26 اگست، 2026، 9:19 AM

اقوام متحدہ، رکن ممالک امریکہ کے یکطرفہ جبری اقدامات کو مسترد اور مذمت کریں، ایرانی سفیر

اقوام متحدہ، رکن ممالک امریکہ کے یکطرفہ جبری اقدامات کو مسترد اور مذمت کریں، ایرانی سفیر

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے ایران کی بحری ناکہ بندی اور بین الاقوامی پانیوں میں ایرانی تجارتی جہازوں پر حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے تمام ممالک سے امریکی اقدامات کو مسترد اور مذمت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور مستقل نمائندے کے نائب غلام حسین درزی نے ایران کے خلاف امریکی سمندری محاصرے اور اقتصادی پابندیوں کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے درزی نے کہا ہے کہ مسلح تنازعات دنیا میں بھوک اور غذائی عدم تحفظ کے بنیادی عوامل میں شامل ہیں اور ان کے بنیادی اسباب سے نمٹے بغیر اس بحران کا حل ممکن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلح تنازعات کے ساتھ ساتھ جارحیت، قبضہ، غیرقانونی جبری اقدامات اور شہری بنیادی ڈھانچے کی دانستہ تباہی بھی بھوک اور غذائی عدم تحفظ کی بنیادی وجوہات میں شامل ہیں۔

انہوں نے 2018 میں سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد 2417 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قرارداد میں شہریوں کو جنگ کے ایک طریقے کے طور پر بھوکا رکھنے اور انسانی امداد تک رسائی روکنے کی مذمت کی گئی ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے اعلی سفارت کار نے غزہ کی صورت حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے دوران بین الاقوامی انسانی قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔

ان کے مطابق ان خلاف ورزیوں میں شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا، بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا اور انسانی امداد کی فراہمی میں منظم رکاوٹیں پیدا کرنا شامل ہے۔

درزی نے کہا کہ ان جرائم کے وسیع پیمانے کے باوجود سلامتی کونسل متعدد مرتبہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے اور ذمہ داروں کا احتساب یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے، جس کی بڑی وجہ امریکہ کی سیاسی حمایت اور رکاوٹیں ہیں۔

ایرانی سفیر نے خبردار کیا کہ اس وقت پورے بین الاقوامی قانونی نظام کی سالمیت خطرے میں ہے۔ اگر ایسے غیرقانونی اقدامات کو بغیر کسی چیلنج کے جاری رہنے دیا گیا تو یہ ایک خطرناک مثال قائم کرسکتے ہیں۔

درزی نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ ان یکطرفہ جبری اقدامات کو واضح اور دوٹوک انداز میں مسترد اور مذمت کرے جن کا مقصد خودمختار ممالک کو ان کے جائز اقتصادی مفادات اور خارجہ تعلقات تبدیل کرنے پر مجبور کرنا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکہ کی جانب سے یکطرفہ جبری اقدامات کے ماورائے سرحدی اطلاق کو مسترد اور اس کی مذمت کریں۔ امریکہ کی جانب سے یہ اقدامات دیگر ممالک کو اپنی پالیسیوں کی پیروی کرنے اور ان کے خودمختار حقوق و قانونی پالیسیوں سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنے کے لیے کیے جارہے ہیں۔

درزی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے حقوق کے حصول، نقصانات کے ازالے، ذمہ داروں کے احتساب اور جوابدہی یقینی بنانے کے لیے دستیاب تمام ذرائع استعمال کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ساحلی ملک کی حیثیت سے ایران کو بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی سرزمین اور خودمختاری کے خلاف جارحیت کے جواب میں ضروری اقدامات کرنے کا قانونی حق حاصل ہے۔ اس کے برخلاف کیے جانے والے دعووں کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

درزی نے کہا کہ خطے میں امن، استحکام اور محفوظ بحری آمدورفت کی بحالی کا واحد پائیدار راستہ جارحیت کا خاتمہ، ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام، غیرقانونی بحری ناکہ بندی اور یکطرفہ جبری اقدامات کا خاتمہ اور مستقبل میں کسی بھی جارحیت کی تکرار روکنے کے لیے قابل اعتماد ضمانتوں کی فراہمی ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے اپنے خطاب کے اختتام پر بعض ممالک کی جانب سے ایران پر آبنائے ہرمز کے اندر اور اطراف میں تجارت اور بحری آمدورفت متاثر کرنے کے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا۔ یہ بے بنیاد الزامات موجودہ بحران کی بنیادی وجوہات پر توجہ دینے کے بجائے ایران کے خلاف غیرقانونی جارحیت اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں کو دانستہ طور پر نظرانداز کرتے ہیں۔

News ID 1940886

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha