مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ علی اکبر رشاد نے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر حوزہ علمیہ امام رضا(ع) کے درسِ خارج کے پہلے اجلاس میں گزشتہ ایک سال کے دوران پیش آنے والے واقعات اور تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ نے گزشتہ ایک سال اور بالخصوص حالیہ مہینوں میں ایسے حالات کا سامنا کیا ہے جو مختلف پہلوؤں سے ملک کی تاریخ، تاریخِ تشیع اور اسلامی امت کی تاریخ میں کم نظیر، بلکہ بے نظیر رہے ہیں۔
انہوں نے حالیہ واقعات میں کمانڈروں، سائنس دانوں، عوام اور بے گناہ بچوں کی شہادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان نقصانات کو انتہائی بھاری اور دردناک قرار دیا اور کہا کہ ان بڑے نقصانات کے ساتھ ساتھ کچھ فتوحات بھی حاصل ہوئی ہیں جن کی اہمیت اور وزن کا آج شاید ان نقصانات کے مقابلے میں درست اندازہ نہ لگایا جا سکے، لیکن ممکن ہے مستقبل میں واضح ہو کہ یہی شہادتیں ان کامیابیوں کی بنیاد بنی تھیں اور یہ کامیابیاں بھی ایک روشن مستقبل کی تکمیل کی تمہید ثابت ہوں گی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ حالیہ تبدیلیوں کو بڑی تاریخی تبدیلیوں کے تناظر میں دیکھنا چاہیے؛ کہا کہ آج ہم جن فتوحات کا مشاہدہ کر رہے ہیں، وہ کامیابیوں کے ایک سلسلے کا آغاز ہو سکتی ہیں؛ ایسا سلسلہ جو بالآخر حضرت ولی عصر(عج) کے ظہور پر منتج ہوگا۔
انہوں نے امریکہ کی طاقت کے زوال اور عالمی توازن میں تبدیلی کے حوالے سے رہبرِ انقلابِ اسلامی کی پیش گوئیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑے ہیں اور عالمی طاقت کے ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی کے آثار نمایاں ہو چکے ہیں۔
آیت اللہ رشاد نے کہا کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی دہائیوں میں امریکہ نے تقریباً خود کو ایسی طاقت کے مقام پر فائز کر لیا تھا جس کی شکست کا تصور بھی بہت سے لوگوں کے لیے ممکن نہیں تھا، لیکن حالیہ واقعات نے اس تصور کو شدید دھچکا پہنچایا اور قوموں کی قوتِ ارادی اور مزاحمتی تحریک کے سامنے اس طاقت کی بے بسی کو آشکار کر دیا۔
انہوں نے دنیا میں طاقت اور دولت کے مراکز کی بتدریج تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم طاقت، دولت اور صنعتی صلاحیتوں کی مغرب سے مشرق اور بالخصوص اسلامی مشرق کی جانب بتدریج منتقلی کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور یہ تبدیلیاں ظاہر کرتی ہیں کہ دنیا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔
آیت اللہ رشاد نے مزید کہا کہ شاید ہم میں سے بہت سے لوگوں نے یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایرانی قوم اس طاقت کے مقابلے میں اس قدر مزاحمت کر سکے گی جس نے برسوں تک خود کو دنیا کی شکست ناپذیر سپر پاور کے طور پر پیش کیا اور خطے میں اس کے بنائے ہوئے توازن کو چیلنج کرے گی؛ لیکن جو کچھ ہوا، اس نے ظاہر کر دیا کہ اللہ کی قوتِ ارادی دلوں اور ارادوں کو بدل سکتی ہے۔
انہوں نے ایرانی قوم کی میدان میں موجودگی اور استقامت کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام تمام دباؤ اور مشکلات کے باوجود میدان میں ڈٹے رہے، اپنے نظریات کا دفاع کیا اور انقلاب کے رہنماؤں اور اسلامی انقلاب کی اقدار کے ساتھ اپنا تعلق برقرار رکھا۔
آپ کا تبصرہ