتا تو صورتِ حال کیا ہوتی؟ امریکہ نے دنیا کے وسیع علاقوں میں انسانی معاشروں پر ظلم کرنے کے لیے اپنے تمام وسائل استعمال کیے ہیں۔ امریکہ نے لاکھوں نہیں بلکہ سیکڑوں ہزار افراد کو قتل کرنے کے لیے جوہری ہتھیاروں اور ایٹم بموں تک کا استعمال کیا ہے، جن میں بچے، خواتین، بزرگ اور نوجوان شامل تھے۔ امریکہ شہروں کو تباہ کرنے کے لیے مہلک ترین اقسام کے ہتھیار تیار کرتا ہے۔ یہ ہتھیار شہروں کو نشانہ بنانے کے لیے تباہ کن اور مہلک ترین ذرائع میں شمار ہوتے ہیں۔ شہر فوجی چھاؤنیاں نہیں ہوتے، بلکہ رہائشی علاقے شہری آبادیوں کی زندگی گزارنے کی جگہیں ہیں۔ امریکی اپنی عظیم صلاحیتوں اور وسائل کے باوجود شہروں کو تباہ کرنے اور ان کے باشندوں کی نسل کشی کے لیے مہلک ترین ہتھیار تیار کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔ امریکی اپنی ابلاغی صلاحیتوں کو گمراہی اور فساد پھیلانے، قوموں کو مطیع بنانے، انہیں دھوکا دینے اور انہیں بگاڑنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سخاوت اور اللہ کی راہ میں شہادت کا جذبہ ایک ایمانی جذبہ ہے، جو امت کو سخت ترین طاغوتوں اور بدترین شرپسندوں کا مقابلہ کرنے کے لیے بلند مرتبہ عطا کرتا ہے۔ سخاوت اور اللہ کی راہ میں شہادت کا جذبہ امت کو مشکلات برداشت کرنے اور چیلنجوں کی شدت سے قطع نظر ان کے سامنے ثابت قدم رہنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ بلند جذبہ امت کو طاغوتوں، آمروں اور ظالموں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مضبوط اور بلند مقام پر فائز کرتا ہے۔ جس امت میں یہ جذبہ موجود ہو، وہ چیلنج کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، طاغوتوں کی طاقت اور ظلم کے سامنے شکست نہیں کھاتی۔
الحوثی نے مزید کہا کہ سنہ 2015 سے ہمارے عوام کے خلاف جارحیت امریکہ کی نگرانی، صہیونی اسرائیل کی کھلی اور علانیہ حمایت اور برطانیہ کی شرکت سے جاری ہے۔ سعودی حکومت ایک ایسا آلہ ہے جو اس جارحیت کو عملی جامہ پہناتی ہے، اس کی مالی اعانت کرتی ہے اور اس کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ یہ جارحیت امریکہ کی نگرانی اور صہیونی اسرائیل کی حمایت سے انجام دی جا رہی ہے۔ سعودی حکومت شیطان کا سینگ اور موجودہ دور کا مستکبر قارون ہے۔ اس کی یہ خصوصیات اس کے عملی طرزِ عمل اور جارحانہ، مجرمانہ، فساد انگیز اور ظالمانہ رویے میں واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں۔ ہمارے ملک پر جارحیت ابتدا ہی سے امریکہ کی نگرانی میں شروع ہوئی تھی اور سعودی عرب کی جانب سے اس کا اعلان کیے جانے سے پہلے امریکہ میں اس کا اعلان ہو چکا تھا۔ ہمارے ملک پر جارحیت کا اعلان پہلے امریکہ نے کیا تھا، سعودی عرب نے نہیں، اور یہ آج تک جاری ہے۔ سعودی حکومت ایک بار پھر امریکہ کی نگرانی اور صہیونی حکومت کی حمایت کے تحت کشیدگی، سرکشی اور جرائم کو انتہائی سطح تک بڑھاتے ہوئے اپنی مجرمانہ کارروائیوں کی طرف لوٹ آئی ہے۔ سعودی عرب نے امریکی بموں کے ذریعے 14 ہزار سے زائد زرعی کھیتوں کو نشانہ بنایا ہے، تاکہ انہیں جلا کر تباہ کر دیا جائے۔ سعودی جرائم ہر روز کھلے عام جاری ہیں، جن میں امریکہ کی نگرانی اور اسرائیل کا علانیہ کردار شامل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے ملک کے خلاف سعودی جارحیت میں اسرائیل کا کردار علانیہ ہے، حتیٰ کہ امریکی عہدیدار بھی اس بارے میں بات کر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے خود اعتراف کیا ہے کہ اسرائیلی دشمن ہمارے ملک پر جارحیت میں سعودی عرب کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔ ہمارے ملک کے خلاف جارحیت میں صہیونی اسرائیل کی شرکت موجود ہے اور بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس تعاون میں انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنا اور اہداف کا تعین کرنا بھی شامل ہے۔ اس جارحیت میں امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ کا کردار نگرانی، اہداف کا تعین، منصوبہ بندی اور کارروائیوں کا انتظام کرنا ہے۔ اس کے برعکس سعودی عرب کا کردار کارروائیوں کو انجام دینا، مالی اعانت کرنا اور ان کی ذمہ داری قبول کرنا ہے، کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ اس جارحیت کو ایک عربی چہرہ حاصل ہو اور اسے اسلام سے منسوب کیا جا سکے۔ امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ اس امت میں سے ایک ایسا عربی و اسلامی چہرہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جو جارحیت کو عملی جامہ پہناتا ہے، اس کی ذمہ داری قبول کرتا ہے اور اس کے اخراجات برداشت کرتا ہے۔
انصار الله یمن کے رہنما نے کہا کہ سعودی حکومت جزیرہ نمائے عرب کے وسائل سے حاصل ہونے والی کھربوں ڈالر کی دولت امریکہ کے حوالے کر چکی ہے اور اب اس عظیم دولت کو ایک مسلمان قوم کے خلاف جارحیت کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ سعودی حکومت اپنی بے پناہ دولت کو اس قوم کی تباہی، بچوں اور خواتین کے قتل، گھروں کی بربادی اور ہمارے ملک میں زندگی کے بنیادی وسائل کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
سید عبدالملک بدرالدین نے مزید کہا کہ ہماری قوم کے خلاف سعودی جارحیت امریکہ، اسرائیل، برطانیہ، صہیونیت اور کافر مغرب کی خدمت ہے۔ ہمارے ملک کے خلاف جارحیت مغربی پالیسیوں اور رجحانات کے دائرے میں انجام دی جا رہی ہے، جن کا مقصد اس امت کو تباہ کرنا اور اسے تنازعات، بحرانوں اور مشکلات میں ڈبو دینا ہے۔
عبدالملک بدرالدین نے وضاحت کی کہ سعودی حکومت اس جارحیت کو جاری رکھنے پر اصرار کرتی ہے، حالانکہ اس میں داخل ہونے کا اس کے پاس کوئی جواز نہیں تھا۔ جارحیت کے آغاز سے ہی اسے کوئی قانونی جواز حاصل نہیں تھا۔ سعودی عرب کے پاس ہمارے ملک پر جارحیت کرنے کا کوئی جواز نہیں اور نہ ہی وہ ہمارے عوام کو نشانہ بنانے کے لیے کوئی دلیل رکھتا ہے۔ یہ ظالمانہ جارحیت اور محاصرہ ہے جس نے ہماری قوم کو اس کے قومی وسائل سے محروم کر دیا ہے، حالانکہ وہ ان وسائل کی مالک ہے اور اسے ان کی ضرورت ہے۔ ہماری قوم کو تنخواہوں کی ادائیگی، عوامی خدمات کی فراہمی، صحت اور تعلیم کے نظام کو چلانے کے لیے سب سے بڑھ کر اپنے قومی وسائل کی ضرورت ہے، لیکن جارحیت اور ظلم کے نتیجے میں اسے ان تمام وسائل سے محروم کر دیا گیا ہے۔ سعودی عرب نے کھلے عام جارحیت میں مرکزی فریق، مالی معاون اور عملی طور پر اسے انجام دینے والے کا کردار سنبھال رکھا ہے اور جزیرہ نمائے عرب کی عظیم صلاحیتوں، وسائل اور دولت کو اسی مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ مناسب تو یہ تھا کہ جزیرہ نمائے عرب کے عوام اس عظیم دولت سے فائدہ اٹھاتے اور اس کی بنیاد پر حقیقی ترقی حاصل کرتے۔ دشمنوں کو ایسے چہرے کی ضرورت ہوتی ہے جس کا عربی اور اسلامی دنیا میں اثر و رسوخ ہو اور جسے ایک عرب اور مسلمان فریق کے طور پر قبول کیا جا سکے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ ہم امریکی، اسرائیلی دشمن اور اسلام و مسلمانوں کے دشمنوں کی جانب سے اپنی امت کو درپیش چیلنجوں اور خطرات کے مقابلے میں اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ ہم سعودی جارح سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ یمن کے عزیز مسلمان عوام کے خلاف جارحیت اور محاصرہ ختم کرے۔ ہمارے عوام کے خلاف جارحیت اور محاصرے کا خاتمہ خود سعودی عرب کے مفاد میں ہے۔ سعودی جارح کا جارحیت جاری رکھنے پر اصرار اس کے لیے نقصان میں اضافے کے سوا کچھ نہیں لائے گا۔ ہم یمنی قوم کی حیثیت سے اپنی مسلح افواج کے ساتھ، سرکاری اور عوامی سطح پر، اس ظالمانہ جارحیت کا مقابلہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب ہم سعودی عرب کہتے ہیں تو ہماری مراد سعودی حکومت ہوتی ہے، جزیرہ نمائے عرب میں رہنے والے ہمارے اپنے عوام نہیں۔ سعودی حکومت ایک بدعنوان، مجرم، متکبر، منافق اور اجرتی حکومت ہے، جو اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کی خدمت میں مصروف ہے۔ سعودی حکومت اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں کی خدمت کرتی ہے اور صہیونیت کے مفادات کے لیے کام کرتی ہے۔ تمام عرب اور اسلامی اقوام کو سعودی حکومت کے نعروں، پروپیگنڈے، الزامات، بہتانوں اور جھوٹ کے بارے میں آگاہ اور باشعور رہنا چاہیے۔
الحوثی نے آخر میں کہا کہ جو شخص بھی سعودی جارحیت کی حمایت کرتا ہے، وہ ان جرائم میں بھی شریک ہے جو سعودی جارح انجام دیتا ہے۔ سعودی جارحیت کی حمایت کرنے والا ہر شخص بچوں اور خواتین کے قتل میں بھی شریک ہے۔ ہم جنوبی صوبوں میں اپنے بھائیوں اور عزیزوں کو یقین دلاتے ہیں کہ مسلح افواج انہیں نشانہ نہیں بنا رہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تعز شہر کے محاصرے سے متعلق سعودی دشمن کے دعوے باطل ہیں۔ تعز شہر کا کوئی محاصرہ نہیں ہے اور غذائی اشیاء اور انسانی ضروریات کے حوالے سے ہر قسم کے سامان کی آمدورفت آزاد ہے۔ تعز شہر میں غذائی اشیاء، ادویات اور انسانی ضروریات کی فراہمی آزاد ہے، حتیٰ کہ سعودی عرب سے وابستہ گروہوں کے لیے بھی ان اشیاء کی آمدورفت پر کوئی پابندی نہیں۔ جو شخص تعز شہر کے محاصرے میں نہ ہونے کی حقیقت کی تصدیق کرنا چاہتا ہے، وہ اس شہر جا کر خود اس حقیقت کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔ سعودی عرب جھوٹ بول رہا ہے اور اس سے وابستہ وہ گروہ بھی، جو اپنی قوم اور وطن سے غداری کر چکا ہے، تعز شہر کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ