22 اگست، 2026، 3:46 PM

یو ایس ایس لینکلن کو درپیش مشکلات کی رپورٹ پر امریکی دفاعی جریدے کے خلاف کاروائی

یو ایس ایس لینکلن کو درپیش مشکلات کی رپورٹ پر امریکی دفاعی جریدے کے خلاف کاروائی

پینٹاگون نے یو ایس ایس ابراہام لینکن کے عملے کے حالات سے متعلق خبر شائع کرنے پر اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کے ناشر، ایڈیٹر اور رپورٹر کے خلاف کارروائی کی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے دفاعی نشریے اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کے ناشر اور مدیر کو ایک رپورٹ شائع کرنے کے بعد عہدوں سے ہٹا دیا ہے، جس میں طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لینکن کے عملے کو درپیش حالات اور صحت سے متعلق خدشات کا ذکر کیا گیا تھا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کے مطابق پینٹاگون نے اس جریدے کے ناشر میکس لیڈرر اور چیف ایڈیٹر ایرک اسلاوین کو برطرفی کے نوٹس جاری کیے ہیں۔ دونوں کو کارروائی کے خلاف اپیل کے لیے پانچ دن کی مہلت دی گئی ہے۔ پنتاگون نے برطرفی کی وجہ نافرمانی قرار دی ہے۔

ایرک اسلاوین نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ان کے خلاف نافرمانی کا الزام اس لیے لگایا گیا کیونکہ انہوں نے سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ فوجی اہلکاروں سے متعلق خبروں کی ممکنہ سنسرشپ ان کے لیے ناقابل قبول ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وہ اب بھی اس مؤقف پر قائم ہیں کہ اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کو اپنی صحافتی آزادی برقرار رکھنی چاہیے۔

اسی دوران اس جریدے کی رپورٹر لارا کورٹے نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انہیں بھی نافرمانی کے الزام میں برطرف کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس سے قبل سی بی ایس کو بتایا تھا کہ اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کے لیے کام کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پینٹاگون کسی حکومت یا کسی سیاست دان کے لیے کام کر رہی ہیں۔

کورٹے نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ یہ صورتحال اس ادارے اور ان امریکی فوجیوں کے لیے افسوسناک ہے جنہوں نے آئین کے دفاع کا حلف اٹھایا ہے اور جو آزاد و خودمختار صحافت کے حق دار ہیں۔

یہ کارروائی اس رپورٹ کی اشاعت کے چند دن بعد سامنے آئی جس میں یو ایس ایس ابراہام لینکن کے عملے کو درپیش مشکلات کا ذکر کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق طویل عرصے تک جاری رہنے والی تعیناتی کے باعث جہاز کے عملے کی ذہنی اور جسمانی صحت سے متعلق خدشات پیدا ہوئے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ یہ طیارہ بردار جہاز مغربی ایشیا میں ایک طویل مشن، جسے ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کے تناظر میں دیکھا گیا، مکمل کرنے کے بعد سان ڈیاگو کی بندرگاہ کی طرف روانہ تھا۔

یہ خبر 12 اگست کو شائع ہوئی، اسی روز امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی اسی موضوع پر ایک رپورٹ جاری کی تھی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بعد میں لینکن کے عملے کی صورتحال پر اٹھائے گئے خدشات کو جزوی طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس جہاز کے عملے کی تعیناتی کا دورانیہ اتنا بھی طویل نہیں تھا۔

ذرائع کے مطابق پینٹاگون میں ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں میڈیا اداروں کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ پنتاگون نے بعض صحافیوں کی رسائی محدود کی اور انہیں خفیہ ذرائع سے معلومات حاصل کرنے سے گریز کرنے کی ہدایت دی۔

اس صورتحال کے نتیجے میں بعض صحافیوں نے پینٹاگون کے پریس کارڈ واپس کر دیے، جس کے بعد دفاعی ادارے میں دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے میڈیا اداروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

News ID 1940806

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha