مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مقبوضہ علاقوں میں ہونے والے انتخابات کے ابتدائی نتائج اور انتخابی جائزوں سے قصاب غزہ کی قیادت میں برسراقتدار اتحاد کی بھاری شکست اور گادی آیزنکوت کو غاصب صیہونی حکومت کی نئی کابینہ تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپے جانے کے قوی امکان کی نشاندہی ہوتی ہے۔
چینل 12 سمیت مختلف ذرائعِ ابلاغ اور غاصب صیہونی حکومت کے ریڈیو و ٹیلی ویژن کی جانب سے صیہونی حکومت کے کنسٹ انتخابات کے ابتدائی نتائج جاری کیے جانے سے اہم تبدیلیوں اور صہیونیوں کے ووٹوں کے رجحان میں تبدیلی کا پتا چلتا ہے۔
ان رپورٹوں کے مطابق، اگرچہ قصاب غزہ کی قیادت میں لیکوڈ پارٹی 24 نشستیں حاصل کرکے اب بھی ایک بڑی جماعت کی حیثیت رکھتی ہے، تاہم اس کی سربراہی میں قائم اتحاد کو سنگین چیلنج اور ٹوٹ پھوٹ کا سامنا ہے۔
یاشار پارٹی نے 22 نشستیں اور نفتالی بینیٹ کی پارٹی نے 12 نشستیں حاصل کرکے ان جائزوں میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔
روزنامہ معاریو نے بھی رپورٹ دی ہے کہ اس حوالے سے اندازے بڑھ رہے ہیں کہ صیہونی حکومت کے صدر اسحاق ہرزوگ، گادی آیزنکوت کو اس حکومت میں کابینہ تشکیل دینے کا اختیار سونپنے کے لیے پہلی ترجیح کے طور پر نامزد کریں گے۔
غاصب اسرائیلی چینل 12 کے ابتدائی انتخابی جائزوں کے مطابق، گادی آیزنکوت کے اتحاد نے 52 نشستیں، طفل کش کے اتحاد نے 50 نشستیں اور عرب جماعتوں نے 18 نشستیں حاصل کی ہیں۔
واضح رہے دونوں بڑے اتحادوں میں سے کوئی بھی غاصب صیہونی حکومت کی 120 رکنی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے درکار 61 نشستیں حاصل نہیں کر سکا۔
آپ کا تبصرہ