16 ستمبر، 2026، 6:42 PM

ایرانی وزیر خارجہ کا دورۂ چین؛ ایران-چین تعلقات رہنماؤں کی ہدایت پر اسٹریٹجک سطح پر آگے بڑھ رہے ہیں

ایرانی وزیر خارجہ کا دورۂ چین؛ ایران-چین تعلقات رہنماؤں کی ہدایت پر اسٹریٹجک سطح پر آگے بڑھ رہے ہیں

ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ایران اور چین کے تعلقات دونوں ممالک کے رہنماؤں کی خواہش اور باہمی سیاسی اعتماد کے تحت اسٹریٹجک سطح پر آگے بڑھ رہے ہیں اور تہران مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے اور مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر سید عباس عراقچی ایک سفارتی وفد کی سربراہی میں بیجنگ کے دورے پر ہیں؛ جہاں انہوں نے چین کی حکمراں جماعت کے خارجہ امور کمیشن کے سیکریٹری اور وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی۔

عراقچی نے ایران اور چین کے درمیان دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے چین کو ایران کا قریبی دوست اور اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیا۔
انہوں نے باہمی احترام اور اعتماد کی بنیاد پر جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے دائرے میں تہران اور بیجنگ کے دوستانہ و اسٹریٹجک تعلقات کو تمام شعبوں میں فروغ دینے کے لیے ایرانی حکومت کے پختہ عزم پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات باہمی رہنماؤں کی خواہش اور موجودہ سیاسی اعتماد کی بنیاد پر اسٹریٹجک سطح پر آگے بڑھ رہے ہیں اور تہران مختلف شعبوں میں ان تعلقات کو فروغ دینے اور مضبوط بنانے کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔

عراقچی نے خطے کی موجودہ صورتحال کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف امریکہ اور غاصب صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کی جدوجہد، مزاحمت اور استقامت کے باعث جارح قوتیں اپنے ناجائز مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے خلاف ورزی کی مذمت میں چین کے اصولی مؤقف اور سلامتی کونسل کے امریکہ کی جانب سے غلط استعمال کے حوالے سے چین کے ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو سراہا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنی قومی خودمختاری، ملکی سالمیت، سلامتی اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم وہ ایسے سفارتی حل کا خیرمقدم کرتا ہے جو ایرانی عوام کے حقوق کو یقینی بنائے۔

عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جارحانہ جنگ کے بعد خطے کی صورتحال میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں۔ نئے علاقائی نظام میں، جو خطے کے ممالک کے درمیان مذاکرات اور تعاون کے ساتھ تشکیل پائے گا، غیر ملکی طاقتوں کی موجودگی اور مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔

انہوں نے امریکی فریق کی جانب سے بار بار وعدوں کی خلاف ورزی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد مفاہمت پر دستخط کے تین ہفتے سے بھی کم عرصے بعد اس کی خلاف ورزی اور اس پر عمل درآمد روک دیا گیا۔ 

عراقچی نے کہا کہ ایران اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے ایرانی عوام کے مسلمہ حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد جاری رکھے گا، تاہم خطے میں امن و سکون کی واپسی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ اور پُرامن تعلقات کا خواہاں ہے۔ اسی سلسلے میں ایران نے خطے کے ممالک کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بھی ملاقات میں تہران اور بیجنگ کے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی بنیاد پر اہم قرار دیا اور تعلقات کو فروغ دینے اور مضبوط بنانے کے لیے چین کی آمادگی کا اظہار کیا۔

وانگ یی نے امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے چینی قیادت کے مؤقف پر زور دیا اور مشرق وسطیٰ و مغربی ایشیاء میں امن و سکون کے قیام اور مسائل کو مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چین کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی حمایت اور خطے میں امن و استحکام کے قیام میں مدد کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔

News ID 1941408

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha