23 اگست، 2026، 7:54 AM

امریکی وعدہ خلافی کے بعد ایران کے سفارتی رویے میں اصلاحات ضروری ہیں، محسن رضائی

امریکی وعدہ خلافی کے بعد ایران کے سفارتی رویے میں اصلاحات ضروری ہیں، محسن رضائی

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکی وعدہ خلافی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے ساتھ ایران کے سفارتی رویے میں اصلاحات اور تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل محسن رضائی نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے مذاکرات میں کیے گئے وعدوں سے انحراف کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتی رویے میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے قومی ٹیلی ویژن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ کئی ادوار کے مذاکرات اور امریکیوں کی وعدہ خلافی کے بعد دنیا کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتی رویے میں اصلاحات کی جانی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی دفاعی حکمت عملیوں میں تبدیلی آئی ہے اور حالیہ امریکی جارحیت سمیت دوسری مسلط کردہ جنگ کے بعد ایران نے دفاعی اور سیاسی شعبوں میں مسلسل اپنی حکمت عملیوں کو ترقی دی ہے۔

محسن رضائی کے مطابق آج کا ایران جنگ سے پہلے والا ایران نہیں ہے۔ اسی طرح ایرانی عوام اور بالخصوص نوجوانوں کے ذہنوں میں امریکا کا پرامن ملک کا تصور بھی ختم ہوچکا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے برعکس آج پوری دنیا ایران کو ایک نئے زاویے سے دیکھ رہی ہے۔ متعدد مذاکرات اور امریکی وعدہ خلافی کے بعد دنیا کے ساتھ ایران کے سفارتی رویے میں بھی تبدیلی اور اصلاحات ضروری ہیں۔

سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری نے آئندہ جنگ کے طریقہ کار میں یقینی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے تمام تجربات کو مستقبل کی جنگ میں استعمال کیا جائے گا اور آئندہ جنگ گذشتہ جنگ سے یقینی طور پر مختلف ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ جنگ کے طریقہ کار اور اس کے انتظام کے حوالے سے بھی تبدیلیاں کی جائیں گی، کیونکہ امریکیوں نے مذاکرات، سفارت کاری اور اپنے دستخط سے کیے گئے وعدوں میں خیانت کی۔

محسن رضائی نے حالیہ کامیابیوں میں قومی اتحاد کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے مقابلے میں ایرانی قوم کے اتحاد کا اثر میزائل لانچروں سے کم نہیں ہے۔

News ID 1940811

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha