مہر خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہان شاہی نے ملک کے شمال مشرقی سرحدی علاقوں کے دورے، جنگی تیاریوں، دفاعی صلاحیت اور سرحدوں پر فوجی یونٹوں کی تعیناتی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بری فوج مکمل انٹیلی جنس نگرانی کی صلاحیت کے ساتھ سرحد پار دشمن کی تمام سرگرمیوں پر شب و روز نظر رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس مکمل انٹیلی جنس نگرانی کے باعث دشمن کی زمینی جنگ سے متعلق آپریشنل منصوبہ بندی کو کسی مؤثر کاروائی سے پہلے ہی شناخت کرکے ناکام بنا دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں دشمن اسلامی جمہوریہ ایران کی سرحدوں کے قریب اپنے مقاصد کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
ایرانی بری فوج کے کمانڈر نے شمال مشرقی سرحدوں پر فوجی یونٹوں کی اعلیٰ سطح کی تیاریوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سرحدوں پر متحرک حملہ آور اور فوری ردِعمل دینے والے یونٹوں کی تعیناتی، مسلح افواج کی ہمہ جہت تیاری کے ساتھ مل کر دشمن کے خطرات کے مقابلے میں مؤثر قوت پیدا کر رہی ہے۔
بریگیڈیئر جنرل جہان شاہی نے مزید کہا کہ آج ملک کی سرحدوں پر بری فوج کے تمام یونٹوں کی صلاحیتیں اور وسائل امن و سلامتی کے قیام، اسلامی جمہوریہ ایران کی سرحدوں کے تحفظ اور ہر قسم کے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے وقف ہیں اور ہم کسی دشمن کو ایران کے سرحدی علاقوں میں آباد عزیز شہریوں اور ایرانی عوام کے امن و سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے۔
انہوں نے حالیہ مسلط کردہ جنگ کے دوران ڈرون کے شعبے میں بری فوج کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بری فوج نے ڈرون ٹیکنالوجی کے میدان میں قابلِ قدر کامیابیاں حاصل کی ہیں اور حالیہ جنگ کے دوران بھی ’’آرش‘‘ حملہ آور ڈرونز کے ذریعے خطے میں امریکی افواج کے اہداف اور اڈوں کو درست نشانہ بنایا گیا۔
بری فوج کے کمانڈر نے سرحد پار موجود ان تکفیری گروہوں اور مخالف عناصر کو بھی خبردار کیا جو ملک کی سرحدوں کے قریب بدامنی اور دہشت گردانہ کاروائیاں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی سرحدوں کے خلاف کسی بھی قسم کی نقل و حرکت، شرپسندی یا کاروائی کا فیصلہ کن اور دندان شکن جواب دیا جائے گا۔
بریگیڈیئر جنرل جہان شاہی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی جارحیت یا تجاوز کی صورت میں ملک کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کے تمام ٹھکانے اور اڈے بری فوج کی ڈرون اور توپ خانے کی صلاحیتوں کی زد میں ہوں گے اور کسی بھی خطرے کے جواب میں مسلح افواج کا ردِعمل تیز، درست اور دشمن کو پشیمان کرنے والا ہوگا۔
انہوں نے بری فوج کے یونٹوں کو جدید ہتھیاروں اور دفاعی سازوسامان سے لیس کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج بری فوج اپنی اعلیٰ ترین جنگی تیاری کی سطح پر ہے اور جدید آلات و ہتھیاروں سے استفادہ کرتے ہوئے ہر قسم کے خطرے کے مطابق دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے مخصوص عملی منصوبہ اور حکمتِ عملی رکھتی ہے۔
ایرانی بری فوج کے کمانڈر نے آخر میں زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی سرحدیں مسلح افواج کی ریڈ لائن ہیں اور ایران کی مقدس سرزمین کے خلاف کسی بھی جارحیت اور تجاوز کا پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ