مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: غاصب صیہونی حکومت کو گزشتہ برسوں میں پہلے سے کہیں زیادہ ایک بنیادی تضاد کا سامنا ہے؛ ایک طرف اسے خطے کی طاقتور ترین افواج میں سے ایک اور امریکہ کی وسیع حمایت حاصل ہے، جبکہ دوسری جانب وہ اپنی فوجی طاقت کو پائیدار سیاسی اور تزویراتی کامیابی میں تبدیل کرنے میں سنگین مشکلات سے دوچار ہے۔ تل ابیب نے کئی محاذوں پر بڑے پیمانے پر کاروائیاں کیں، لیکن ان میں سے کسی بھی تنازعے کا اختتام وہ سلامتی اور استحکام پیدا نہیں کر سکا جس کا اسرائیلی رہنماؤں نے وعدہ کیا تھا۔
یہ صورتحال بالخصوص 7 اکتوبر کے بعد زیادہ نمایاں ہوئی۔ اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کا حملہ اسرائیل کے لیے نہ صرف ایک بڑی سکیورٹی اور انٹیلی جنس ناکامی تھی؛ بلکہ اس تصور کو بھی چیلنج کرتا تھا جو تل ابیب نے اپنے اردگرد کے سکیورٹی ماحول پر کنٹرول کے حوالے سے قائم کر رکھا تھا۔ اس کے بعد غاصب اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کاروائی شروع کی، لیکن وسیع فوجی آپریشن کے باوجود وہ اب تک غزہ کے مسئلے کو کسی پائیدار سیاسی حل میں تبدیل نہیں کر سکا۔
مزاحمت کا برقرار رہنا اور تل ابیب کی خواہش کے مطابق سیاسی نظام قائم کرنے میں ناکامی ظاہر کرتی ہے کہ کسی پیچیدہ بحران کے حل کے لیے محض فوجی طاقت کافی نہیں۔
شمالی محاذ پر بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔ غاصب اسرائیل نے برسوں سے حزب اللہ کے خطرے کو محدود کرنے اور اس کی فوجی صلاحیت کم کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن لبنان کے حالات نے ظاہر کیا ہے کہ ایسے خطرے کو صرف فوجی کاروائی کے ذریعے ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ حتیٰ کہ کسی گروہ کے بنیادی ڈھانچے اور قیادت کو شدید نقصان پہنچانے کی صورت میں بھی سیاسی، سماجی اور علاقائی عوامل اس کی صلاحیتوں کی دوبارہ بحالی کی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ اسی لیے غاصب اسرائیل ایک بار پھر اسی مسئلے سے دوچار ہے جس کا اسے غزہ میں سامنا ہے: جارحیت کرنے کی صلاحیت اور بحران ختم کرنے کی صلاحیت ایک جیسی نہیں۔
ایران کے ساتھ محاذ آرائی نے بھی اس خلا کو نمایاں کیا ہے۔ غاصب اسرائیل نے گزشتہ برسوں میں فوجی اور سکیورٹی کاروائیوں کے ذریعے ایران کی تزویراتی صلاحیتوں کو محدود کرنے کی متعدد کوششیں کی ہیں، لیکن یہ اقدامات ایران کے مسئلے کو خطے کے سکیورٹی معاملات سے خارج نہیں کر سکے۔ حتیٰ کہ اگر تل ابیب اپنے بعض فوجی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو بھی جائے، تب بھی علاقائی توازن تبدیل کرنا اور ایک پائیدار صورتحال پیدا کرنا کہیں زیادہ پیچیدہ مسئلہ ہے۔ درحقیقت، تنازع جتنا وسیع ہوتا جا رہا ہے، اتنا ہی واضح ہو رہا ہے کہ ’’جارحیت کرنے‘‘ اور ’’فتح حاصل کرنے‘‘ کے درمیان خاصا فرق ہے۔
غاصب اسرائیل کا مسئلہ صرف فوجی میدان تک محدود نہیں۔ طویل جنگوں، معاشی دباؤ، سیاسی اختلافات اور سماجی تقسیم نے غاصب صیہونی معاشرے کو بھی دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ حالیہ بحرانوں کے آغاز سے ہی نیتن یاہو کی حکومت کو وسیع سیاسی اختلافات کا سامنا رہا ہے اور حکومتی کارکردگی، جنگ کے انتظام اور 7 اکتوبر کی سکیورٹی ناکامی کی ذمہ داری کے حوالے سے تنازع اب بھی جاری ہے۔ اس صورتحال نے اس تصور کو کمزور کر دیا ہے جو اسرائیل کئی برسوں سے ایک متحد، مستحکم اور انٹیلی جنس و سکیورٹی برتری رکھنے والے معاشرے کے طور پر پیش کرتا رہا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر بھی تل ابیب کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اگرچہ اسرائیل کو اب بھی امریکہ کی قابلِ ذکر حمایت حاصل ہے، لیکن تنازعات کے طول پکڑنے اور بین الاقوامی تنقید میں اضافے نے اس حکومت کے اقدامات کی سیاست کو شدید متاثر کیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ غاصب اسرائیل کو اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے صرف فوجی طاقت ہی نہیں، بلکہ سیاسی جواز، بیرونی حمایت اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو سنبھالنے کی صلاحیت بھی درکار ہے۔ جنگوں کا طویل ہونا بالآخر ان تینوں شعبوں پر دباؤ کا باعث بنا ہے۔
ایسے حالات میں صیہونی مصنف اور مورخ یووال نوح ہراری کے بیانات زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے ہیں۔ ہراری نے روزنامہ یدیعوت آحارونوت میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں حالیہ ناکامیوں کے ایک حصے کا ذمہ دار بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو قرار دیا اور گزشتہ چار برسوں کو صیہونی حکومت کی تاریخ کے خطرناک ترین ادوار میں سے ایک قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ 7 اکتوبر سے قبل موجود خطرات کے حوالے سے سکیورٹی اداروں کی تنبیہات کو نظرانداز کیا گیا اور نیتن یاہو کی حکومت اپنی داخلی سیاسی ترجیحات میں الجھی رہی۔
ہراری نے صرف 7 اکتوبر سے قبل کی ناکامی پر بات نہیں کی ہے؛ بلکہ اس کے بعد جنگ کے انتظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل نے بعض فوجی کاروائیوں میں کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن وہ ان کامیابیوں کو پائیدار سیاسی اور تزویراتی کامیابی میں تبدیل نہیں کر سکا۔ آخر میں انہوں نے انتہائی سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے اسرائیلی قیادت کی صورتحال کو ’’شیروں کی ایسی قیادت‘‘ سے تشبیہ دی ہے ’’جن کی قیادت گدھے کر رہے ہوں۔‘‘
ان بیانات کی اہمیت اس بات میں ہے کہ ایسی تنقید اب صرف غاصب اسرائیل کے بیرونی مخالفین کی جانب سے نہیں کی جا رہی، بلکہ خود اس معاشرے اور اس کے فکری حلقوں میں بھی تنقید کی آواز بلند ہو رہی ہے۔ درحقیقت، ہراری جس مسئلے کی جانب اشارہ کرتے ہیں، وہ کسی ایک فرد کی کمزوری یا صرف نیتن یاہو سے متعلق مسئلہ نہیں، بلکہ اسرائیل میں تزویراتی فیصلہ سازی کے معیار کے حوالے سے ایک بڑا سوال ہے۔
آج اسرائیل کو ایک سنگین تضاد کا سامنا ہے: اس حکومت کی فوجی صلاحیت اب بھی بلند ہے، لیکن اس طاقت کو اپنی مطلوبہ سیاسی صورتحال میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کم ہو گئی ہے۔ تل ابیب تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور فوجی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے، لیکن محض فوجی کاروائی کے ذریعے کسی سیاسی یا سکیورٹی بحران کی جڑیں ختم نہیں کر سکتا۔ غزہ، لبنان اور ایران کے ساتھ محاذ آرائی کے تجربات، ہر ایک مختلف انداز میں، اسی حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں۔
اس نقطۂ نظر سے غاصب اسرائیل کی ناکامی کو صرف کاروائیوں کی تعداد یا مخالف فریق کو پہنچنے والے نقصان کی مقدار سے نہیں جانچنا چاہیے۔ زیادہ اہم معیار یہ ہے کہ اتنے بڑے پیمانے پر فوجی اور سیاسی وسائل صرف کرنے کے بعد غاصب اسرائیل اپنے تزویراتی اہداف کے کتنے قریب پہنچا ہے۔ اگر مقصد پائیدار سلامتی کا قیام، بنیادی خطرات کا خاتمہ، علاقائی حریفوں کے اثر و رسوخ کے پھیلاؤ کو روکنا اور داخلی اتحاد برقرار رکھنا ہے تو گزشتہ برسوں کی کارکردگی کم از کم یہ ظاہر کرتی ہے کہ تل ابیب اب بھی ان اہداف کے ایک اہم حصے کو حاصل نہیں کر سکا۔
اسی لیے غاصب اسرائیل کا موجودہ بحران فوجی طاقت کے بحران سے زیادہ، طاقت کو نتیجے میں تبدیل کرنے کا بحران ہے۔ جو حکومت فوجی برتری رکھتی ہو، لیکن جنگ کو امن، کاروائی کو حکمتِ عملی اور عارضی کامیابیوں کو پائیدار سلامتی میں تبدیل نہ کر سکے، اسے میدانِ جنگ کی ایک شکست سے کہیں بڑے مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شاید ہراری کی گفتگو کا سب سے اہم پہلو بھی یہی ہے؛ غاصب اسرائیل کا مسئلہ صرف وہ دشمن نہیں جو اس کے گرد موجود ہیں، بلکہ بحران کا ایک حصہ اس فیصلہ سازی اور انتظامی طریقہء کار سے بھی متعلق ہے جس کے ذریعے ان دشمنوں کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ