مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: علاقائی اسٹریٹجک امور کے معروف تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ کا فوجی آپشن اپنے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوچکا ہے اور اب واشنگٹن کی جانب سے اقتصادی محاصرے اور پابندیوں کی حکمت عملی بھی کامیاب نہیں ہوگی۔
عطوان نے ایک مضمون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف اقتصادی محاصرے اور پابندیوں کی حکمت عملی کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا کہ پابندیوں کا حجم خواہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو، اس حکمت عملی کا انتخاب اس بات کا اعتراف ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران اختیار کیا گیا فوجی آپشن اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔
صہیونی حکومت کی گمراہ کن معلومات اور ٹرمپ کے غلط اندازے
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ اسرائیلی حکومت کی جانب سے فراہم کردہ گمراہ کن اور زہریلی معلومات، غرور اور غلط اندازوں کے جال میں پھنس گئے اور انہوں نے ایران کی سیاسی و فوجی صلاحیتوں، عوامی حمایت اور جنگ کے دوران اس کی غیر معمولی حکمت عملی کو نظر انداز کیا۔ ایران نے اپنی فوجی، سیاسی اور سفارتی طاقت کے مختلف ذرائع کو انتہائی مہارت، دانش مندی اور غیر معمولی انداز میں استعمال کیا۔
عطوان کے مطابق ٹرمپ اب اپنے سیاسی وجود کو برقرار رکھنے اور ایسی کسی بھی کامیابی کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جو انہیں موجودہ بحران سے نکال سکے، لیکن اسرائیل کی جانب سے پیدا کیے گئے اس گہرے بحران سے نکلنے کے امکانات انتہائی کم بلکہ شاید ناممکن دکھائی دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح امریکہ کی فوجی طاقت اپنے تمام تر وسائل کے باوجود ایران کے خلاف اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی، اسی طرح اقتصادی محاصرہ بھی ناکام ہوگا اور ممکن ہے کہ اس کی ناکامی فوجی آپشن سے بھی زیادہ بڑی ہو۔
ایران کو قحطی میں مبتلا کرنا ناممکن
عطوان نے ایران کی جغرافیائی اور انسانی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران تقریبا ایک براعظم کے حجم کا ملک ہے، اس کا رقبہ تقریباً 20 لاکھ مربع کلومیٹر ہے، اس کی زمینیں زرخیز ہیں اور اس کی آبادی 9 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ ہے۔ ان حالات میں ایرانی عوام کو بھوک کا شکار کرنا آسان نہیں ہوگا۔
عرب تجزیہ کار نے مزید کہا کہ چین، روس اور خلیج فارس کے بیشتر ممالک ایران کے محاصرے سے متعلق ٹرمپ کے مطالبے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق مکہ میں جلد بازی میں تشکیل پانے والا تین ملکی اتحاد دراصل خلیجی عرب ممالک کی اس مایوسی کا نتیجہ تھا کہ امریکی فوجی اڈے، جن پر وہ بھاری اخراجات کرتے ہیں، ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے مقابلے میں انہیں مطلوبہ تحفظ فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔
ممکنہ جنگ اور ایران کی تیاری
عطوان نے خبردار کیا کہ اگر ٹرمپ دوبارہ ناکام ہوچکے فوجی آپشن کی طرف واپسی کو خارج نہیں کرتے تو ایران بھی اس مرحلے کے لیے پوری طرح تیار ہو رہا ہے اور ممکن ہے کہ وہ خود اس مرحلے کا آغاز کرے، کیونکہ ایرانی کمانڈروں کے بیانات بھی اسی حقیقت کی تائید کرتے ہیں۔
انہوں نے ایرانی عسکری قیادت کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنرل احمد وحیدی نے تمام سطحوں پر دفاعی اور جارحانہ صنعتوں کی پیداوار کو مزید مضبوط بنانے، ملک کی فوجی تیاری کی سطح بلند کرنے اور اس کی ضرب لگانے والی صلاحیتوں کو تقویت دینے پر زور دیا ہے۔
عطوان کے مطابق ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے بھی امریکہ اور اس کے صدر کو خبردار کیا ہے کہ دشمن کی جانب سے کسی بھی غلط اندازے کا سامنا انقلابی، شدید، فیصلہ کن اور تباہ کن جواب سے ہوگا۔
انہوں نے سپاہ پاسداران کے ترجمان جنرل حسین محبی کے بیان کا بھی حوالہ دیا، جنہوں نے دشمنوں کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی میزائلوں کے وار ہیڈز کی کارکردگی، ان کی رینج اور اہداف کو نشانہ بنانے کی درستگی کے حوالے سے بڑی حیرت انگیز صلاحیتیں سامنے آنے والی ہیں، جو مستقبل کی فوجی جھڑپوں میں ظاہر ہوں گی۔
جنگ میں ایرانی عوام کی بے مثال استقامت
عطوان نے اپنے مضمون کے اختتام پر کہا کہ وسیع پیمانے پر امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں ایرانی عوام کی ثابت قدمی کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ ایرانی اپنے دعووں کو عملی جامہ پہناتے ہیں اور دشمن کو شکست سے دوچار کرتے ہیں۔ آنے والے دن بھی نئی کامیابیوں کے ذریعے اس حقیقت کی مزید تصدیق کریں گے۔
آپ کا تبصرہ