مہر خبررساں ایجنسی کی کے مطابق، اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا ہے کہ پاکستان ایران کے جوہری معاملے سے متعلق صورتِ حال پر تشویش رکھتا ہے، کیونکہ اس نے سلامتی کونسل پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
پاکستانی سفارت کار نے مزید کہا کہ ایک طرف گزشتہ چند ماہ کے دوران زمینی صورتِ حال کشیدہ اور خطرات سے پُر رہی ہے، تو دوسری طرف گہرے اختلافات کے باعث سلامتی کونسل میں اس معاملے پر اتفاقِ رائے ختم ہو گیا ہے۔ حالیہ واقعات کے تناظر میں، میں صورتِ حال کی حساسیت اور نازک کیفیت کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں اور کشیدگی میں اضافے کے خطرات کی یاد دہانی کروانا چاہتا ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کا سفارتی حل پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔ موجودہ تعطل کو ختم کرنے کے لیے تعاون کے جذبے، کثیرالجہتی اور باہمی افہام و تفہیم کو بحال کرنا ضروری ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ کونسل مشترکہ مقصد پر یکسوئی کے ساتھ اس معاملے کے پُرامن حل کی جانب قدم بڑھائے گی۔ پاکستان تمام فریقوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس معاملے میں تحمل کا مظاہرہ کریں، غیر ذمہ دارانہ اور استحکام کو نقصان پہنچانے والے بیانات دینے سے گریز کریں اور ایسی ہر بات سے دور رہیں جو کشیدگی دوبارہ بڑھنے کے خطرات میں اضافہ کرے، تاکہ سب کے لیے سلامتی اور استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔
پاکستان کے مستقل نمائندے نے مزید کہا کہ اسلام آباد تمام مسائل کو پُرامن طریقوں، سفارتی طریقۂ کار اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے اپنی بھرپور حمایت پر زور دیتا ہے۔ ہمیں ایران کے جوہری معاملے پر مذاکرات کی بنیاد پر ایسا حل اختیار کرنا چاہیے جو تمام متعلقہ فریقوں کے حقوق، فرائض اور ذمہ داریوں کے مطابق ہو؛ ایسا حل جس کے ذریعے عدم پھیلاؤ کے نظام کو برقرار رکھا جا سکے، جبکہ عالمی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو بھی یقینی بنایا جائے۔
آپ کا تبصرہ