29 اکتوبر، 2026، 6:02 PM

پینٹاگون کا ڈیٹا ہیک؛ 30 لاکھ امریکی فوجیوں کی حساس معلومات فاش

پینٹاگون کا ڈیٹا ہیک؛ 30 لاکھ امریکی فوجیوں کی حساس معلومات فاش

ایک امریکی میڈیا ادارے نے وزارت جنگ امریکہ کے ڈیٹا بیس میں بڑے پیمانے پر ہیکنگ کی اطلاع دی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 30 لاکھ فوجی اہلکاروں اور ملازمین کی حساس معلومات فاش ہوئی ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی نیوز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی وزارت جنگ پینٹاگون کے ایک بڑے ڈیٹا بیس میں سکیورٹی کی خلاف ورزی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں تقریباً 30 لاکھ فوجی اہلکاروں اور اس وزارت کے ملازمین سے متعلق حساس معلومات افشا ہوئی ہیں۔

اے بی سی نیوز نے ایک امریکی دفاعی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ پینٹاگون کے اہلکاروں کے ڈیٹا بیس میں ہونے والی اس دراندازی سے 27 لاکھ 60 ہزار زندہ افراد اور 2 لاکھ 94 ہزار متوفی افراد کی معلومات متاثر ہوئی ہیں۔

اس سکیورٹی عہدیدار نے مزید بتایا کہ پینٹاگون کے ڈیفنس مین پاور ڈیٹا سینٹر کے ایک نظام تک اکتوبر 2025 سے جولائی 2026 کے دوران غیر مجاز رسائی حاصل کی گئی، جس کے ذریعے ان افراد کی شناخت سے متعلق معلومات تک رسائی ممکن ہوئی۔

امریکی دفاعی عہدیدار نے تصدیق کی کہ افشا ہونے والی معلومات میں سوشل سکیورٹی نمبرز اور فوجی اہلکاروں و سویلین ملازمین کی ملازمت سے متعلق معلومات شامل ہیں، جو قومی سلامتی کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کر سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محدود تعداد میں غیر مجاز صارفین ان معلومات تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ سکیورٹی کی خلاف ورزی کا علم ہوتے ہی متعلقہ مرکز نے فوری طور پر اس خامی کو دور کر دیا۔

چند روز قبل شائنی ہنٹرز نامی ہیکرز کے ایک گروپ نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے کے بھرتی کے پورٹل میں نفوذ کیا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے اس حوالے سے رپورٹ کیا کہ اس گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے سابق اہلکاروں اور ملازمت کے امیدواروں کے نام، گھروں کے پتے، فون نمبرز، ان کی اہلیہ کے نام، بعض طبی معلومات اور دیگر ڈیٹا حاصل کیا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ FBI نے اس ڈیٹا لیک کی تصدیق کرتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ نفوذ کا درست مقام کیا تھا اور آیا یہ سکیورٹی خلاف ورزی خود FBI کے نظام میں ہوئی یا کسی بیرونی ٹھیکیدار کے ذریعے ممکن ہوئی۔

نیویارک ٹائمز نے مزید انکشاف کیا کہ امریکی حکام اس سے قبل ایک ایسے ڈیٹا بیس میں چینی ہیکرز کی موجودگی کا بھی پتا لگا چکے تھے جو داخلی نگرانی کے احکامات سے متعلق تھا۔ یہ واقعہ امریکی ٹیلی کمیونیکیشن نیٹ ورکس میں ہونے والی سابقہ دراندازیوں کے بعد پیش آیا تھا۔

News ID 1941740

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha