مہر خبررساں ایجنسی، سیاسی ڈیسک: ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز اس تصور کے ساتھ کیا تھا کہ امریکہ کی فوجی، فضائی اور ٹیکنالوجی برتری مختصر مدت میں جنگ کا نتیجہ واشنگٹن کے حق میں تبدیل کر سکتی ہے؛ لیکن اب جنگ شروع ہوئے تقریباً سات ماہ گزرنے کے بعد، امریکی حکومت کے سیاسی اور میڈیا رویے میں سب سے نمایاں چیز ’’فتح‘‘ کی ایسی قابلِ پیشکش داستان تلاش کرنے کی کوشش ہے، جو بظاہر جنگ وائٹ ہاؤس کو فراہم نہیں کر سکی۔
اس کوشش کی تازہ ترین پیداوار ایران کی سرزمین پر ایک امریکی پائلٹ کو بچانے کے آپریشن کی فلم اور تفصیلی رپورٹ ہے؛ ایک ایسی داستان جس میں اسپیشل فورسز، فوجی طیاروں، زخمی پائلٹ، پہاڑوں اور ایک پیچیدہ آپریشن کی ڈرامائی تصاویر شامل ہیں، جو بالآخر پائلٹ کی امریکہ واپسی پر منتج ہوتا ہے۔ واقعے کی منظرکشی مکمل طور پر فلمی انداز میں کی گئی ہے؛ یوں لگتا ہے جیسے ناظر کو یہ بھلا دینا چاہیے کہ یہ داستان کہاں سے شروع ہوئی تھی اور صرف اس کا اختتام دیکھنا چاہیے: امریکی پائلٹ کو بچا لیا گیا اور وہ اپنے گھر واپس پہنچ گیا۔
لیکن مسئلہ بالکل یہی ہے؛ داستان پائلٹ کو بچانے سے شروع نہیں ہوئی تھی۔ یہ داستان ایران کی سرزمین پر ایک امریکی جنگی طیارے کے مار گرائے جانے سے شروع ہوئی تھی۔
یہ کوئی معمولی فرق نہیں ہے۔ امریکہ جنگ میں اس مقصد کے ساتھ داخل ہوا تھا کہ اپنی فوجی اور ٹیکنالوجی طاقت کے بل پر ایران کو واشنگٹن کے مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کرے اور تیز رفتار اور فیصلہ کن فتح حاصل کرے۔ لیکن اب امریکی عوام کے سامنے پیش کی جانے والی اہم ترین میڈیا داستانوں میں سے ایک جنگ کے سیاسی اہداف کے حصول، ایران کے رویے میں تبدیلی یا واشنگٹن کی تزویراتی کامیابیوں کے بارے میں نہیں، بلکہ ایسے پائلٹ کو بچانے کے بارے میں ہے جس کا جنگی طیارہ اسی جنگ کے دوران مار گرایا گیا تھا۔ درحقیقت، کیمرہ واقعے کے آغاز کو ایک طرف ہٹا دیتا ہے اور اختتام کو پوری داستان کی جگہ پیش کر دیتا ہے۔
خود پائلٹ کو بچانے کی داستان بھی ابہام سے خالی نہیں۔ شائع ہونے والی رپورٹس میں پائلٹ کی کمر، ہاتھ اور کندھے پر شدید زخموں کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وہ طیارہ گرنے کے بعد تقریباً 7 ہزار فٹ، یعنی سطح سمندر سے 2 ہزار میٹر سے زیادہ بلندی پر واقع ایک پہاڑی سلسلے تک پہنچنے میں کامیاب رہا۔ کم از کم طبی اور عملیاتی تفصیلات کی وضاحت کے بغیر، داستان کے یہ دونوں حصے آسانی سے ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتے۔ یہی معاملہ یہ سوال پیدا کر سکتا ہے کہ امریکی عوام کے سامنے پیش کی گئی داستان میدانِ جنگ کی مکمل اور درست حقیقت ہے یا ایک مخصوص تاثر پیدا کرنے کے لیے دوبارہ ترتیب دی گئی ایسی داستان ہے جس میں ہیرو کا کردار اجاگر کیا گیا ہے۔
بلاشبہ، ریسکیو آپریشن کی پیچیدگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا؛ لیکن ’’ایک آپریشن کی کامیابی‘‘ اور ’’جنگ میں فتح‘‘ کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ امریکی میڈیا کی داستان کا مسئلہ عین اس مقام سے شروع ہوتا ہے جہاں یہ دونوں تصورات ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیے جاتے ہیں اور ایک پائلٹ کو بچانے کے آپریشن کو جنگ میں امریکہ کی مجموعی برتری کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ اس مرحلے پر ایک پائلٹ کو بچانے کے آپریشن کو اتنی نمایاں حیثیت کیوں دی جا رہی ہے؟
اس کا جواب بڑی حد تک امریکہ کے داخلی سیاسی ماحول میں تلاش کرنا ہوگا۔ ٹرمپ حکومت کو فتح کی ایک داستان درکار ہے؛ کیونکہ وہ جنگ جسے امریکہ کی طاقت کے مظاہرے کے طور پر پیش کیا جانا تھا، امریکی عوام میں بڑے پیمانے پر پذیرائی حاصل نہیں کر سکی۔ کوئنی پیاک یونیورسٹی کے ایک سروے میں 60 فیصد امریکیوں نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کاروائی امریکہ کی جانب سے ادا کی گئی قیمت کے مقابلے میں قابلِ قدر نہیں تھی، جبکہ صرف 34 فیصد نے اس رائے سے اختلاف کیا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ 45 فیصد کا خیال تھا کہ اس جنگ کے نتیجے میں دنیا میں امریکہ کمزور ہوا ہے، جبکہ صرف 33 فیصد نے اسے زیادہ طاقتور قرار دیا۔
سی بی ایس اور یوگو کے ایک سروے نے بھی تقریباً ایسی ہی تصویر پیش کی تھی؛ 69 فیصد امریکیوں نے کہا تھا کہ جنگ اپنی لاگت کے مقابلے میں قابلِ قدر نہیں رہی اور 57 فیصد کا خیال تھا کہ جنگ نے جتنے مسائل حل کیے، اس سے زیادہ مسائل پیدا کر دیے۔
کانگریس کے وسط مدتی انتخابات کے موقع پر یہ اعداد و شمار ٹرمپ حکومت کے لیے خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ امریکی صدر کو اپنی سیاسی حمایت برقرار رکھنے کے لیے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ جنگ کو ایک مہنگی اور غیر یقینی مہم جوئی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک کامیاب اور ضروری اقدام کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں ایک زخمی پائلٹ کی داستان، جو ایران کی سرزمین پر طیارہ گرنے کے بعد بچا لیا جاتا ہے، میڈیا کے اعتبار سے ان اہداف کی حقیقی صورتِ حال پیش کرنے سے کہیں زیادہ پرکشش ہے جو امریکہ جنگ میں حاصل کر سکا ہے۔
اس معاملے کی اہمیت اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب سی این این کی جانب سے ایف-15 کے عملے کی پروگرام ’’60 منٹس‘‘ میں شرکت کے پسِ پردہ حالات کے بارے میں شائع ہونے والی خصوصی رپورٹ پر توجہ دی جائے۔ رپورٹ کے مطابق، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگست کے دفتر نے اس عملے کی پروگرام میں شرکت کے لیے سنجیدگی سے تحقیق کی تھی، جبکہ فوجی ڈھانچے کے اندر بھی اس داستان کے سیاسی استعمال اور آپریشن سے متعلق حساس معلومات افشا ہونے کے ممکنہ خدشات پر تشویش پائی جاتی تھی۔ دونوں میں سے ایک اہلکار نے بالآخر پروگرام میں شرکت سے انکار کر دیا، جبکہ دوسرے نے گفتگو پر آمادگی ظاہر کی۔ تاہم پینٹاگون نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے فوجی اہلکاروں کی شرکت کو رضاکارانہ قرار دیا ہے۔
اگر اس رپورٹ کو امریکہ کے سیاسی ماحول کے تناظر میں دیکھا جائے تو معاملہ ایک مختلف شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اب یہ محض ایک فوجی کی سرگزشت پر مبنی ٹی وی رپورٹ نہیں رہتی، بلکہ ایسی داستان بن جاتی ہے جس کا سیاسی اور میڈیا کے حوالے سے بھی کردار ہو سکتا ہے۔ مار گرایا جانے والا جنگی طیارہ پس منظر میں چلا جاتا ہے، زخمی پائلٹ ہیرو بن جاتا ہے، امدادی کاروائی طاقت کے مظاہرے میں تبدیل ہو جاتی ہے اور آخرکار ناظر اس سوال کے بجائے کہ ’’ایرانی سرزمین پر امریکی جنگی طیارہ کیوں مار گرایا گیا؟‘‘ یہ سوال کرنے لگتا ہے کہ ’’امریکہ نے اپنے ہیرو کو کیسے بچایا؟‘‘ توجہ کا یہ رخ بدلنا خود داستان سازی کا ایک اہم حصہ ہے۔
ایک فاتح حکومت عموماً ان اہداف کی بات کرتی ہے جو اس نے حاصل کیے، ان مراعات یا امتیازات کی بات کرتی ہے جو اس نے مدمخالف سے حاصل کیے اور اس تبدیلی کا ذکر کرتی ہے جو اس نے طاقت کے توازن میں پیدا کی۔ لیکن جب فتح کی داستان کا ایک اہم حصہ صرف اس بات تک محدود ہو جائے کہ ’’ہم نے اپنے فوجی کو پیچھے نہیں چھوڑا اور اسے دشمن کی سرزمین سے نکال لائے‘‘ تو یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ فتح کی تعریف اتنی محدود کیوں ہو گئی ہے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں ’’آپریشنل کامیابی‘‘ کو ’’سیاسی کامیابی کے طور پر پیش کرنے‘‘ کے آلے میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔
واشنگٹن فخر کے ساتھ اپنے خصوصی دستوں کی جانب سے ایک پائلٹ کو بچانے کی صلاحیت کا ذکر کر سکتا ہے؛ یہ ہر فوج کا فطری حق ہے؛لیکن یہ کاروائی ایک بڑے سوال کا جواب نہیں دے سکتی: ایران کے ساتھ جنگ سے امریکہ کو کیا تزویراتی کامیابی حاصل ہوئی ہے؟
کیا ایران کو واشنگٹن کے بنیادی مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کیا گیا ہے؟
کیا علاقائی طاقت کا توازن مستقل طور پر امریکہ کے حق میں تبدیل ہوا ہے؟
کیا جنگ کے اخراجات کو امریکی عوام کے سامنے قابلِ جواز بنایا جا سکا ہے؟
اگر ان سوالات کے جوابات واضح نہ ہوں تو پائلٹ کو بچانے کی تصاویر کتنی ہی ڈرامائی کیوں نہ ہوں، وہ تزویراتی فتح کی کمی کو پورا نہیں کر سکتیں۔ ٹرمپ حکومت کے لیے مسئلہ صرف سیاسی مخالفین تک محدود نہیں ہے۔ خود ٹرمپ کی مقبولیت بھی دباؤ کا شکار ہے۔ اگست میں رائٹرز اور ایپسوس کے سروے میں ٹرمپ کی کارکردگی سے اطمینان کی شرح صرف 33 فیصد رہی، جو اس وقت تک ان کی صدارت کی کم ترین سطح تھی۔ بڑی تعداد میں امریکیوں نے ایران کے ساتھ جنگ طول پکڑنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ایسے حالات میں حکومت کے لیے فتح کی تصاویر تیار کرنا دوہری اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ کیمرہ ایسی چیز کو نمایاں کر سکتا ہے جسے میدانِ جنگ اکیلا پیدا کرنے سے قاصر ہے: فتح کا احساس۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ امریکی عوام صرف ٹی وی کی تصاویر نہیں دیکھتے۔ جنگ کی قیمت لوگوں کی زندگیوں، اشیاء کی قیمتوں، مستقبل کے بارے میں تشویش، فوجیوں کے ہلاک اور زخمی ہونے اور سب سے بڑھ کر اس سادہ سوال میں نظر آتی ہے جو بارہا سروے میں دہرایا گیا ہے: کیا یہ جنگ اس کے قابل تھی؟ اب تک امریکی معاشرے کے ایک بڑے حصے کا جواب نفی میں رہا ہے۔
اسی لیے امریکی پائلٹ کو بچانے کی کاروائی کی فلم کو محض ایک ٹی وی رپورٹ سے بڑھ کر دیکھا جا سکتا ہے؛ یہ جنگ میں کامیابی کے مفہوم کو ازسرِنو متعین کرنے کی کوشش کا ایک حصہ ہے۔ جب تزویراتی فتح حاصل نہ ہوئی ہو یا کم از کم عوام کو نظر نہ آ رہی ہو تو ایک امدادی کاروائی فتح کی علامت بن سکتی ہے۔ جب میدانِ جنگ کی کامیابیاں پیش کرنے کے لیے کافی نہ ہوں تو تصویر حقیقت کی جگہ لے لیتی ہے اور کیمرہ وہ کام کرنے کی کوشش کرتا ہے جو میدانِ جنگ نہیں کر سکا: شکست کو منظر کے مرکز سے ہٹا کر اس کی جگہ ہیرو کو بٹھا دینا۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ تصویر کا فریم بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ جو جنگی طیارہ مار گرایا گیا ہے، وہ بدستور مار گرایا جا چکا ہے۔ جس جنگ کی سیاسی اور اقتصادی قیمت ہے، وہ بدستور قیمت رکھتی ہے اور جنگ کے نتائج کے بارے میں بننے والی رائے چند منٹ کی ایک فلم سے ختم نہیں کی جا سکتی۔
شاید اسی لیے واشنگٹن آج واضح فتح کے ریکارڈ سے زیادہ فتح کی ایک تصویر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ’’ہالی ووڈ‘‘ ایک جنگی طیارے کے گرائے جانے کو بہادری کی داستان میں تبدیل کر سکتا ہے، ایک پائلٹ کے زخمی ہونے کو ایک رزمیہ منظر بنا سکتا ہے اور امدادی کاروائی کو تصویر کے مرکز میں لا سکتا ہے؛ لیکن وہ جنگ کا نتیجہ تبدیل نہیں کر سکتا۔
اگر ایران کے ساتھ جنگ میں امریکہ کی فتح کی سب سے بڑی تصویر ایک ایسے پائلٹ کو بچانا ہو جس کا جنگی طیارہ ایرانی سرزمین پر مار گرایا گیا تھا، تو یہی تصویر اپنے آپ میں امریکی عوام کے سامنے ایک بڑا سوال رکھ دیتی ہے:اگر یہی ’’فتحِ عظیم‘‘ ہے تو پھر جنگ کی حقیقی کامیابیاں کہاں ہیں؟
آپ کا تبصرہ