29 اکتوبر، 2026، 6:28 PM

اقوام متحدہ، الزامات نہیں، حقائق کی بنیاد پر بات کریں، ایرانی سفیر کا امریکی نمائندے کو جواب

اقوام متحدہ، الزامات نہیں، حقائق کی بنیاد پر بات کریں، ایرانی سفیر کا امریکی نمائندے کو جواب

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر غلام حسین درزی نے امریکی نمائندے مائیک والٹز کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جارحانہ حملے کیے ہیں اور انہیں اپنے اقدامات کا جواب دینا ہوگا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور ناظم الامور غلام حسین درزی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے اختتام پر امریکی سفیر اور مستقل نمائندے مائیک والٹز کے دعوؤں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ امریکی نمائندہ ایران کے خلاف اپنے ملک کی کھلی جارحیت کے لیے کوئی معتبر دلیل یا جواز پیش نہیں کرسکا۔

درزی نے کہا کہ امریکی نمائندے نے اس کے بجائے ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کے بارے میں پرانے جھوٹ اور بے بنیاد الزامات دہرائے تاکہ حقائق کو چھپایا اور اپنی ذمہ داری سے بچا جاسکے۔

ایرانی سفیر نے زور دے کر کہا کہ بات الزامات کی بنیاد پر نہیں بلکہ حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حقائق واضح ہیں؛ امریکہ اور اسرائیلی حکومت نے ایران کے خلاف جارحانہ کارروائیاں کیں، جن میں ایران کی ان پُرامن جوہری تنصیبات پر بار بار فوجی حملے بھی شامل ہیں جو بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی اور حفاظتی انتظامات کے تحت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اس جنگ میں جارح نہیں بلکہ متاثرہ فریق ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل جارح ہیں۔ ان دونوں نے ایرانی عوام کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ رہائشی علاقوں، اسکولوں، اسپتالوں، پلوں، ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات، کھیلوں کے مراکز، ثقافتی ورثے کے مقامات، ریلوے نیٹ ورک اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔

درزی نے ایران کے خلاف حملوں میں شہید ہونے والے بچوں اور دیگر افراد کی تصاویر دکھاتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی پروپیگنڈا حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتا، ایرانی عوام کی تکالیف کو ختم نہیں کرسکتا اور نہ ہی ان اقدامات کے ذمہ داروں کو بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے بری کرسکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان ہولناک جرائم کے احکامات دینے، ان پر عمل کرنے یا ان کے ارتکاب کے لیے حالات فراہم کرنے والوں کو جواب دہ ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں استثنا دیا جائے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ امریکہ جارح اور ایران جارحیت کا شکار ہے؛ ان دونوں کی حیثیت کو کسی صورت ایک دوسرے سے تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق، امریکہ جارحیت کا ارتکاب کرکے، بڑی تعداد میں شہریوں کی ہلاکتوں کا سبب بننے کے بعد سلامتی کونسل کا غلط استعمال کرتے ہوئے خود کو متاثرہ فریق ظاہر نہیں کرسکتا۔

درزی نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیلی حکومت نے شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کے خلاف تباہ کن حملے کیے ہیں اور جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کو ایرانی عوام کے خلاف کیے گئے ان جرائم کا جلد یا بدیر جواب دینا ہوگا اور وہ اپنی ذمہ داری سے فرار نہیں ہوسکیں گے۔

News ID 1942456

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha