مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ 47 ملین امریکی خوراک کی کمی کا شکار ہيں اور یہ بات ٹرمپ کے دعوؤں کی طرح جعلی نہیں اور ان حقائق کے مطابق ہر 8 میں سے ایک امریکی شہری خوراک کی کمی کا شکار ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران میں اسلامی جمہوریہ کا نظام ختم کرنے اور مغربی ایشیا و عالمِ اسلام میں اپنی بالادستی قائم کرنے کے لیے جنگ چھیڑی، تاہم اسے واضح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔
عراق کی سپریم جوڈیشل کونسل کے صدر فائق زیدان سے تہران میں ملاقات کے دوران قالیباف نے کہا کہ ایرانی شہداء کی قربانیوں، عوام کی مزاحمت اور مزاحمتی محاذ کی حمایت کے باعث امریکا اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا اور دنیا اس حقیقت سے آگاہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا فوجی اور سیاسی محاذ پر ناکام ہو چکا ہے اور ایران کے خلاف اقتصادی اقدامات میں بھی اسے کامیابی نہیں ملے گی۔
ایرانی اسپیکر کا کہنا تھا کہ خطے میں ایک نیا علاقائی نظام تشکیل پا رہا ہے اور موجودہ حالات ایران اور عراق دونوں کے لیے نہایت حساس اور تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ انہوں نے عراق سے امریکی اتحاد کی افواج کے انخلا کو عراقی حکومت اور عوام کی ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ انخلا مکمل طور پر عملی شکل اختیار کرے گا۔
قالیباف نے کہا کہ وہ خطے کے دیگر ممالک تک تنازع پھیلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اگر اسرائیل ایران کے خلاف اپنے مقاصد میں کامیاب ہو جاتا تو اس کے بعد دیگر ممالک کو نشانہ بناتا۔
انہوں نے مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ اختلافی مسائل کو پسِ پشت ڈال کر اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ قالیباف نے کہا کہ غزہ جنگ کے دوران دنیا نے دیکھا کہ شیعہ مسلمانوں نے فلسطینی عوام کا ساتھ دیا، جبکہ شہید قاسم سلیمانی ہمیشہ شیعہ اور سنی مسلمانوں کو بھائی قرار دیتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور عراق نئے علاقائی نظام کی تشکیل، خصوصاً خلیج فارس کے خطے میں، فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ