مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ ترین بیان میں کہا ہے کہ جن ممالک نے امریکہ کا ساتھ نہیں دیا ان کو آبنائے ہرمز میں امریکی موجودگی کے اخراجات ادا کرنے ہوں گے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تیل آبنائے ہرمز سے گزر رہا ہے، جبکہ دنیا کے ان ممالک نے امریکہ کی معمولی سی بھی مدد نہیں کی، اس لیے بحران ختم ہونے کے بعد انہیں امریکہ کے اخراجات پورے کرنا ہوں گے اور وہ یقینا ایسا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے لیے جتنا کام کرتا ہے، اس سے کہیں زیادہ دوسروں کے لیے کرتا ہے اور یہ سلسلہ کئی نسلوں سے جاری ہے۔
ٹرمپ نے امریکہ میں قیمتوں میں اضافے کی ذمہ داری سابق صدر جو بائیڈن کی حکومت پر ڈالتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں قیمتوں میں اضافہ بائیڈن حکومت کی کارکردگی کا نتیجہ ہے، ٹرمپ کا نہیں۔ بائیڈن کے دور میں تیل کی قیمتیں موجودہ سطح سے بھی زیادہ تھیں، جبکہ ان کے بقول امریکہ نے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روک دیا ہے۔
امریکی صدر نے توانائی کی قیمتوں پر قابو پانے میں اپنی حکومت کی ناکامی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ تیل کے علاوہ دیگر قیمتیں تیزی سے کم ہو رہی ہیں اور تیل کی قیمت بھی ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع ختم ہوتے ہی اچانک اور نمایاں طور پر گر جائے گی۔
آپ کا تبصرہ