14 ستمبر، 2026، 2:24 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

عراق میں مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا چیلنج؛ ممکنہ منظرنامے اور حل کی راہیں

عراق میں مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا چیلنج؛ ممکنہ منظرنامے اور حل کی راہیں

عراق میں مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا معاملہ امریکی دباؤ، مزاحمتی گروہوں کے مختلف مؤقف اور سکیورٹی خلا کے خدشات کے درمیان حکومت کی خودمختاری اور ملک کے سیاسی استحکام کے لیے ایک اہم امتحان بن گیا ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: عراق میں داعش کی شکست کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال نے اس ملک کو ایسے چیلنج سے دوچار کر دیا ہے جسے صرف فوجی میدان کے تناظر میں نہیں سمجھا جا سکتا۔ 2014 میں داعش کے ظہور اور عراقی سکیورٹی ڈھانچے کے بعض حصوں کے خاتمے نے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے عوامی مسلح قوتوں کے قیام اور فعال ہونے کی ضرورت کو نمایاں کیا۔ اس کے بعد عوامی مزاحمتی فورسز ’’حشد الشعبی‘‘ عراق کے سکیورٹی معادلے کا ایک اہم حصہ بن گئیں۔

داعش کے خلاف جنگ کے بنیادی مرحلے کے خاتمے کے بعد اگرچہ دہشت گردی کا خطرہ اپنی سابقہ شکل میں کم ہوا، تاہم فوج اور سکیورٹی فورسز کے روایتی ڈھانچے سے باہر موجود مسلح گروہوں کی حیثیت کا مسئلہ برقرار رہا۔ اسی لیے داعش کے بعد عراق میں اسلحے کا مسئلہ صرف اس سوال تک محدود نہیں کہ کس گروہ کے پاس اسلحہ ہے، بلکہ یہ اس بنیادی سوال سے بھی متعلق ہے کہ ریاست، قومی خودمختاری، مزاحمتی قوتوں اور طاقت کے استعمال کے قانونی اختیار کے درمیان تعلق کیا ہو۔

اسی تناظر میں مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے کو محض فوجی یا سکیورٹی اقدام قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ ان میں سے بعض گروہوں کو سیاسی نمائندگی اور اثر و رسوخ حاصل ہے اور وہ عراق کے سیاسی طاقت کے توازن میں بھی کردار ادا کرتے ہیں۔ چنانچہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی تبدیلی کی کوشش نہ صرف سکیورٹی نتائج کی حامل ہو سکتی ہے بلکہ داخلی سیاسی توازن، شیعہ گروہوں اور مرکزی حکومت کے تعلقات اور عراق کے علاقائی و غیر علاقائی قوتوں کے ساتھ تعلقات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔

اس لیے اصل مسئلہ صرف اسلحہ حوالے کرنے کا نہیں بلکہ عراقی حکومت کے ساتھ مزاحمتی قوتوں کے تعلق کی ازسرنو وضاحت اور نئے سیاسی و سکیورٹی نظام میں ان کے کردار کی حدود متعین کرنے کا ہے۔

حالیہ مہینوں میں امریکہ کی جانب سے بغداد پر مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے دباؤ کے باعث یہ مسئلہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہوا ہے۔ عراقی حکومت بھی اس بات پر زور دے رہی ہے کہ تمام اسلحہ حکومت کے کنٹرول میں ہونا چاہیے اور اس مسئلے کو قومی خودمختاری اور عراق کے مفادات کے دائرے میں حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ایسی صورتحال میں عراق ایک حساس دو راہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف حکومت اپنی خودمختاری مستحکم کرنے کے لیے طاقت کے استعمال کے قانونی اختیار کو اپنے ہاتھ میں رکھنے اور ریاستی دائرے سے باہر مسلح سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اس پالیسی کو جلد بازی اور تصادم کے ذریعے نافذ کرنا ملک کی طاقتور سیاسی و سکیورٹی قوتوں کے ساتھ محاذ آرائی اور نئی عدم استحکام کا سبب بن سکتا ہے۔

غیر مسلح کرنے کا مسئلہ؛ ریاست، مزاحمت اور بیرونی دباؤ کے سنگم پر

داعش کی شکست کے بعد عراق کا بنیادی مسئلہ دہشت گردی کے خلاف جنگ سے تبدیل ہو کر داعش کے بعد نئے سکیورٹی نظام کی تشکیل کی طرف منتقل ہوا۔ جنگ کے دوران عراق کی سکیورٹی کے اہم ستون بننے والی قوتوں کو اب ایک مختلف مطالبے کا سامنا ہے کہ ان کا اسلحہ اور فوجی فیصلے مکمل طور پر حکومت کے کنٹرول میں ہوں۔

عراقی حکومت اس مسئلے کو قومی خودمختاری کے استحکام اور طاقت کے استعمال کے اختیار کو ریاست تک محدود کرنے کا حصہ سمجھتی ہے، تاہم مزاحمتی گروہوں کے ایک حصے کے لیے معاملہ صرف اسلحہ حوالے کرنے تک محدود نہیں۔ یہ مسئلہ ان کے ملک کے سکیورٹی ڈھانچے میں کردار، داعش کے خلاف جنگ کے تجربے اور مستقبل کے ممکنہ خطرات کے بارے میں ان کے جائزے سے بھی وابستہ ہے۔

حالیہ مہینوں میں امریکہ کے دباؤ اور خطے کی نئی صورتحال کے باعث یہ اختلاف مزید نمایاں ہوا ہے۔ واشنگٹن مسلسل ان مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہا ہے جو عراقی حکومت کے براہ راست کنٹرول سے باہر کام کرتے ہیں، جبکہ بغداد امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات سے پیدا ہونے والے سیاسی، سکیورٹی اور اقتصادی دباؤ کے باعث اسلحے کے کنٹرول کے مسئلے کو زیادہ سنجیدگی سے آگے بڑھانے پر مجبور ہے۔

تاہم مزاحمتی گروہوں کا ردعمل یکساں نہیں رہا۔ بعض گروہوں نے اسلحہ حکومت کے کنٹرول میں دینے کے اصول سے اتفاق کیا ہے، جبکہ کتائب حزب اللہ اور حرکۃ النجباء سمیت بعض دیگر گروہوں نے روایتی معنوں میں غیر مسلح ہونے کی مخالفت کی ہے۔ مزاحمتی گروہوں کے درمیان یہ اختلاف ظاہر کرتا ہے کہ عراق کا موجودہ مسئلہ صرف اسلحہ حوالے کرنے کا نہیں بلکہ قومی خودمختاری، غیر ملکی افواج کی موجودگی، سرحدوں کے کنٹرول اور سیاسی و اقتصادی فیصلوں میں عراق کی آزادی سے متعلق ضمانتوں کا بھی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں کتائب سید الشہداء، کتائب حزب اللہ اور تنظیم بدر سمیت اسلحہ حکومت کے حوالے کرنے کی مخالفت کرنے والے گروہوں کے کمانڈروں نے عوامی اجتماعات میں اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ ان بیانات میں بعض اہم شرائط پیش کی گئی ہیں جن پر عمل درآمد کی صورت میں یہ گروہ اپنا اسلحہ حکومت کے حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کرتے ہیں۔

اس حوالے سے کتائب سید الشہداء کا حالیہ بیان واضح ترین شرائط میں سے ایک قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس گروہ نے اسلحہ ریاست کے اختیار میں دینے کے عمل میں اپنی شرکت کو 10 شرائط سے مشروط کیا ہے، جن میں عراق کی زمین، فضا اور سمندر سے امریکی افواج کا مکمل انخلا، کسی بھی عنوان کے تحت ان کی موجودگی کے خاتمے کا اعلان، عراق کی سرزمین اور فضائی حدود کو دوسرے ممالک پر حملے کے لیے استعمال نہ کرنا، کردستان کے علاقے کی سرحدوں کا کنٹرول عراقی فوج کے حوالے کرنا اور حشد الشعبی سے متعلق قوانین کی منظوری شامل ہیں۔

کتائب حزب اللہ کا مؤقف بھی اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس گروہ نے پہلے بھی کہا تھا کہ جب تک عراق کی زمین اور فضا میں غیر ملکی قبضہ جاری ہے، مزاحمتی گروہ اپنا کوئی اسلحہ حوالے نہیں کریں گے اور اسلحے کی مکمل صورتحال کا تعین عراق کی آزادی کے وقت سے وابستہ ہوگا۔ اس گروہ نے اپنے تازہ مؤقف میں اتحادی افواج کا مکمل انخلا، سیاسی و اقتصادی فیصلوں میں عراق کی آزادی، ترک افواج کے انخلا اور پیشمرگہ فورسز کے مسئلے کے حل کو بھی اپنی شرائط میں شامل کیا ہے۔

تنظیم بدر کے سربراہ ہادی العامری نے بھی حالیہ تقاریر میں آئینی اور قومی مقصد کے طور پر حکومت کو اسلحہ دینے کی حمایت کی ہے، تاہم انہوں نے اسے عراق کی مکمل قومی خودمختاری کے حصول سے مشروط قرار دیا ہے۔ انہوں نے سابقہ شرائط کے علاوہ ان گروہوں کو بھی غیر مسلح کرنے کی شرط پیش کی ہے جو عراق کے ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہوں یا عراقی آئین کی مخالفت کرتے ہوں۔

مجموعی طور پر ان تینوں مؤقف میں ایک مشترک نکتہ موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ مزاحمتی گروہ ریاست کی جانب سے اسلحے پر مکمل اختیار کی اصولی مخالفت نہیں کرتے، تاہم وہ اسے عراق کی مکمل خودمختاری اور بیرونی خطرات کے خاتمے سے مشروط قرار دیتے ہیں۔

عراق میں اسلحے کے مسئلے کے تین بنیادی پہلو

عراق کے سیاسی اور سکیورٹی ڈھانچے میں اسلحہ صرف فوجی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ ریاستی خودمختاری، سیاسی طاقت کے توازن، قومی سلامتی اور علاقائی تعلقات سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا مسئلہ صرف فوجی نوعیت کا نہیں اور اس حوالے سے کیا جانے والا کوئی بھی فیصلہ فوجی دائرے سے باہر بھی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

سیاسی پہلو

مزاحمتی گروہ صرف فوجی قوتیں نہیں ہیں۔ ان میں سے بعض کے سیاسی ڈھانچے، پارلیمانی نمائندگی اور سماجی حمایت موجود ہے اور وہ عراق کے سیاسی طاقت کے توازن میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے اچانک غیر مسلح کیے جانے کو بعض حلقے اپنی سیاسی طاقت اور مذاکراتی صلاحیت میں کمی کے طور پر دیکھ سکتے ہیں۔

دوسری طرف مزاحمتی گروہوں کے مؤقف بھی یکساں نہیں ہیں۔ بعض گروہ اسلحہ حکومت کے کنٹرول میں دینے کے حوالے سے زیادہ لچک کا مظاہرہ کر رہے ہیں جبکہ بعض اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس لیے حقیقت پسندانہ حل کے لیے ان گروہوں کے سیاسی و سماجی کردار کو برقرار رکھنے اور ریاستی دائرے سے باہر مسلح سرگرمیوں کو محدود کرنے کے درمیان فرق کرنا ضروری ہے۔

سکیورٹی پہلو

2014 میں داعش کے ظہور کے تجربے نے ظاہر کیا کہ ریاستی سکیورٹی ڈھانچے کی کمزوری بڑے خطرات کا سبب بن سکتی ہے۔ اسی تناظر میں مزاحمتی گروہوں کا ایک حصہ اپنی ہتھیاروں کو اب بھی دفاعی قوت اور ممکنہ خطرات کے خلاف مزاحمت سے جوڑتا ہے۔

لہذا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر مزاحمتی گروہوں کی فوجی صلاحیت کم کی جاتی ہے تو سکیورٹی فراہم کرنے اور طاقت کے خلا کو روکنے کے لیے کون سا مؤثر نظام موجود ہوگا؟ اگر حکومت موجودہ سکیورٹی صلاحیتوں کا مناسب متبادل فراہم نہ کر سکی تو غیر مسلح کرنے کا عمل استحکام بڑھانے کے بجائے عراق کی سکیورٹی کمزوری میں اضافہ کر سکتا ہے۔

علاقائی اور بیرونی پہلو

عراق میں اسلحے کا مسئلہ علاقائی اور غیر علاقائی قوتوں، بالخصوص ایران اور امریکہ کے درمیان مقابلے اور تعلقات سے بھی متاثر ہے۔ مسلح گروہوں کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے واشنگٹن کا دباؤ، اسلحے پر حکومتی کنٹرول کے حوالے سے بغداد کا مؤقف اور بیرونی خطرات کے بارے میں مزاحمتی گروہوں کے خدشات اس مسئلے کو داخلی معاملے سے آگے لے گئے ہیں۔ اس لیے بغداد کو اپنی خودمختاری مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ عراق کو بیرونی قوتوں کے درمیان محاذ آرائی کا میدان بننے سے بھی روکنا ہوگا۔

مجموعی طور پر عراق میں مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنا ایک کثیرالجہتی مسئلہ ہے جسے صرف فوجی فیصلے کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ اس عمل کی کامیابی ریاستی خودمختاری اور قانونی طور پر اسلحے پر حکومتی اختیار، سیاسی استحکام، سکیورٹی خلا کی روک تھام اور علاقائی و بیرونی دباؤ سے نمٹنے سمیت چار بنیادی ضرورتوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی صلاحیت پر منحصر ہے۔

عراق میں اسلحے پر حکومتی اختیار کے مستقبل کے ممکنہ منظرنامے

عراق کی موجودہ صورتحال اور مزاحمتی گروہوں کے درمیان اسلحہ حکومت کے حوالے کرنے کے معاملے پر مختلف مؤقف کو دیکھتے ہوئے مستقبل کے لیے تین ممکنہ منظرنامے سامنے آتے ہیں۔

پہلا منظرنامہ: 30 ستمبر کی مقررہ ڈیڈ لائن تک مکمل طور پر اسلحے کو حکومتی اختیار میں لانا۔ موجودہ حالات میں اس منظرنامے کے عملی شکل اختیار کرنے کا امکان بہت کم دکھائی دیتا ہے، کیونکہ اسلحے کو مکمل طور پر حکومتی اختیار میں لانے کے لیے تمام گروہوں کے درمیان غیر ملکی افواج کے انخلا سمیت کئی معاملات پر بیک وقت اتفاق ضروری ہے۔ اس کے علاوہ اسلحہ حکومت کے حوالے کرنے کا عمل بھی عملی طور پر ایک طویل مدت میں مکمل ہوگا۔

دوسرا منظرنامہ: مزاحمتی گروہوں کی واضح مخالفت کے بعد حکومت کا تصادم کا راستہ اختیار کرنا۔ اگر یہ منظرنامہ سامنے آتا ہے تو داخلی کشیدگی میں اضافے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ تاہم شیعہ رہنماؤں کی جانب سے کسی بھی داخلی تصادم کی مخالفت اور عوامی سطح پر مختلف گروہوں کے درمیان اختلافات کے پیش نظر اس کے عملی ہونے کا امکان بھی بہت کم ہے۔ مزاحمتی گروہ بھی اسلحے کے مسئلے کو مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دے رہے ہیں، جو دوسرے منظرنامے کے امکانات کو مزید کم کرتا ہے۔

تیسرا منظرنامہ: مذاکرات میں توسیع کے بعد مشترکہ معاہدہ۔ موجودہ صورتحال میں تینوں منظرناموں میں سب سے زیادہ قابل عمل امکان یہی دکھائی دیتا ہے کہ مذاکرات کا دورانیہ بڑھایا جائے، مسلح گروہوں کو بتدریج ریاستی ڈھانچے میں ضم کیا جائے اور مرحلہ وار معاہدے کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا جائے۔

اگر مشترکہ اتفاق رائے کے حصول کے لیے مذاکرات میں توسیع کی جاتی ہے تو اسلحے کو حکومتی اختیار میں لانے کے عمل سے متعلق مزید پیش رفت اکتوبر اور نومبر میں سامنے آسکتی ہے۔ ایک طرف حکومت کی ڈیڈ لائن میں زیادہ وقت باقی نہیں، دوسری طرف واشنگٹن نے امریکی انخلا کو مسلح گروہوں کے مسئلے پر اتفاق سے مشروط کر رکھا ہے، جبکہ مزاحمتی گروہ بھی اپنے اسلحے کی حوالگی کو امریکی افواج کے انخلا سے مشروط کر رہے ہیں۔

موجودہ صورتحال سے نکلنے کے لیے ممکنہ حل

1۔ غیر مسلح کرنے کو تصادم کے بجائے مذاکراتی عمل میں تبدیل کرنا

موجودہ صورتحال سے نکلنے کے لیے پہلا قدم اس مسئلے کے حوالے سے زبان اور حکمت عملی کو تبدیل کرنا ہے۔ غیر مسلح کرنے کو فوری اور تصادمی مطالبے کے طور پر پیش کرنا، خاص طور پر ایسی صورتحال میں جہاں مزاحمتی گروہوں کا ایک حصہ اب بھی خود کو دفاعی ذمہ داری کا حامل سمجھتا ہے، سیاسی اور حتی کہ سکیورٹی مزاحمت کا سبب بن سکتا ہے۔

اس لیے عراقی حکومت کو صرف اسلحہ حوالے کرنے پر توجہ دینے کے بجائے اسلحے کا کنٹرول بتدریج حکومت کو منتقل کرنے کے عمل پر زور دینا چاہیے۔ یہ عمل براہ راست مذاکرات، سیاسی اتفاق رائے اور ایک حقیقت پسندانہ ٹائم فریم کی بنیاد پر ہونا چاہیے تاکہ مسلح گروہوں کو یہ احساس نہ ہو کہ مقصد انہیں عراق کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے سے باہر کرنا ہے۔

2۔ سکیورٹی فراہم کرنے کی حکومتی صلاحیت مضبوط بنانا

مزاحمتی گروہوں سے اپنی فوجی صلاحیت کم کرنے کا مطالبہ اس وقت تک مؤثر نہیں ہوسکتا جب تک حکومت سکیورٹی کی مناسب متبادل صلاحیت پیدا نہ کر لے۔ عراقی فوج، پولیس، انٹیلی جنس اداروں اور سرحدی محافظ فورسز کو تربیت، سازوسامان، معلومات اور کمانڈ کے اعتبار سے مضبوط کرنا ہوگا۔

حکومت اسی وقت اسلحے پر مکمل اختیار کا مطالبہ کر سکتی ہے جب وہ سکیورٹی کی مکمل ذمہ داری بھی حقیقی طور پر سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ بصورت دیگر سکیورٹی خلا کا خدشہ غیر مسلح کرنے کی پالیسی پر عمل درآمد کی سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔

3۔ بیرونی دباؤ کم کرکے قومی مفادات پر زور دینا

اس عمل کی کامیابی بڑی حد تک اس بات پر منحصر ہے کہ غیر مسلح کرنے کو کسی بیرونی قوت کی جانب سے مسلط کیا گیا منصوبہ نہیں بلکہ عراقی فیصلہ سمجھا جائے۔ امریکہ یا کسی بھی بیرونی فریق کا براہ راست دباؤ غیر مسلح کرنے کے مخالف گروہوں کے مؤقف کو مزید مضبوط کر سکتا ہے اور مسئلے کو ریاستی خودمختاری سے تبدیل کرکے بیرونی مداخلت کے خلاف مزاحمت کا معاملہ بنا سکتا ہے۔ بغداد کو اپنے خارجی تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اس مسئلے کو قومی مفادات اور داخلی مذاکرات کے دائرے میں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

حاصل سخن

عراق کی موجودہ صورتحال سے نکلنے کا راستہ فوری اور جبری غیر مسلح کرنے کے بجائے ریاست اور مزاحمتی قوتوں کے درمیان تعلقات کی بتدریج ازسرنو تشکیل سے نکل سکتا ہے۔ حکومت کو بیک وقت اپنی قانونی حیثیت اور ریاستی اختیار مضبوط کرنا، سکیورٹی کی صلاحیت بڑھانا اور مزاحمتی گروہوں کے لیے آزاد فوجی کردار سے رسمی اور سیاسی کردار کی طرف منتقلی کا واضح راستہ فراہم کرنا ہوگا۔

اگر یہ تینوں عمل بیک وقت آگے بڑھتے ہیں تو اسلحے کا مسئلہ عراق میں بحران کا مرکز بننے کے بجائے ریاست سازی کے عمل کو مکمل کرنے کا ایک موقع بن سکتا ہے۔ تاہم اگر غیر مسلح کرنے کی پالیسی کو کسی معاہدے، سکیورٹی ضمانت اور داخلی اتفاق رائے کے بغیر بیرونی دباؤ کے تحت آگے بڑھایا گیا تو اس سے مسئلہ حل ہونے کے بجائے عراق میں موجود سیاسی اور سکیورٹی خلیج مزید گہری ہونے کا خدشہ ہے۔

News ID 1941351

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha