مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ابوظہبی کے ولی عہد اور کینیڈین وزیرِاعظم کے مشترکہ بیان میں ایرانی جزائر کے بارے میں گستاخانہ اور مداخلت پسندانہ دعوؤں کی شدید مذمت کرتے ہوئے زور دیا کہ ابوموسیٰ، تنبِ بزرگ اور تنبِ کوچک جزائر ایران کے علاقائی جغرافیہ کا ناقابلِ تقسیم اور ابدی حصہ ہیں۔ ان جزائر کے بارے میں بے بنیاد اور خیالی دعوؤں کو دہرانے سے جغرافیائی، تاریخی اور قانونی مسلمہ حقائق میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
انہوں نے ایران کے خلاف علاقائی دعویٰ کرنے میں متحدہ عرب امارات کی حکومت کا ساتھ دینے پر کینیڈا کے اس گھٹیا اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کا یہ اقدام، جبکہ اسے خود امریکی حکمرانوں کے علاقائی دعوؤں کا سامنا ہے، تنگ نظری پر مبنی، اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قانون کے منافی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں کینیڈا کی ریاست پر بین الاقوامی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
اسماعیل بقائی نے متحدہ عرب امارات کی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ ایک بڑے ہمسایہ ملک کے خلاف علاقائی دعوے دہرانے کی لاحاصل کوششوں کے بجائے اچھے ہمسائیگی کے اصول کی پابندی کرے۔
آپ کا تبصرہ