مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوامِ متحدہ میں ایرانی سفیر غلام حسین درزی نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے اختتام پر امریکی مستقل نمائندے اور سفیر مائیک والٹز کے الزامات کے جواب میں کہا کہ امریکی نمائندہ ایران کے خلاف اپنے ملک کی کھلی جارحیت کے لیے کوئی دلیل یا قابلِ قبول جواز پیش کرنے میں ناکام رہا اور اس نے ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کے بارے میں بار بار دہرائے جانے والے جھوٹ اور بے بنیاد الزامات ہی کو دہرانے پر اکتفا کیا۔
درزی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بجائے، امریکی نمائندے نے حقائق اور حقیقت کو چھپانے اور ذمہ داری سے بچنے کے لیے ایران اور اس کے پُرامن جوہری پروگرام کے خلاف بار بار جھوٹ دہرانے اور بے بنیاد الزامات لگانے کا سہارا لیا۔
ایرانی سفیر اور ناظم الامور نے زور دیتے ہوئے کہا کہ آئیے! گھڑے ہوئے الزامات کی بنیاد پر نہیں، بلکہ حقائق کی بنیاد پر بات کریں۔ حقائق واضح ہیں؛ امریکہ اور صیہونی حکومت نے جارحانہ کارروائیاں کی ہیں، جن میں ایران کی پُرامن جوہری تنصیبات پر بار بار فوجی حملے بھی شامل ہیں۔ یہ تنصیبات بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے حفاظتی معاہدوں کے تحت ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اس جنگ کا شکار ہے، جارح نہیں۔ جارح امریکہ اور اسرائیل ہیں، جنہوں نے ایرانی عوام کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ رہائشی علاقوں، اسکولوں، اسپتالوں، پلوں، ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات، کھیلوں کے مراکز، ثقافتی ورثے کے مقامات، ریلوے کے نظام اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا اور ان پر حملے کیے گئے۔
درزی نے ایران کے خلاف جارحانہ حملوں میں شہید ہونے والے بچوں اور دیگر شہداء کی تصاویر دنیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے کہا کہ پروپیگنڈے کی کوئی بھی مقدار حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتی، ایرانی عوام کی تکالیف کو ختم نہیں کر سکتی اور نہ ہی ان اقدامات کے ذمہ داروں کو ان کی بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں سے بری کر سکتی ہے۔ جن لوگوں نے ان ہولناک جرائم کے احکامات دیے، انہیں انجام دیا یا ان کے ارتکاب کے لیے حالات فراہم کیے، انہیں جواب دہ ہونا چاہیے، نہ کہ انہیں استثنا دیا جائے۔
ایران کے سفیر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ جارح ہے اور ایران اس جارحیت کا شکار ہے۔ جارح اور مظلوم کے مقام کو کبھی ایک دوسرے سے تبدیل نہیں کیا جانا چاہیے۔ امریکہ جارحیت کا ارتکاب کرے، عام شہریوں کی بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کا سبب بنے اور پھر اسی کونسل (سلامتی کونسل) کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے خود کو مظلوم کے طور پر پیش نہیں کر سکتا۔
درزی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے صیہونی حکومت کے ساتھ مل کر عام شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچوں کے خلاف تباہ کن حملے کیے ہیں۔ انہوں نے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے اور جلد یا بدیر، ایرانی عوام کے خلاف ان تمام ہولناک جرائم کے لیے انہیں جواب دہ ہونا پڑے گا۔ وہ اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار نہیں کر سکتے۔
آپ کا تبصرہ