28 اکتوبر، 2026، 8:58 AM

اقوام متحدہ، یکطرفہ پابندیاں اقتصادی دہشت گردی کے مترادف ہیں، ایرانی سفیر

اقوام متحدہ، یکطرفہ پابندیاں اقتصادی دہشت گردی کے مترادف ہیں، ایرانی سفیر

اقوام متحدہ میں ایران کے ناظم الامور غلام حسین درزی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے کیوبا پر چھ دہائیوں سے عائد اقتصادی پابندیاں اور ناکہ بندی اس ملک کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے ناظم الامور غلام حسین درزی نے کہا ہے کہ یکطرفہ پابندیاں اقتصادی دہشت گردی کے مترادف ہیں، جبکہ مسلح طاقت کے ذریعے ناکہ بندی کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت جارحیت کے زمرے میں آتا ہے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے درزی نے کہا کہ جنرل اسمبلی نے یہ 34ویں مرتبہ واضح کیا ہے کہ وہ یکطرفہ اقدامات، غیر ذمہ دارانہ خارجہ پالیسیوں اور ان جبری اقدامات کی سخت مخالف ہے جو ایسی حکومت کی جانب سے مسلط کیے جاتے ہیں جو خود کو بین الاقوامی قانون سے بالاتر سمجھتی ہے اور مسلسل اس کی سنگین خلاف ورزیاں کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یکطرفہ پابندیاں، جن میں بعض ممالک کی جانب سے اپنی مرضی سے عائد کی جانے والی پابندیاں بھی شامل ہیں، یکطرفہ طرز عمل اور جبر پر مبنی ہیں۔ یہ اقدامات کثیرالجہتی نظام کے لیے خطرہ، بین الاقوامی تعلقات کو غیر مستحکم اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کو کمزور کرتے ہیں۔

ایرانی سفارت کار کے مطابق، پابندیوں کو ہدف بنائے گئے ممالک کی اجتماعی سزا کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس سے امن کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں، ترقی کے حق کو نقصان پہنچتا ہے اور ایک منصفانہ، پُرامن اور مساوی بین الاقوامی نظام کے قیام کی کوششیں متاثر ہوتی ہیں۔

درزی نے کہا کہ کیوبا کے خلاف امریکہ کی چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط یکطرفہ پابندیاں اور ناکہ بندی ایک خودمختار ملک پر جبری دباؤ ڈالنے کی واضح مثال ہیں۔ ان اقدامات نے کیوبا کے عوام کو بڑے پیمانے پر مشکلات سے دوچار کیا، ان کے بنیادی انسانی حقوق کو نقصان پہنچایا اور ملک کی ترقی میں رکاوٹیں پیدا کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت کے فروغ کے نام نہاد دعوے کے تحت ان پابندیوں میں شدت پیدا کرنا، ان کے بیان کردہ مقاصد اور ان کے تباہ کن انسانی نتائج کے درمیان گہرے تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے بقول، اس طرز عمل میں جمہوریت کو فروغ دینے کے بجائے اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

درزی نے زور دیا کہ کسی بھی حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی آزاد اور خودمختار ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرے۔ ان کے مطابق، کسی بھی زاویے سے دیکھا جائے تو اقتصادی جنگ سمیت اس نوعیت کی پالیسیاں اور اقدامات غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر انسانی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ کئی دہائیوں سے جاری غیر قانونی اور غیر انسانی ناکہ بندی فوری طور پر ختم کی جائے، اسے مسلط کرنے والی حکومت کیوبا کے عوام کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا مکمل ازالہ کرے اور ان پالیسیوں کو جاری رکھنے میں ملوث تمام افراد کو جواب دہ ٹھہرایا جائے۔

ایرانی ناظم الامور نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران خود بھی جارحیت اور امریکہ کے اقتصادی دباؤ اور ناکہ بندیوں کے نتائج کا سامنا کر چکا ہے، اس لیے وہ ایک بار پھر کیوبا سمیت تمام آزاد اور خودمختار ممالک کے خلاف کسی بھی قسم کی پابندیوں کی واضح اور دوٹوک مخالفت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی پابندیوں سے عام شہری متاثر ہوتے ہیں، بالخصوص خواتین، بچوں اور بزرگوں کی صحت، سلامتی اور فلاح و بہبود کو نقصان پہنچتا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ اقدامات ترقی کی راہ میں سنگین رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں، حالانکہ انسانی حقوق سے مکمل استفادے کے لیے ترقی ناگزیر ہے۔

درزی نے مزید کہا کہ کسی قوم کے انسانی حقوق کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے نام پر درحقیقت اسی قوم کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ یہ انسانی حقوق کا دفاع نہیں بلکہ کھلا دوہرا معیار اور منافقت ہے۔

News ID 1942426

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha